20 اپریل 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 19 اپریل کو ، چین کے مرکزی ٹیلی ویژن (CCTV) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی چین کے صوبے شان دونگ کے شہر وئے فانگ میں ،قدرتی گیس -ہائیڈروجن کی بڑے پیمانے پر آمیزش کے لیے چین کے پہلے ایپلی کیشن پراجیکٹ کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔ یہ منصوبہ مرکزی شہری علاقے میں 100,000 شہری گھروں کا احاطہ کرتا ہے، جس میں روزمرہ گھریلو زندگی اور کھانے پینے کے مختلف کاروباری مقامات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نمائشی منصوبے میں 30,000 مکعب میٹر قدرتی گیس- ہائیڈروجن آمیزش کی سہولت شامل ہے، جو ہائیڈروجن ملاوٹ کے تناسب کو 0 فیصد سے 10 فیصد تک ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہائیڈروجن ملی قدرتی گیس کی مستحکم ترسیل اور تقسیم کو ممکن بنانے کے لیے وئے فانگ کی پہلے سے موجود قدرتی گیس کی پائپ لائن کے بنیادی ڈھانچے کا استعمال کیا گیاہے۔
فی الحال، اس منصوبے نے 5,000 مکعب میٹر فی گھنٹہ کی صلاحیت کے ساتھ ایک الیکٹرولائزڈ واٹر ہائیڈروجن پیدا کرنے کی سہولت تشکیل دی ہے۔ اس کے علاوہ 5.2 کلومیٹر طویل چین کی پہلی اربن گیس ہائیڈروجن ٹرانسمیشن پائپ لائن بھی تیار کی ہے اور ایک جدید ،مکمل طور پر فعال ہائیڈروجن کی آمیزش و ترسیل کا ٹیسٹنگ پلیٹ فارم بھی تشکیل دیا ہے ، جو سالانہ 13 ملین مکعب میٹر ہائیڈروجن کے استعمال کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں ،نیشنل فیول سیل ٹیکنالوجی انوویشن سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر پھان فینگ وین نے کہا ہے کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق اگر ملک بھر میں، اربن گیس کے استعمال میں 10 فیصد ہائیڈروجن آمیزش کا تناسب اپنایا جائے تو یہ سالانہ تقریباً 15 ارب مکعب میٹر قدرتی گیس کی جگہ لے سکتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً 30 ملین ٹن کی کمی ہو سکتی ہے۔
لِن بوچھیانگ نے گلوبل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کا آغاز چین کی ہائیڈروجن توانائی کی صنعت میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے، جو اب نمائشی منصوبوں سے بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ مکمل عمل کی جانچ کے قیمتی ڈیٹا، حفاظتی تشخیص کے تجربات اور معیاری تکنیکی تفصیلات بھی جمع کرے گا، جو ہائیڈروجن آمیزش کے تناسب، خالص ہائیڈروجن پائپ لائن نیٹ ورکس اور قومی سطح پر توسیع کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر ے گا۔ ان کی رائے میں یہ منصوبہ چین کی جدید توانائی کے نظام کی تشکیل میں تازہ ترین کوششوں کی نمائندگی کرتا ہے، جو کہ صاف، کم کاربن، محفوظ اور انتہائی موثر ہے، جبکہ یہ ایک اہم نمائشی ماڈل کے طور پر بھی کام کرتا ہے جس کا حوالہ عالمی سطح پر قدر کا حامل ہے۔
قومی توانائی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2024 میں، چین کی ہائیڈروجن کی سالانہ پیداوار اور استعمال کا حجم 36.5 ملین ٹن سے تجاوز کر گیا تھا ، جو دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔




