• صفحہ اول>>ثقافت و سیاحت

    اپنے کھلے پن اور شمولیت پسندی  سے دنیا بھر کے نوجوان شائقین کو  متوجہ کرتا، چین کا "پورسلین کیپٹل" جنگ دہ جین

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-05-13

    8 مئی 2026۔ صوبہ جیانگ شی  کے شہر جنگ دہ جین میں منفرد طرز کی  پیالہ نما عمارت (شنہوا)

    8 مئی 2026۔ صوبہ جیانگ شی کے شہر جنگ دہ جین میں منفرد طرز کی پیالہ نما عمارت (شنہوا)

    13 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے صوبے جیانگ شی کے ایک سٹوڈیو میں ایک 3 ڈی پرنٹر کا نوزل گھومتا ہے اور مٹی کو باہر نکالتا ہے، آہستہ آہستہ چینی مٹی کا نہایت نازک اور نفیس شاہکار تیار ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جس کا تصور ماضی میں جنگ دہ جین میں چینی مٹی کے ظروف بنانے والے فنکار کر ہی نہیں سکتے تھے۔ چینی مٹی کے برتن بنانے کی 1,700 سالہ قدیم روایت کے حامل شہر، جنگ دہ جین کے جس سٹوڈیو میں یہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے اس کے مالک 38 سالہ امریکی سرامک آرٹسٹ مائیکل مے ہیں۔ مائیکل کی رائے میں ، جدید سرامک 'پرنٹنگ' کا طریقہ، پیداوار کی کارکردگی اور امکانات کو بہت بہتر بنا سکتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ شروع میں تو ان کا خیال تھا کہ اس روایتی فن کا وارث شہرجنگ دہ جین، نئی ٹیکنالوجیز کو کھلے دل سے قبول نہیں کرے گا اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ان کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ یہاں ہر جگہ 3 ڈی پرنٹنگ کے کارخانے تھے، یہاں تک کہ دیہاتوں میں بھی ،جہاں سے سامان کرائے پر لیا جا سکتا ہے۔ مے کا کہنا ہے کہ اس قدیم شہر کے اسی کھلے پن اور شمولیت پسندی نے انہیں یہاں پر رہنے ، اپنے تجربات و تخلیقات کو جاری رکھنے نیز اپنی تکنیکوں اور خیالات کو بانٹنے کے لیے کورسز پیش کرنے کی ترغیب دی۔ بیس ممالک کی سیر کرنے والے مائیکل مے نے اپنے خیالات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جنگ دہ جین کو منتخب کیا اور اپنی تما م چیزیں بیچ کر یہاں آگیا جہاں اب وہ اپنے سٹوڈیو کو وسعت دینے پر کام کر رہے ہیں۔

    سونگ شاہی دور سے (960-1279) ، جنگ دہ جین میں تیار کردہ چینی مٹی کے برتن وسطی ایشیا، مغربی ایشیا، یورپ اور افریقا کو برآمد کیے جاتے تھے۔ یہ شہر آج بھی اپنی عالمی کشش کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کی وجہ سے عروج کے سیزن میں دنیا بھر سے پورسلین کے شوقین 5,000 سے زیادہ افرادیہاں آتے ہیں۔

    پاکستان کی قراۃ العین، جنگ دہ جین سیرامک یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ ہیں۔ ان کی رائے میں جنگ دہ جین ،سیرامک ثقافت کا ایک وسیع نقشہ ہے جہاں اس فن کے شوقین اپنا متعلقہ مقام تلاش کرسکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ باوجود یہ کہ پاکستان مٹی کے برتنوں کی تاریخ سے مالا مال ہے انہیں وہاں پر ، ڈاکٹریٹ پروگرامز کی کمی کے باعث تحقیقی راستہ منتخب کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے سینیئر نے انہیں جنگ دہ جین کی گہری تاریخ اور بین الاقوامی تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے اپنے وطن کی سیرامک ثقافت کا مطالعہ کرنے کی ترغیب دی ۔

    تھاو شی چھوان ثقافتی و تخلیقی ڈسٹرکٹ، 2015 سے ایک 'مائیگریٹری برڈ پروگرام' چلا رہی ہے۔ اس پروگرام نے 50 سے زائد ممالک سے 3,600 فنکاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ میں مختلف سطح کے میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں تقریباً 28,600 کاریگر شامل ہوتے ہیں، جن کی اوسط عمر 28 سال ہے۔ امریکی سیرامک فنکار میٹ واٹرسن ان میلوں کو پرانے سیرامکس تلاش کرنے کے لیے پسند کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں اپنے کام میں استعمال کرسکیں۔ وہ یہاں کےلوگوں کی گرم جوشی اور کھلے پن سے بے حد متاثر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا یہ جذبہ ان کی تخلیقات میں معاون ہوتا ہے۔

    جنگ دہ جین کی آبادی 16 لاکھ سے زیادہ ہے، پچھلی دہائی میں 136,000 " نیٹ پاپولیشن ان فلو" ریکارڈ کیا گیا ہے۔وہ لوگ جو شہر میں طویل مدتی کاروبار شروع کر چکے ہیں، ان میں نصف سے زیادہ صوبہ جیانگ شی کے باہر یا بیرون ملک سے بھی آئے ہیں۔

    اکتوبر 2024 ۔ جنگ دہ جین میں ایک سیرامک فیسٹیول میں جومے ریبالٹا (بائیں جانب) اور ان کے دوست ، چینی مٹی کے برتن دکھا رہے ہیں۔ (شنہوا)

    اکتوبر 2024 ۔ جنگ دہ جین میں ایک سیرامک فیسٹیول میں جومے ریبالٹا (بائیں جانب) اور ان کے دوست ، چینی مٹی کے برتن دکھا رہے ہیں۔ (شنہوا)

    ویزا فری پالیسیز کی بدولت، ہسپانوی ظروف ساز ، جومے ریبالٹا نے اپنے والدین کو اپنے آبائی شہر سپین سے جنگ دہ جین مدعو کیا۔یہ ان کے والدین کا سب سے طویل سفر تھا جس میں وہ سپین سے چین کے پورسلین کیپٹل آئے اور چینی مٹی کے برتنوں کے دارالحکومت کی ہزاروں سال پرانی ثقافت کو محسوس کیا۔

    ویڈیوز

    زبان