14 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)برطانوی مشاورتی ادارے برینڈ فنانس کے سربراہ ڈیوڈ ہیگ نے ، چینی برینڈز ڈے پر شنہوا کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ چینی برینڈز ایک ایسے " نفلیکشن پوائنٹ' " پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ عالمی سطح پر خود کو منوا رہے ہیں۔
ڈیوڈ ہیگ ، معیار سازی کی بین الاقوامی تنظیم کی برینڈ ایویلیو ایشن ٹیکنیکل کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور ان کی رائے میں چینی برینڈز سیکٹر کی توجہ ،بے حد متحرک، نہایت دلچسپ اور تیزی سے ترقی پذیر، چینی جدت کو دنیا بھر میں پھیلانے پر مرکوز ہے۔بہت سے دوسرے ممالک کی حکومتوں کے برخلاف، چینی حکومت طویل مدتی پالیسیوں پر یقین رکھتی ہے اور بلا جھجک ، جدت، ڈیزائن اور نئی تخلیق کی حکمت عملیوں کو اختیار کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چین سے شاندار نئی مصنوعات اور خدمات سامنے آ رہی ہیں جو کافی متنوع اور بہت بہترین ہیں۔انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی کہ چینی برینڈز، تیز رفتاری ، قابل اعتماد ترسیل، مسابقتی قیمتوں اور اعلیٰ معیار کی پیداوار کے لیے جانی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ،چین اچھے معیار کی مصنوعات تیار کرنے کے لیے قابل اعتبار ملک ہے اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ٹیسلا اور ایپل دونوں اپنی کئی مصنوعات چین میں تیار کراتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کاموں کو سر انجام دینے کے حوالے سے چین پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں، جب سے حکومت نے صنعت کاروں کو عالمی سطح پر توسیع کی ترغیب دی ہے، عالمی سٹیج پر چینی برینڈز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔"پیغام بہت واضح ہے: چینی برینڈز صرف " میڈ ان چائنا " نہیں "میڈ بائے چائنا" ہیں ۔
ان کے خیال میں، اس منتقلی سے دو بڑے نتائج حاصل ہوئے ہیں ،ایک برینڈ کی پہچان بنی دوسرا، ساکھ تشکیل پائی ،اب لوگ جانتے ہیں کہ یہ چینی مصنوعات یا برینڈ ہے اور وہ اس پر اعتماد کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ، کسی اور کے برینڈ کا حصہ بننے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔چین نے دوسروں کے برینڈز کو مشہور بنانے میں بہت وقت گزار لیا ، اب یہ اپنے برینڈز کی پہچان بنا رہا ہے۔
جنوری میں برینڈ فنانس کی جاری کردہ ورلڈ 500 کی درجہ بندی میں 68 چینی برینڈز شامل ہیں، جب کہ دو دہائی پہلے ایک بھی نہیں تھی۔ ڈیوڈ ہیگ کے مطابق، توقع ہے کہ یہ تعداد بہت تیزی سے بڑھتی جائے گی۔9 مئی کو برینڈ فنانس کی جاری کردہ ، چائنا 500 رپورٹ2026 کے مطابق، چین کے سر فہرست 500 برینڈز کی مجموعی قیمت 2.1 ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔
چینی برینڈز کی غیر ملکی توسیع پر ، ڈیوڈ ہیگ نے نئی توانائی کی گاڑیوں کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کچھ مغربی مارکیٹس نے چینی مصنوعات کے خلاف رکاوٹیں اور مسائل کھڑے کیے ہیں لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا،چینی مصنوعات بہت عمدہ ہیں اور اتنی اچھی طرح سے برینڈ اور مارکیٹ کی گئی ہیں کہ وہ تیزی سے مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ حاصل کر رہی ہیں۔
اسی دوران، ترقی پذیر مارکیٹس چینی برینڈز کے لیے بڑے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔ہیگ کا کہنا تھا کہ چین، ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر طور پر تیار ہے کیونکہ اس نے کئی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ طویل مدتی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کیے ہیں اور اسے وسیع پیمانے پر ،ایک قابل اعتبار اقتصادی شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ چینی برینڈز پہلے ہی "اعتماد" کے لحاظ سے مضبوط کارکردگی دکھا رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی صارفین کے ساتھ وسیع تر جذباتی تعلق بتدریج بڑھ رہا ہے۔انہوں نے چینی پلیٹ فارم کے عالمی اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ٹک ٹاک نے زبردست ترقی کی ہے خاص طور پر نوجوان نسل میں یہ بے حد مقبول ہے۔
برینڈ فنانس "نیشنل سافٹ پاور" پر اپنی تحقیق کے لیے بھی معروف ہے۔ اس کی تحقیق اور مشاہدے کے مطابق، حالیہ برسوں میں چین کی سافٹ پاور میں اضافہ ہوا ہے اور یہ "کاروبار میں آسانی" اور "مستقبل کی ترقیاتی صلاحیت" جیسے اشاریوں میں عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر ہے۔اس کے علاوہ سیاحتی ملک کے طور پر چین کی شُہرت بھی کافی بہتر ہوئی ہے، جس کا سبب ویزے کی سہولیات اور لوگوں کے درمیان خیالات اور آرا کے بڑھتے ہوئے تبادلے ہیں۔
ڈیوڈ ہیگ کی رائے میں ، چین کی "سافٹ پاور" میں اضافہ اور چینی برینڈز کی نمو ایک دوسرے کو بڑھاوا دیتی ہیں اور عالمی برینڈز بننے کے اس سفر میں یہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔



