• صفحہ اول>>چین پاکستان

    پاکستانی نوجوان، جو چین میں اپنے بائیو ٹیک کے خواب کو پورا کر رہاہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-13

    13مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)مشرقی چین کے صوبے آنہوئی کے شہر حہ فے میں آنہوئی زرعی یونیورسٹی کے ایک لیبارٹری میں ایک انڈرگریجویٹ پاکستانی طالب علم محمد جلال، روزانہ مختلف قسم کا تجرباتی ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف نظر آتاہے۔

    24 سالہ جلال کا کہنا ہے کہ بائیوٹیکنالوجی میں چین کی شاندار ترقی اور اس کی مضبوط سائنسی تحقیق کی صلاحیت انہیں ہمیشہ سے بہت متاثر کن لگتی تھی اور یہاں پڑھائی کرنے سے میں وہ اپنے خواب کے قریب تر ہو گئے ہیں ۔ جلال کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے تین سالوں کے دوران، چین کی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی ترقی کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔ چین کے ساتھ اپنے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بچپن میں پاکستان میں ان کے خاندان کی ایک چینی ڈاکٹر کے ساتھ قریبی دوستی تھی ۔ اس ڈاکٹر کے جذبے اور پیشہ ورانہ مہارت نے جلال کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا ۔ اس کے علاوہ،انہیں کینسر کے بارے میں ایک کتاب پڑھنے کو ملی، جس نے انہیں اس میدان میں تحقیق کی جانب مائل کیا۔ وہ چین کی جینیات اور مالیکیولر بائیولوجی میں شاندار ترقی اور چین کی طبی اور سائنسی تحقیق کی کامیابیوں کی تیز رفتار اطلاق سے بہت متاثر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چینی سائنسدانوں کو اتنی حیر انگیز رفتار سے ویکسینز تیار کرتے دیکھ کر انہیں بائیوٹیکنالوجی کی طاقت کا اندازہ ہوا اور اسی لمحے انہیں یقین ہوگیا کہ یہی وہ راستہ ہے جو وہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ، ان کی رائے میں چین نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کی خودمختاری حاصل کرنے کے لیے بھرپور عزم ظاہر کیا ہے۔اب سائنسی تحقیق میں روبوٹ اور اے آئی ٹیکنالوجیز وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہیں اور یہ سائنس کی حدود وسیع کر رہی ہیں، جس سے چین بائیوٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی لینے اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ایک مثالی جگہ بن گیا ہے۔

    فی الحال، جلال اور اس کے چینی ہم جماعت مشترکہ تحقیق کر رہے ہیں تاکہ کولوریکٹل کینسر کی وجوہات اور عمل کا مشاہدہ کیا جا سکے، وہ متعلقہ ادویات کی تاثیر کی جانچ اور تصدیق کر رہے ہیں تاکہ کینسر کے علاج کے لیے نئے سنگ میل تلاش کیے جا سکیں۔ ان کے سپروائزر کی رہنمائی اور صبر و تحمل سے کی جانے والی سرپرستی جلال کے تحقیقی سفر کے لیے مضبوط سہارا فراہم کرتی ہے۔

    چین نے نمو اور اختراع کو مضبوط کرنے اور اعلی معیار کے کھلے پن کو فروغ دینے کے لیے 2026 کی پالیسی کا تفصیلی منصوبہ مرتب کیا ہے۔ چین ، سروسز مارکیٹ تک رسائی کو بڑھائے گا، جس میں ٹیلی کام اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں پائلٹ پروگرام، نیز مکمل طور پر غیر ملکی ملکیتی اسپتال شامل ہیں۔

    ایسی پیش رفتیں جلال کے اندر جوش وخروش کو بڑھا رہی ہیں۔ جلال کے خیال میں، یہ نہ صرف چین کی بائیوفارماسوٹیکل صنعت کی ترقی میں ایک طاقتور تحریک پیدا کر رہی ہیں، بلکہ بین الاقوامی تبادلے اور تعاون کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم بھی تشکیل دے رہی ہیں۔ جلال کے خیال میں اس سےغیر ملکی طلبہ کو سائنسی و تکنیکی جدت کے امکانات کے تبادلے اور اشتراک کی سہولت ملتی ہے۔

    جلال کے مطابق، چین کی نئی معیاری پیداوری قوتوں کی ترقی زندگی اور توانائی سے بھرپور ہے اور مصنوعی ذہانت اور بائیومیڈیسن کا گہرا انضمام، نیز سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت کے شعبوں میں جدتیں مسلسل نئے مواقع پیدا کرتی رہتی ہیں۔

    جلال کا ماننا ہے کہ اس کھلے ماحول نے سائنسی تعاون کے مزید مواقع پیدا کیے ہیں۔ وہ پر امید ہیں کہ ایک دن چین اور پاکستان کے محققین مل کر کینسر جیسے چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں اور یہ خواب اب قابلِ حصول ہے۔

    ویڈیوز

    زبان