
3 جولائی 2024۔چین کے سنکیانگ خود اختیار علاقے کے شہر ارومچی کے نان حو عوامی چوک میں مختلف قومیتی گروہوں کے لوگ مشترکہ رقص کر رہے ہیں۔ (تصویر: سی ایف پی )
چین کا اقتصادی، سماجی، اور آبادیاتی منظر نامہ نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے، یہاں قومیتی گروہ ایک دوسرے کے ساتھ پہلے سے زیادہ تعامل اور انضمام کر رہے ہیں۔ چین کے قومی حالات کے تناظر میں، قومیتی اتحاد اور ترقی کو فروغ دینے والے قوانین ناگزیر ہیں۔
5 مارچ کو چودہویں قومی عوامی کانگریس میں ، قومیتی اتحاد کو فروغ دینے کے لیے ایک مسودہ قانون بحث کے لیے پیش کیا گیا۔ اس جامع قانون کا مقصد ،چینی قوم کے تمام قومیتی گروہوں کے مابین قریبی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور اتحاد و مشترکہ ترقی کو بڑھانا نیز کمیونٹی کے جذبے کو تقویت دینا ہے۔ تاہم، کچھ مغربی ذرائع ابلاغ ، غیر سرکاری تنظیموں اور ماہرین نے اس مسودہِ قانون سے متعلق ایک نا مناسب اندازِ فکر اپنایا اور مغربی نقطہ نظر سے اس پر تنقید کرتے ہوئے چین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے اختلافی بحث کا آغاز کیا ۔ ایک ایسا قانون جوقومیتی اتحاد کو مضبوط کرنے کے مقصد سے بنایا گیاہے اس کی غلط تشریح ، کوئی نئی بات نہیں ہے؛ اس کی وجہ چین کی ثقافتی بنیاد سے متعلق لوگوں کی کم فہمی ہے جواس قانون کے حقیقی مقصد کو نظرانداز کرتی ہے اور یہ بے بنیاد دعوی کیا جاتا ہے کہ اس سے اقلیتیوں کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے۔
کچھ غیر سرکاری تنظیمیں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ مجوزہ قانون، اقلیتی زبانوں کے حقوق اور خاص طور پر شی زانگ ، سنکیانگ اور اندرون منگولیا جیسے علاقوں میں مقامی زبانوں میں تعلیم کو محدود کرتا ہے ۔ تاہم، زبان بات چیت کے لیے بہت اہم ہے۔ چین کی قومی زبان مختلف قومیتی گروہوں کے مابین تعامل کا ایک ثقافتی آلہ بن چکی ہے۔ اقلیتی قومیتوں کے لیے، اس زبان کا سیکھنا تعلیم اور ملازمت کے مواقع کو بڑھاتا ہے ۔ جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہاں مختلف قومیتیں تعلیم، انصاف، انتظامی و عوامی امور میں اپنی ہی بولی اور تحریری زبانوں کا استعمال کرتی ہیں۔سرحدی علاقوں میں، قومی زبان میں تعلیم نے غربت کو کم کرنے اور سماجی انضمام کو بہتر بنانے میں مدد کی ہے۔ مغربی نقطہ نظر کے برعکس، مجوزہ قانون نسلی اتحاد کو فروغ دیتا ہے اور واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ ملک ،اقلیتی زبانوں کے سیکھنے ان کے استعمال، ان کی معیاری شکل اور قدیم دستاویزات کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔
قانون کے بارے میں یہ بے بنیاد دعوی بھی کیا گیا کہ یہ چین کی 55 اقلیتی قومیتوں کو دبانے کی کوشش کرتا ہے اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔ کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ : آج کون سا ملک ہے جو ایک سرکاری زبان کو تسلیم نہیں کرتا؟ کیا سرکاری زبان کا ہونا غیر سرکاری زبانوں کے حقوق کو کم کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو تقریباً ہر ملک اسی طرح کی تنقید کا سامنا کرے گا۔ واضح طور پر، یہ مغربی تنقید غلط فہمی کی وجہ سے ہی ہے۔
کچھ مغربی ذرائع ابلاغ اور محققین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قومیتی اتحاد اور ترقی کے بارے میں مسودہ قانون "قومیتی ہم آہنگی کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے،" "قومیتی اقلیتوں کے لسانی، ثقافتی اور مذہبی تنوع کو مٹا دیتا ہے،" "اقلیتوں کی ثقافتوں کے زوال کو تیز کرتا ہے" اور " ا ققلیتی قومیتوں کی ثقافت اور شناخت کو مٹا دیتا ہے۔"
ایسے الزامات مغربی مرکزیت میں جڑوں تک اتری ہوئی جہالت اور تکبر کی عکاسی کرتے ہیں۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہونے کے ناطے، چین نے دو ہزار سال سے زیادہ عرصے سے ان اصولوں پر عمل کیا ہے جنہیں اکثر یوں بیان کیا جاتا ہے کہ "تمام گاڑیوں کے پہیے ایک ہی معیاری شکل اور سائز کے ہوتے ہیں؛ تمام تحریریں ایک ہی حروف میں لکھی جاتی ہیں اور زندگی کے تمام تعلقات میں، سب ایک ہی قائم کردہ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔" یہ روایات شاندار چینی تہذیب کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوئیں اور یہ کوئی عارضی سیاسی تشکیل نہیں بلکہ تمام قومیتی گروہوں کا ایک اجتماعی تاریخی انتخاب ہیں ۔
مغربی ممالک، طویل مدتی تہذیبی اتحاد کے قابلِ موازنہ تاریخی تجربات سے محروم ہیں وہ چین کی قومیتی پالیسیز کی تشریح اپنے ٹوٹے پھوٹے تاریخی تجربات کے تناظر میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔یہ چین کی حقیقت کو سمجھنے کا ایک بے کارطریقہ ہے۔
چین کے قومیتی گروہوں نے طویل مدتی تعاملات، مواصلات اور انضمام کے ذریعے مشترکہ طور پر ملک کے وسیع علاقے کو ترقی دی ہے، ایک متحدہ کثیر النسل قوم تشکیل دی ہے، شاندار تاریخ تخلیق کی ہے، بھرپور ثقافت بنائی ہے اور ایک مشترکہ قومی روح کو پروان چڑھایا ہے۔
چین کی جدیدیت کے ساتھ، شی زانگ اور سنکیانگ جیسے علاقوں میں شاندار روایتی ثقافتوں اور جدید اقدار کا ملاپ زیادہ متحرک ہوتا جا رہا ہے۔ ثقافتی ورثے کے عناصر، جیسے کہ سنکیانگ کا ویغور ، ماناس، میش رپ، تبت کا اوپیرا، رزمیہ روایت گے سار کی اور سووا رگ پا میں چین کا طبی غسل لوم ، اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔
چین کے سنکیانگ اورشی زانگ میں مختلف 'کلچر پلس' صنعتیں ابھری ہیں، جو ثقافتی پیشہ ور افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہیں اور ثقافتی شعبوں کو اس انداز میں وسعت دے رہی ہیں کہ تمام قومیتی گروہوں کی بڑھتی ہوئی روحانی اور ثقافتی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔
قومیتی اتحاد کو فروغ دینے کے لیے تجویز کردہ قانون میں مشترکہ پہلووں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اختلافات کا احترام کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، قومیتی گروہوں کے مابین ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کی روایات اور زبانوں کی قدر کرنا بھی شامل ہے۔ یہ قانون ،قومیت یا عقائد کی بنیاد پر تنازعات کو بھڑکانے یا عوامی امن و امان کو متاثر کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔
یہ ضوابط چین کے تمام قومیتی گروہوں کے حقوق کے تحفظ اور اس کے سوشلسٹ قانونی ڈھانچے کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں اور ان دعووں کو بے بنیاد ثابت کرتے ہیں کہ یہ قانون ثقافتی 'ہم آہنگی' یا 'مٹانے' کو فروغ دیتا ہے۔
قومیتی اتحاداور ترقی کو فروغ دینے کے بارے میں مسودہ قانون مغربی معاشروں کی ان اقدار کو بطور معیار نہیں اپناتا جن کو نافذ کرنے کی وہ خود جدوجہد کر رہے ہیں۔اس کی بجائے یہ قومیتی مسائل کو حل کرنے کے لیے چینی خصوصیات پر مبنی درست راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے جو چین کی اپنی تاریخ اور قومی حالات پر مبنی ہو۔ یہ تمام قومیتی گروہوں کے لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ چینی ثقافت کے ساتھ اپنی شناخت اور اعتماد کو بڑھائیں۔
اس لحاظ سے، یہ مسودہ قانون بین الاقوامی طور پر قومیتی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مثالی طریقہ کار پیش کرتا ہے۔ مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ چین کی ترقی کو منطقی انداز میں دیکھیں اور منظم طور پر چین مخالف جھوٹے بیانیے کو گھڑنے اور بھڑکانے کی کوششیں نہ کریں۔



