مقامی وقت کے مطابق 12 مارچ کو امریکہ نے، جو مارچ کے مہینے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا گردشی صدر ہے، ایران سے وابستہ قرارداد نمبر1737 پر مبنی پابندیوں کی کمیٹی کے کام کو زبردستی آگے بڑھانے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا۔ چین اور روس نے واضح طور پر اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ " پابندیوں کی فوری بحالی" کے میکانزم میں طریقہ کار اور قانون کے حوالے سے خامیاں موجود ہیں۔ چین نے امریکہ اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور ایرانی جوہری تنصیبات ، جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی نظام اور نگرانی میں ہیں،ان پر حملے کرنے سے باز رہیں، تاکہ صورتحال کو مزید کشیدہ ہونےسے روکا جا سکے۔
یاد رہے کہ 2006 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 1737 منظور کی، جس کے مطابق ایران پر جوہری پابندیاں عائد کی گئیں اور اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی۔ 2015 میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد،متعلقہ پابندیوں کو یو این ایس سی قرارداد 2231 کے تحت معطل کر دیا گیا اوراس کمیٹی نے بھی اپنا کام بند کر دیا۔ اگست 2025 کے آخر میں، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے یکطرفہ طور پر ایک نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ انہوں نے ایران جوہری معاہدے کے " پابندیوں کی فوری بحالی" کےمیکانزم کو متحرک کیا ہے ، اس کے تحت اقوام متحدہ کی ایران پر پہلے معطل کی گئی پابندیاں بحال کی جانی چاہئیں۔



