20 اپریل 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) حال ہی میں بیجنگ میں خدمات کے شعبے سے متعلق، ایک قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
عالمی اقتصادی ترقی کی سست روی اور عالمی طرزِ تجارت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے پس منظر میں، چین اپنے خدمات کے شعبے کے اعلی ترقیاتی معیار کے لیے نئے امکانات دریافت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سٹریٹجک اقدام نہ صرف چین کی اعلیٰ معیار کی اقتصادی ترقی کی کوششوں کی بنیاد فراہم کرتا ہے بلکہ خدمات کے شعبے میں عالمی تعاون کے لیے خاطر خواہ مواقع بھی پیش کرتا ہے۔
اس سال کے آغاز سے، کئی اہم پالیسی اقدامات بہت تیزی سی کے ساتھ نافذ کیے گئے ہیں۔ حکومت کی ورک رپورٹ میں خدمات کے شعبے کی صلاحیت اور معیار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور 'چائنا سروسز' برینڈ کو فروغ دینے کی بات کی گئی۔ ریاستی کونسل کے ایک ایگزیکٹو اجلاس میں مارکیٹ تک رسائی اور توسیع ، خاص طور پر خدمات کے شعبے میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ حال ہی میں، خدمات کے شعبے پر ایک قومی کانفرنس نے صلاحیت اور معیار کو بہتر بنانے کے منصوبے پیش کیے۔ یہ اقدامات چین کے بنیادی اقتصادی ترقی کے اصولوں کے ساتھ ساتھ ساختی چیلنجز کا سامنا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد جدید صنعتی نظام اور اعلیٰ ترقیاتی معیار کے حصول کی کوششوں کو متحرک کرنا ہے۔
سروسز/خدمات کا شعبہ کسی قوم کی اقتصادی طاقت کا ایک اہم اشاریہ ہے۔ چین کی سروس انڈسٹری نے شاندار ترقی کا مظاہرہ کیا ہے،اس کی ایڈڈ ویلیو 2025 تک 80 ٹریلین یوان ($11.71 ٹریلین) سے تجاوز کر جائے گی، جو کہ جی ڈی پی کا 57.7 فی صد بنتا ہے۔ اس شعبے نے اقتصادی ترقی میں 61.4 فی صد کا حصہ ڈالا ہے اور یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ونٹر ٹورازم سے لے کر 'ویلیج سپر لیگ' اور 'سٹی سپر لیگ' جیسے کمیونٹی سپورٹس ایونٹس تک، سروسز کا شعبہ مسلسل نئے مواقع پیدا کرتے ہوئے عوامی ضروریات کو پورا کر رہاہے جس سے صنعتی ترقی اور ملازمت کے نئے مواقع پر نمایاں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

چین کے صوبے آنہوئی کی یی شیان کاونٹی میں غیر ملکی سیاح ایک خوبصورت قدرتی مقام کی تصاویر کھینچ رہے ہیں (تصویر: شو جیا دونگ)
چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں یہ پیش بینی کی گئی ہے کہ چین کا خدمات کا شعبہ 100 ٹریلین یوان سے تجاوز کر جائے گا، جو مضبوط ترقیاتی صلاحیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس شعبے کی توسیع کے مثبت اثرات اب زیادہ واضح ہیں اور یہ ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں کو آپس میں منسلک کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2025 میں ، 35.17 ملین غیر ملکی سیاح چین آئے ، جس کی وجہ سے سفری خدمات چین کی سروسز ٹریڈ کا سب سے بڑا حصہ بن گئیں، جو کل کے ایک چوتھائی سے زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ، چین کی خدمات کی تجارت 2025 میں 8 ٹریلین یوان سے تجاوز کر گئی، جب کہ کئی سالوں تک اس شعبے کا حصہ ،ملک کی غیر ملکی سرمایہ کاری میں 70 فی صد سے زیادہ رہا ۔
اس تبدیلی کے پیچھے، "مصنوعات کی فروخت" سے "خدمات کی فراہمی اور "پیمانے کی توسیع" سے "معیار کی بہتری" کی طرف منتقلی کا مسلسل عمل کارفرما ہے، جو چین کے خدمات کے شعبے میں بڑھتے ہوئے کھلے پن کی عکاسی کرتا ہے۔
حالیہ سالوں میں، چین نے خدمات کے شعبے تک رسائی کو بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔

وسطی چین کے صوبے ہونان کے جانگ جیا جئے کے ایک خوبصورت علاقے میں غیر ملکی سیاح خواتین ، ثقافتی اور تخلیقی مصنوعات خرید رہی ہیں ۔ (تصویر/وو یونگ بنگ)
چین نے خدمات کے شعبے میں، سرحد پار تجارت کے لیے منفی فہرست کو مکمل طور پر نافذ کیا ہے، خدمات کے شعبے میں کھلے پن کی توسیع کے لیے جامع پائلٹ پروگرامز کو تیز کیا ہے اور ویلیو ایڈڈ ٹیلی کمیونیکیشنز، بائیوٹیکنالوجی اور مکمل طور پر غیر ملکی ملکیت والے ہسپتالوں جیسے شعبوں میں مزید پائلٹ اوپننگز کی توسیع کی ہے۔نتیجتاً ،چین کے خدمات کے شعبے میں کھلے پن کی وسعت اور گہرائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ کوششیں نہ صرف دنیا کو بڑے پیمانے پر سروسز کی کھپت کی منڈی فراہم کرتی ہیں اور اعلیٰ معیار کی غیر ملکی خدمات کو چین میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی جانب متوجہ کرتی ہیں، بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ ترقی کے امکانات کو بانٹنے اور ترقی کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے زیادہ متنوع اور مسابقتی خدمات کی فراہمی بھی کرتی ہیں۔
خدمات کو ایک پل کے طور پر اور کھلے پن کو ایک رشتے کے طور پر دیکھتے ہوئے، چین کا خدمات کا شعبہ مزید کھلا، جدید اور متحرک ہونے کے لیے تیار ہے۔ یہ دنیا کے ساتھ " سب کی جیت سب کے فائدے پر مبنی ، تعاون کیے نئے میدان تشکیل دیتا رہے گا اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا باب رقم کرے گا۔




