25 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)۔ چین کے وزیراعظم لی چھِیانگ کی دعوت پر، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں ۔ دورے کے دوران وہ ، چین کے صدر شی جن پھنگ اور وزیراعظم لی چھیانگ سے ملاقات کریں گے ۔
اپنے اس چار روزہ سرکاری دورے کے پہلے مرحلے میں وزیرِ اعظم شہباز شریف ، 23 مئی کی رات صوبہ جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو پہنچے جہاں انہوں نے 24 مئی کی صبح ، تیسری چائنا-

وزیرِ اعظم شہباز شریف تیسری چائنا-پاکستان بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں تصویر : سی جی ٹی این
دونوں ممالک کے کاروباری اداروں سے اپنے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ،چین کے سابقہ دوروں سے لے کر ہانگ جو میٹنگ تک، دونوں فریقوں نے بڑی تعداد میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں اور اب ان یادداشتوں کو رسمی معاہدوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ زراعت سمیت مزید چار شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا ۔ وزیر اعظم ، کانفرنس میں دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں ہونے والے متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کے شاہد بھی رہے ۔
تیسری چائنا-پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن، بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز اور ایگریکلچر بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس میں چین اور پاکستان کی 500 سے زائد کمپنیز نے شرکت کی جو ابھرتی ہوئی صنعتوں میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون کا اظہار ہے ۔
اس سے قبل 23 مئی کی شام کو ہانگ جو میں ، صو بہ جہ جیانگ کی حکومت اور پاکستان کے صوبہِ پنجاب کی حکومت نے دونوں صوبوں کے درمیان دوستانہ تبادلے کے تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے ۔

23 مئی کو جہ جیانگ کی صوبائی پارٹی کمیٹی کے سیکریٹری وانگ ہاو نے پاکساتنی وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کی (تصویر جہ جیانگ ڈیلی )
وزیر اعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں، چوبیس مئی کی شام کو ہانگ جو سے بیجنگ پہنچے جہاں وہ فرداً فرداً ،چین کے صدر شی جن پھنگ اور وزیراعظم لی چھیانگ سے ملاقات کریں گے ۔ وزیر اعظم ، چین-پاکستان سفارتی تعلقات کے قیام کی پچھترویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔
اس سے قبل چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے حوالے سے کہا تھا کہ ، چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر یہ ایک اہم ،اعلیٰ سطحی تبادلہ ہے۔ چین کو امید ہے کہ اس دورے کو ایک نئے موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک روایتی دوستی کو مزید آگے بڑھائیں گے، ہمہ جہتی تعاون کو گہرا کریں گے اور نئے دور میں مزید مضبوط چین۔پاکستان مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کے ایک نئے باب کا آغاز کریں گے۔



