
(تصویر بشکریہ : بیجنگ گودیان ہائی ٹیک ٹیکنالوجی )
7 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کی نجی خلائی کمپنی، بیجنگ گودیان ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کے مطابق، چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MIIT) نے کمپنی کو ، سیٹلائٹ انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) خدمات کے لیے ملک کے پہلے تجارتی پائلٹ پروگرام کے انعقاد کی منظوری دے دی ہے،جس کے بعد کمپنی اپنے تھیان چھی کنسٹلیشن فیز I نیٹ ورک کے ذریعے ، 41 سیٹلائٹس پر مشتمل دو سالہ تجرباتی پروگرام شروع کرسکتی ہے۔
سیٹلائٹ IoT سروسز کا مطلب ہے کہ ڈیٹا کی کم شرح کے ساتھ ایسی کنیکٹیویٹی جو سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن ہوتی ہے، جو ڈیٹا جمع کرنے والے ٹرمینلز، پہننے کے قابل آلات، ہینڈ ہیلڈ یونٹس، وہیکلز ، جہازوں اور طیاروں کے لیے "وائیڈ ایریا نیٹ ورک لنکس" فراہم کرتی ہے۔
چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق، چین کی سیٹلائٹ کمیونیکیشن انڈسٹری کی تیز رفتار کمرشلائزیشن کے باعث توقع ہے کہ ، سیٹلائٹ انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) ملک کے براڈ بینڈ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سسٹم کا ایک اہم تکمیلی حصہ بن جائے گا۔ منظور شدہ پائلٹ پروگرام کا مقصد نجی شعبے کی سرگرمی کو بڑھانا، کمرشل سپیس ترقی کی معاونت کرنا، نئی معیاری پیداواری صلاحیتوں کو فروغ دینا اور جدید صنعتی نظام کو آگے بڑھانا بھی ہے۔
17 مارچ 2026 کو شنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں ایک صنعتی تجزیے کا ذکر کیا گیا جس کے مطابق، مزید مضبوط پالیسی حمایت، بڑے پیمانے پر کنسٹلیشن کی تیز رفتار تعیناتی اور بڑھتی ہوئی تجارتی طلب کی وجہ سے، چین کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ انڈسٹری 2025 میں 45.41 بلین یوان (6.3 بلین ڈالر) تک پہنچ گئی اور توقع ہے کہ 2026 سے 2028 تک ترقی کی رفتار برقرار رہے گی۔عالمی سطح پر، سیٹلائٹ انٹرنیٹ ایپلیکیشن مارکیٹ 2030 تک، 30 بلین ڈالر سے متجاوز ہونے کا امکان ہے جبکہ براہ راست ڈیوائس سے منسلک صارفین کی تعداد تقریباً 130 ملین اور ممکنہ انٹرنیٹ آف تھنگز ٹرمینل کنکشنز 10.6 بلین یونٹس تک پہنچ جائیں گے۔
چین کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ شعبے کے لیے اگلے تین سے پانچ سال تبدیلی کا اہم دور سمجھا جا رہا ہے، جو سرمایہ کاری پر مبنی توسیعی مرحلے سے منافع کی طرف منتقل ہو رہا ہے، ساتھ ہی ساتھ کنسٹلیشن اور ایپلیکیشن کی تعیناتی کے بعدمارکیٹ کی صلاحیت مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
اس منظوری سے بیجنگ گودیان ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ آف تھنگز ایپلیکیشن کے منظرناموں کو وسعت دینے کے لیے اہم پالیسی حمایت ملی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پائلٹ پروگرام کا استعمال کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں وسیع علاقے کے IoT ڈیٹا جمع کرنے اور منتقل کرنے کی خدمات فراہم کرے گی، جو کہ کمرشل سپیس اور کم ارتفاع کی معیشت جیسی ابھرتی ہوئی صنعتوں کی محفوظ اور مثبت ترقی کی معاونت کرے گی۔



