• صفحہ اول>>کاروبار

    جاپان کی حکمرانی ختم، چین نے معیار پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے عالمی آٹو سیلز کی قیادت اپنے نام کر لی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-16

    چین کے صوبے شان دونگ کے یان تھائی پورٹ پر چینی  ساختہ گاڑیاں بیرون ملک بھیجنے کے لیے تیار کھڑی  ہیں۔ (تصویر/تھانگ کھہ )

    چین کے صوبے شان دونگ کے یان تھائی پورٹ پر چینی ساختہ گاڑیاں بیرون ملک بھیجنے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ (تصویر/تھانگ کھہ )

    16 اپریل (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025 میں چینی آٹومیکرز نے دنیا بھر میں تقریباً 27 ملین گاڑیاں فروخت کیں جو کہ جاپان کے تقریباً 25 ملین فروخت کے اعدادو شمار سے کہیں زیادہ ہیں ۔ عالمی آٹوموٹیو صنعت کے لیے یہ ایک اہم تبدیلی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ چین نے اس صنعت میں جاپان کی 25 سالہ حکمرانی کو ختم کیا ہے۔

    عالمی سطح پر، تین چینی کمپنیز نے" ٹاپ ٹین آٹومیکرز "کی فہرست میں شامل ہو کر اس سنگ میل کا حصول ممکن بنایا ہے۔ خاص طور پر نئی توانائی کی گاڑیوں (NEV) میں ، BYD مسلسل چوتھے سال گلوبل سیلز لیڈر رہی ہے۔

    تاہم، چینی آٹومیکرز کی ترقی صرف حجم کی کہانی نہیں ہے، یہ عالمی آٹوموٹیو صنعت میں سٹریٹجک بصیرت اور مستقل جدت کے ذریعے آنے والی تبدیلی کے ایک دور کی علامت ہے ۔جدید صنعت کے "تاج کا ہیرا " مانا جانے والا ، آٹوموٹیو شعبہ کسی ملک کی پیداواری طاقت کا ایک اہم اشاریہ ہے۔

    20ویں صدی کے آغاز میں، فورڈ نے اسمبلی لائن پیداوار کا آغاز کیا، جس نے صنعت کا مرکز یورپ سے امریکا منتقل کر دیا۔ 1970 کی دہائی میں، تیل کے اتار چڑھاو کے بعد، جاپانی آٹومیکرز نے ایندھن کی بچت اور ناکافی پیداوار کی بنیاد پر عالمی برتری قائم کی۔ 1980 تک، جاپان نے امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا اور 2000 کے بعد، ٹویوٹا، ہونڈا اور نسان جیسی کمپنیز نے رفتار پکڑ لی اور اب یہ رفتار فیصلہ کن طور پر چین کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔

    ایک ایسے وقت میں کہ جب عالمی سطح پر کاربن اخراج میں کمی کی کوششیں تیز ہوئیں، چینی آٹومیکرز نے تیزی سے الیکٹرک اور انٹیلی جنٹ ٹیکنالوجیز میں اپنے قدم جمانے شروع کیے اور بیٹری ٹیکنالوجی، بڑے ان-کار ڈسپلے نیز خودکار نیویگیشن جیسے شعبوں میں تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار کی۔

    صوبہ جیانگ سو میں نئی توانائی کی گاڑیوں کے لیے  قائم کردہ "فاسٹ چارجنگ سٹیشن" کا فضائی منظر ۔ (تصویر/گینگ یوحہ )

    صوبہ جیانگ سو میں نئی توانائی کی گاڑیوں کے لیے قائم کردہ "فاسٹ چارجنگ سٹیشن" کا فضائی منظر ۔ (تصویر/گینگ یوحہ )

    جاپانی آٹو انڈسٹری کے کچھ حصوں میں بھی برقی گاڑیوں کے مکمل طور پر ہائبرڈز کی جگہ لینے کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلی کی رفتار پر غور و فکر کیا جا رہا تھا۔ اس نقطہ نظر میں اختلاف نے ایک بڑھتے ہوئے فرق کو جنم دیا۔ 2025 تک، چین کی آٹو مارکیٹ میں نئی توانائی کی گاڑیوں کا حصہ تقریباً 60 فیصد تھا، جب کہ جاپان میں یہ 3 فیصد سے بھی کم تھا۔

    چین کی یہ ترقی راتوں رات حاصل ہو جانے والی کامیابی نہیں ہے بلکہ یہ ایک طویل مدتی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ 2001 میں ہی نئی توانائی کے گاڑیوں کو قومی ہائی ٹیک آر اینڈ ڈی پروگرام (863 پروگرام) میں ترجیح دی گئی تھی۔

    بیس سال سے زیادہ کے عرصے کے دوران، خریداری میں سبسڈیز سے لے کر چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی تک نیز تکنیکی پیشرفت کے تسلسل سے مارکیٹ ہموار کرنے تک، اس صنعت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ مزید برآں، چین کی جامع صنعتی چین اور وسیع مقامی مارکیٹ نے نئی توانائی کی گاڑیوں کی جدت میں تیزی اور بڑے پیمانے پر تعیناتی کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔

    جنوب مغربی چین کی چھونگ چنگ میونسپلٹی کے لیانگ جیانگ نیو ایریامیں،  چینی آٹومیکر"  سیریس "کی سمارٹ فیکٹری میں، روبوٹک آرم  کار کے فریم کو ویلڈ کررہے  ہیں۔ (تصویر/وانگ جیا شی)

    جنوب مغربی چین کی چھونگ چنگ میونسپلٹی کے لیانگ جیانگ نیو ایریامیں، چینی آٹومیکر" سیریس "کی سمارٹ فیکٹری میں، روبوٹک آرم کار کے فریم کو ویلڈ کررہے ہیں۔ (تصویر/وانگ جیا شی)

    بہترین انداز میں مربوط یہ ماحولیاتی نظام، اپ سٹریم شعبوں مثلاً جدید مواد ، بیٹری میں تیز رفتار پیش رفت اور معیشتوں کے اہم پیمانے کے حصول کو ممکن بناتا ہے۔

    یہ "انڈسٹریل کلسٹرنگ" نا صرف ہم آہنگ جدت کو فروغ دیتی ہے بلکہ لاگت کو بھی نمایاں طور پر کم کرتی ہے اور ترقی کے دورانیے کو مختصر کرتی ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق ، چینی آٹومیکر تقریباً 18 مہینوں میں ایک نئی برقی گاڑی تیار کر سکتے ہیں ،یہ رفتار اسی طرح کے بہت سے جاپانی منصبوں کی نسبت دوگنا تیز ہے۔جاپان کے میزوہو بینک کے ایک تجزیہ نگار کے مطابق اس کی وجہ ،جدید ٹیکنالوجی، مناسب لاگت اور تیز رفتار تحقیق و ترقی کی صلاحیتوں کا ایک جگہ اکٹھا ہونا ہے۔

    تاہم یہ بات طے ہے کہ پیمانے کو طاقت کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا ۔ 2025 میں خالص منافع میں تیزی سے ہونے والی کمی کے باوجود، ٹویوٹا فی گاڑی تقریباً 17,000 یوان ($2,470) منافع پیدا کرنے میں اپنے چینی حریفوں کے مقابلے میں آگے ہے۔

    "والیم چیمپئن" کا لقب حاصل کرنے کے بعد، چینی آٹومیکرز اب "کوالٹی چیمپئن" بننے کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی بھی کچھ اہم رکاوٹیں باقی ہیں مثلاً مضبوط برینڈ پریمیم بنانا، یورپ اور امریکا میں کاربن ٹیرف اور ڈیٹا سکیورٹی جائزوں جیسے ریگولیٹری چیلنجز سے گزرنا، چارجنگ کو ایندھن بھرنے کی طرح باسہولت بنانا؛ اور خود مختار ڈرائیونگ کو وعدے سے حقیقت میں بدلنا اور ہر سنگ میل نئے چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے۔ تاہم، ایک حقیقت ناقابل تردید ہے: چین کی آٹو انڈسٹری عالمی منظرنامے کے مرکز میں منتقل ہو چکی ہے۔ اس کی توجہ ،رفتار اور پیمانے سے آگے بڑھ کر نئی توانائی کے دور میں طویل مدتی عمدگی اور پائیدار معیار کے حصول کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان