
14 اپریل (پیپلز ڈیلی آن لائن)حالیہ دنوں ،چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس وقت چین میں 179 قومی ہائی ٹیک صنعتی ترقیاتی زونز ہیں، جب کہ ریاستی کونسل نے فروری میں صوبہ حہ بے میں شیونگ آن ہائی ٹیک زون کونیشنل ہائی ٹیک صنعتی ترقیاتی زون میں اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی ہے۔
وزارت کے ایک اہلکار یاؤ جن کے مطابق، 2025 میں قومی ہائی ٹیک صنعتی ترقیاتی زونز کی مجموعی پیداوار ، 20.4 ٹریلین یوان (تقریباً 2.97 ٹریلین امریکی ڈالر) تھی جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا 14.5 فیصد ہے ۔2025 میں ان زونز میں موجود اداروں نے ان-ہاوس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر تقریباً 1.2 ٹریلین یوان خرچ کیے جو 2020 کے اواخر سے تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے، جبکہ تحقیق و ترقی کی سرگرمی 6.1 فیصد تک پہنچ گئی۔
وزارت کے مطابق، قومی ہائی ٹیک صنعتی ترقیاتی زونز، چین میں جدت اور کاروباری صلاحیت کے لیے ایک اہم مرکز بن چکے ہیں۔ 26 ملین سے زیادہ لوگ ان زونز میں ملازمت کرتے ہیں، جن میں سے تقریباً 40 فیصد کے پاس بیچلرڈگری یا اس سے زیادہ تعلیمی قابلیت ہے۔ یہاں ہر 10,000 ملازمین کے لیے تحقیق و ترقی کے عملے کی کل وقتی مساوی تعداد، قومی اوسط سے تقریباً 12 گنا زیادہ ہے۔
ان زونز نے 30 سے زیادہ ممالک اور علاقوں کے پارکس کے ساتھ سٹریٹجک تعاون پر مبنی تعلقات قائم کیے ہیں نیز چینی اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے غیر ملکی اداروں کے لیے تعاون کے پانچ زونز قائم کیے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت، نئی توانائی، نئے مواد اور بائیومیڈیسن جیسے شعبوں میں صنعتی و سپلائی چینز پر بین الاقوامی تعاون کو بھی مستحکم طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔



