
19 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)2025 میں، جنوب مغربی چین کے شی زانگ خود اختیار علاقے کا جی ڈی پی پہلی بار 300 ارب یوان (43 ارب ڈالر) سے تجاوز کر گیا۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی 77.8 ارب یوان ریکارڈ کیا گیا جو کہ سال بہ سال 6.1فی صد ترقی کی نشاندہی کرتا ہےاور ملک بھر میں سب سے تیز شرح ترقی ہے۔
رواں سال ،فروری کے اوائل میں علاقائی حکومت کے صدر گاما سیڈین کی جانب سے علاقائی عوامی کانگریس کے سالانہ اجلاس میں پیش کردہ حکومتی ورک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2026میں اس علاقے کا ترقیاتی ہدف 7 فی صد سے زیادہ کا تھا ۔
1953 میں, پرامن آزادی کے حصول کےبعد سے شی زانگ نے اپنی اقتصادی و سماجی ترقی میں شاندار پیش رفت کی ہے۔ اس علاقے کے جی ڈی پی نے 2015 میں 100 ارب یوان کا ہدف حاصل کیا، 2021 میں 200 ارب یوان کی حد کو عبور کیا اور پھر صرف چار سالوں میں 300 ارب یوان کی حد کو پار کر لیا۔ اسی دوران، شہری اور دیہی رہائشیوں کے لیے فی کس دستیاب آمدن بالترتیب 55,444 یوان اور 21,578 یوان تک پہنچ گئی، جو پچھلی دہائیوں میں 100 گنا سے زیادہ کا اضافہ ہے۔
ملک کے اندر ونی علاقوں سے منسلک ہونا
شی زانگ کی اقتصادی ترقی طویل عرصے تک، آمد و رفت اور نقل و حمل کے ناکافی بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے متاثر رہی تھی ، تاہم جدید بنیادی ڈھانچے اور سٹریٹجک راہداریوں پر توجہ دینے کی بدولت متاثر کن ترقی ممکن ہوئی ہے۔
2006 میں شروع ہونے والی، چھنگ ہائی-شی زانگ ریلوے اس ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ یہ ریلوے صوبہ چھنگ ہائی کے شہر شی نینگ کو شی زانگ کے لھاسا سے جوڑتی ہے۔ اس ریلوے سے تاریخ میں پہلی مرتبہ ، شی زانگ کے علاقے کو ریل تک رسائی ملی ، "دنیا کی چھت" عبور کرنے کا خواب ، طویل انتظار کے بعد حقیقت میں بدلا اور چین کے اندر دیگر علاقوں کے ساتھ جڑنے کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
2026 ، اس ریلوے کی 20ویں سالگرہ کا سال ہے۔چائنا ریلوے چھنگ ہائی-شی زانگ گروپ کے مطابق اپریل 2026 تک اس ریلوے نے شی زانگ کے اندر اور باہر 100 ملین ٹن سے زائد سامان کی نقل و حمل کی ہے۔ کوئلہ، سیمنٹ، تیل، اناج، روزمرہ اشیائے ضروریہ سمیت دیگر اہم اشیا اب سب سے کم قیمت اور کم سے کم وقت میں ہمالیہ کے خطے تک پہنچتی ہیں۔ خصوصی مقامی مصنوعات، بشمول ہمالیہ کے مشروبات اور جوار کی اعلیٰ درجے کی مصنوعات بھی اس راہداری کے ذریعے ٹرانسپورٹ کی جاتی ہیں۔ یہ مصنوعات قومی مارکیٹ میں شامل ہو رہی ہیں اور باہمی طور پر پیداوار و فروخت میں مضبوط ترقی کو فروغ دے رہی ہیں۔
اندرونِ ملک نقل وحمل کے علاوہ، چھنگ ہائی-شی زانگ ریلوے سے سرحد پار روابط میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 2021 سے، ریل- روڈ مشترکہ نقل و حمل نے جنوبی اور وسطی ایشیا کے راستے کھولے ہیں جس کے باعث ، برآمدات کا حجم 113,000 ٹن تک پہنچ گیا ہے۔
جنوبی ایشیا کا دروازہ
حالیہ برسوں میں شی زانگ نے، جنوبی ایشیا کے ممالک مثلاً نیپال اور بھوٹان کے ساتھ سرحدی جغرافیائی حیثیت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی ترقی کی رفتار تیز کرلی ہے، جس سے یہ علاقہ ایک دور افتادہ ،پسماندہ علاقے سے قومی رابطے کا سرحدی علاقہ بن گیا ہے۔
چودھویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2021-2025) کے دوران، شی زانگ نے کھلے پن کے پلیٹ فارم کا ایک میٹرکس قائم کی ہے، جس میں قومی طور پر مقرر کردہ پانچ داخلی دروازے، ایک جامع پورٹ زون اور ایک بین الاقوامی زمینی بندرگاہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چین-نیپال کے درمیان 13 روایتی سرحدی تجارتی مقامات کو اپ گریڈ بھی کیا گیا ہے۔
چین اور جنوب ایشیائی ممالک کےمابین تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے، مئی 2025 میں، لہاسا میں جنوبی ایشیا کے "کراس بارڈر ای کامرس انڈسٹریل پارک" کا افتتاح کیا گیا ۔پارک کے عملے کے رکن وئے منگ جئے نے بتایا کہ پہلے ،مشرقی چین کے شہر یی وو سے آنے والا سامان سمندر کے ذریعے براستہ بھارت، 50-60 دنوں میں نیپال پہنچتا تھا، اب، لہاسا کے ذریعے منتقلی کا وقت 20 دن سے بھی کم رہ گیا ہے۔
اس دوران، شی زانگ کی غیر ملکی تجارت زیادہ متنوع اور زیادہ بیش قیمت ہو گئی ہے۔ لہاسا کسٹمز کے ایک عہدیدار دائن زن کے مطابق، موثر ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کی بدولت 2025 میں شی زانگ نے155 ممالک اور خطوں کے ساتھ تجارت کی۔سال 2026 ، چین کے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے کی شروعات کا سال ہے (2026-2030)، اس دوران ایک سرحدی علاقے کے طور پر، شی زانگ اپنے کھلے پن کی سطح کو بڑھائے گا اور موجودہ 14 روایتی سرحدی تجارتی مقامات کے مستحکم آپریشن کو یقینی بناتے ہوئے اس سال مزید 12 مقامات کھولے جائیں گے۔



