
8 جنوری 2026۔ صوبہ جہ جیانگ کی نینگ بو- جوشان بندرگاہ پر مال بردار بحری جہازوں کی آمد کا فضائی منظر ۔(شنہوا۔ حوانگ جونگ جی)
یکم جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) چین کے نائب وزیر برائے نقل و حمل لی شنگہو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 2025 میں کارگو تھرو پٹ کے حساب سے دنیا کی دس سر فہرست بندرگاہوں میں سے آٹھ بندرگاہیں چین کی رہیں۔ چینی بندرگاہوں کا کارگو تھرو پٹ 18.3 ارب ٹن تک پہنچ گیا، کنٹینر تھرو پٹ 354 ملین بیس فٹ کے مساوی یونٹ (ٹی ای یوز) رہا اور چینی ملکیت کے بحری بیڑے کا حجم 490 ملین ڈیڈ ویٹ ٹن تھا، جو کہ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔
2025 میں چین کی بندرگاہیں ،اوسطاً 50 ملین ٹن یومیہ سے زیادہ مال اور تقریباً 970,000 ٹی ای یوز کنٹینرز ہینڈل کر رہی تھیں اور روزانہ تقریباً 98,200 بحری جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، جن میں سے 1,236 بین الاقوامی سفر کرنے والے جہاز تھے۔2025 میں، چین کا آبی راستوں کی مال برداری کا حجم تقریباً 15 کھرب ٹن -کلو میٹر تک پہنچ گیا، جو چین کےجامع نقل و حمل کے نظام کے نصف سے زیادہ ہے۔
چودھویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2021-2025) کے دوران، چین نے 10,000 ٹن یا اس سے زیادہ گنجائش رکھنے والے جہازوں کے لیے 469 نئی گودیوں کا اضافہ کیا اور اب گودیوں کی کل تعداد 3,061 ہو چکی ہے۔ 2,500 کلومیٹر کے آبی راستے بھی شامل کیے گئے ہیں جس کے بعد کل طوالت 18,500 کلومیٹر ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ 2025 تک، چین نے ملک بھر میں 60 خودکار ٹرمینلز فعال کیے، جن میں 30 خودکار کنٹینر ٹرمینلز شامل ہیں۔



