• صفحہ اول>>تبصرہ

    منصوبوں کے نفاذ کی قومی  رپورٹ : جوہری امور پر چین  کے ذمہ دارانہ رویے کو اجاگر کرتی ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-30

    رواں ہفتے ، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی 11ویں جائزہ کانفرنس منعقد ہوئی، ایسے میں اس مہینے کے آغاز میں چین کی جاری کردہ منصوبہ جات کے نفاذ کی قومی رپورٹ نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔

    یہ دستاویز جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تین ستونوں: جوہری تخفیف، جوہری عدم پھیلاؤ اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے حوالے سے چین کی پالیسیز اور عملی اقدامات کو بیان کرتی ہے نیز عالمی جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو ، تخفیف اور ان کے پر امن استعمال کے سنگین چیلنجز پر قابو پانے کے لیے قابل عمل چینی حل پیش کرتی ہے۔

    رپورٹ میں واضح طور پر اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ چین، ذاتی دفاع کی جوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کے عزم کی سختی سے پابندی کرتا ہے۔ مزید برآں، چین غیر مشروط طور پر یہ عہد کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک یا علاقوں کے خلاف جوہری ہتھیاروں کا نہ تو استعمال کرے گا اور نہ ہی ان کے استعمال کی دھمکی دے گا۔

    چین نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو ،قومی سلامتی کے لیے درکار کم سے کم سطح پر برقرار رکھا ہے ، کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کی کسی بھی قسم کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا ،نہ ہی کبھی غیر ملکی سرزمین پر جوہری ہتھیاروں کو تعینات کیا ہے اور نہ ہی دوسرے ممالک کو "جوہری چھتری " فراہم کی ہے۔ اس دوران، چین وائٹ پیپرز کے اجرا ، متعلقہ سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع دے کر، غیر فعال جوہری سہولیات کو کھول کر اور دوسرے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے ساتھ بات چیت میں حصہ لے کر، باہمی سٹریٹجک اعتماد کو بڑھاتا آیا ہے اور نیک نیتی کے ذریعے غلط فہمیوں سے بچتا رہا ہے۔یہ رپورٹ "خفیہ جوہری تجربے" کے حالیہ الزامات کے بارے میں، واضح حقائق پیش کرتی ہے اور انہیں بے بنیاد ثابت کرتی ہے۔

    این پی ٹی کا بنیادی مقصد جوہری ہتھیاروں کا عدم پھیلاؤ ہے۔ چین نے قانون کی حکمرانی میں سختی اور کڑی نگرانی کے ذریعے ایک مضبوط دفاعی لائن تشکیل دی ہے۔ قانون سازی کی سطح پر، چین نے مختلف ضوابط کی رہنمائی میں عدم پھیلاؤ کا ایک جامع قانونی نظام قائم کیا ہے۔ برآمدی کنٹرول کے حوالے سے، چین نے جوہری برآمدات کے لیے "تھری پرنسپلز " کو سختی سے نافذ کیا ہے تاکہ مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ بین الاقوامی سطح پر چین، جوہری ہتھیار رکھنے والا وہ پہلا ملک تھا جس نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ حفاظتی معاہدے کے اضافی پروٹوکول کا نفاذ کیا اور اس وقت چین کی 30 جوہری تنصیبات IAEA کی زیرِ نگرانی ہیں۔

    تمام اقوام کو جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کا حق حاصل ہے۔ چین ، جوہری توانائی کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے شفافیت، اشتراک اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کی حمایت کرتا ہے ۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے تکنیکی تعاون فنڈ میں دوسرے سب سے بڑے شراکت دار کے طور پر، چین نے تقریباً 130 ملین ڈالر کی امداد دی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے جوہری ماہرین کی تربیت کے لیے تعاون کے متعدد بین الاقوامی مراکز قائم کیے ہیں۔ چین نے دنیا کے لیے اپنے 12 جوہری تحقیقاتی مراکز اور تجرباتی پلیٹ فارم بھی کھولے ہیں اور 30 سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ جوہری توانائی کے پُرامن استعمال پر بین الحکومتی تعاون کے معاہدے بھی کیے ہیں۔ چین پُرامن جوہری توانائی کے سیاسی یا عسکری استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے، بین الاقوامی تعاون میں رکاوٹ بننے والی پابندیوں اور 'ڈی کپلنگ' کو مسترد کرتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کے ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو فروغ دیتا ہے۔

    چین کی جانب سے پیش کردہ قومی رپورٹ چین کی انتہائی ذمہ دارانہ، مستقل اور شفاف جوہری پالیسی کو اجاگر کرتی ہے۔ رپورٹ ، بین الاقوامی جوہری نظام کے لیے ایک 'کیلیبریشن ٹول' کے طور پر کام کرتی ہے، کثیرالجہتی کے اصولوں اور بنیادی قواعد کی توثیق کرتی ہے جب کہ 'دوستانہ پھیلاؤ' یا 'جوہری اشتراک' جیسے خطرناک اقدامات کی مخالفت کرتی ہے۔

    جوہری ہتھیاروں کی ترقی، استعمال اور کنٹرول کے حوالے سے چین کی محتاط اور مستحکم پالیسیز ، ہنگامہ خیز عالمی منظرنامے میں ایک "لنگر" کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ پالیسیز ، جوہری ہتھیار رکھنے والے پانچ ممالک کے مابین، "جوہری جنگ نہیں جیتی جا سکتی اور اسے کبھی نہیں لڑنا چاہیے،" پر اتفاق رائے کے حصول کی کوشش کرتی ہیں جس سے عالمی تنازع کے خطرات میں کمی آتی ہے۔

    چین ایک مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی وژن پر عمل پیرا ہو کر عالمی تعاون کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کر رہا ہے تاکہ غذائی تحفظ اور عوامی صحت کے چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے، اور جوہری سلامتی کے لیے ایک مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کی جانب بڑھا جائے۔

    چین کے اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ چین، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کامستقل محافظ، فعال معمار اور اہم شراکت دار ہے۔ ایک ایسےوقت میں کہ جب ، اس معاہدے کے جائزہ عمل کو کڑے چیلنجز کا سامنا ہے، بین الاقوامی برادری کو سرد جنگ کی ذہنیت اور دوہرے معیار کو چھوڑ کر کثیر الجہت تعاون کی راہ پر واپس آنا چاہیے۔ جو ممالک جوہری ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخائر رکھتے ہیں، انہیں جوہری اسلحے کی تخفیف کے عمل کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھا کر اپنی اہم اور بنیادی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔ چین تمام قوموں کے ساتھ مل کر عدم پھیلاؤ کی حد کو برقرار رکھنے اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا رہے گا، عالمی سٹریٹجک استحکام اور جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے لیے مسلسل کوششیں کرتا رہے گا۔

    ویڈیوز

    زبان