
تحریر سلطان محمود حالی،امورِ چین کے پاکستانی ماہر
سال 2026 چین کے "15ویں پانچ سالہ منصوبے"کے آغاز کا سال ہے۔ اس سال چین کے "دو سیشنز" کا مشاہدہ کرنا اور اجلاس میں وزیراعظم لی چھیانگ کا حکومتی ورک رپورٹ پیش کرنا، انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس رپورٹ میں ترقی کی امنگ اور محتاط حکمت عملی کا توازن نمایاں ہے: شرحِ نمو کو 4.5 سے 5 فیصد کے درمیان رکھتے ہوئے معیار کو اولین ترجیح دی گئی ہے، عالمی دباؤ کے باوجود جدت، سائنسی و تکنیکی خود انحصاری اور عوامی فلاح پر زور دیا گیا ہے۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ "اعلیٰ معیار کی ترقی ایک جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر کا اولین فریضہ ہے"۔
پاکستان کے لیے اس میں سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے،یعنی ترقی کے اہداف حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں، غیر ضروری بلند پروازی سے گریز کرتے ہوئے اہداف ساختی اصلاحات اور جدت پر مبنی ہوں۔ چین کی طرح پاکستان کو بھی بیرونی اتار چڑھاو کے مقابلے میں لچک پیدا کرنی ہوگی—برآمدات کو متنوع بنانا، مالی نظم و ضبط کو مضبوط کرنا اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو ترقیاتی حکمت عملی کاحصہ بنانا بہت ضروری ہے ۔
چین نے صرف "اعداد "کے پیچھے بھاگنے کے بجائے "معیار "کو ترجیح دی ہے۔ پاکستان کو بھی تعلیم، صحت اور سبز صنعتوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ ترقی محض اعداد نہیں ،عوام کے معیارِ زندگی کو بھی بلند کرے ۔ اسی طرح چین نے داخلی طلب کو ابھارنے کے لیے کنزیومر بانڈز جاری کیے ہیں۔ پاکستان کے لیے پیغام یہ ہے کہ مقامی طلب کو طاقتور انجن بنایا جائے، سماجی تحفظ اور دیہی ترقی کے ذریعے خاندانوں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ بیرونی قرض پر انحصار کم ہو۔
میری رائے میں چین کی ترقیاتی حکمت عملی اور عوام کو مرکز میں رکھ کر پالیسی سازی کی گئی ہے اس سے پاکستان سیکھ سکتاہے کہ پاکستان کو اعتماد اپنانا ہوگا: اپنے عوام پر اعتماد، اپنی جدت پر اعتماد اور اس صلاحیت پر اعتماد کہ وہ ایسی ترقی فراہم کر سکے جو اعلیٰ معیار کی بھی ہو اور پائیدار بھی۔ یہی راستہ استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جاتا ہے اور اسی راستے پر چلتے ہوئے چین نے تاریخی کامیابیاں رقم کی ہیں جو کہ دنیا کے لیے ایک مثال ہیں۔



