9 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)حال ہی میں، پاکستان کے شہر اسلام آباد میں ہائیڈرو پاور سٹیشن منصوبے کی تعمیر کی بلاتعطل اور ہموار پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے کاشغر سے 6 گاڑیوں پر مشتمل پہلا قافلہ روانہ ہوا ہے۔ یہ گاڑیاں خنجراب پورٹ سے سرحد پار کریں گی۔

خنجراب پورٹ انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ ایڈمنسٹریشن کا عملہ قافلے کو حفاظتی حصار میں لے رہا ہے. (تصویر: خنجراب پورٹ انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ ایڈمنسٹریشن)
یہ سامان،ہائیڈرو پاور سٹیشن پراجیکٹ کے لیے مخصوص آلات پر مشتمل ہے جن میں سے 2 گاڑیاں غیر معمولی چوڑائی والے بھاری آلات لے جا رہی ہیں۔ اس ایک کھیپ کا کل وزن 30 ٹن اور مالیت 3.5 ملین یوآن ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس منصوبے کی مجموعی نقل و حمل تقریباً 1000 گاڑیوں پر مشتمل ہوگی، جس کی کل مالیت 1 بلین (ایک ارب) یوآن تک ہو گی اور اس پر عمل درآمد کا دورانیہ 3 سال ہوگا۔ یہ ٹرانسپورٹ روٹ سطح مرتفع پامیر سے گزرتا ہے، جہاں دشوار گزار پہاڑی راستے، غیر متوقع موسم اور بلند ترین مقامات پر آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجز ہوتے ہیں۔ مزید برآں، غیر معمولی چوڑے آلات کی ترسیل ، مشکلات اور متوقع خطرات کی وجہ سے سرحد پار لاجسٹک مینجمنٹ، حفاظتی اقدامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی سخت انتظامات کی متقاضی ہوتی ہے۔

خنجراب پورٹ انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ ایڈمنسٹریشن کا عملہ، ڈرائیورز کے ساتھ سڑک کی صورتحال پر تبادلہ خیال کررہا ہے۔ (تصویر: خنجراب پورٹ انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ ایڈمنسٹریشن)
خنجراب پورٹ چین اور پاکستان کے درمیان واحد زمینی راستہ ہونے کے ساتھ ساتھ چین -پاک اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک انتہائی اہم اور کلیدی مقام ہے۔ خنجراب پورٹ انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ ایڈمنسٹریشن نے پیشگی منصوبہ بندی اور موثر حکمت عملی اپناتے ہوئے کسٹم کلیئرنس کے عمل کو بہتر بنایا ہے، ایک مخصوص گزرگاہ کھولی ہے اور کسٹم اینڈ بارڈر انسپکشن جیسے محکموں کے اشتراک سے پورے راستے میں سکیورٹی فراہم کی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار سفر کے دوران ہمراہ موجود ہیں تاکہ محفوظ اور موثر نقل و حمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس ترسیلی عمل کی ہموار پیش رفت نہ صرف پاکستان میں ہائیڈرو پاور سٹیشن کی تعمیر میں معاون ثابت ہوگی بلکہ چین اور پاکستان کے درمیان، سرحد پار لاجسٹک رابطے کو بھی بہتر بنائے گی، جس سے پاک - چین اقتصادی راہداری کی تجارتی روانی میں ایک نئی جان پڑے گی۔ متعلقہ لاجسٹک کمپنیز مستقبل میں بھی نقل و حمل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں گی تاکہ اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کو ممکن بنایا جا سکے۔



