• صفحہ اول>>ثقافت و سیاحت

    ٹیلز آف سٹیز  : نظر کے سامنے ہوتے ہوئے بھی غیر حقیقی محسوس ہوتا  چین کا "ماچا کیپٹل" تھونگ رین

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-07-23

    23جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)ماچا پینے والے زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جاپانی پراڈکٹ ہے، لیکن چین کے صوبے گوئے جو کا ایک پہاڑی شہر تھونگ رین ، اس مفروضے کی تصحیح کرتا ہے۔ جاپان سے منسوب چائے کی اس روایت کی جڑیں چین کی تھانگ اور سونگ شاہی ادوار (618-1279) تک جاتی ہیں۔ سونگ شاہی دور میں، چائے کی پتیوں کے سفوف کو ہلکا اور جھاگ دار ہونے تک گرم پانی میں پھینٹنے کا ایک طریقہ 'دیان چھا' راہبوں اور علما میں عام تھا۔ سونگ شاہی دور کی اس روایت کا کاونٹی کی سطح کے وارث، گوو لی جن کے مطابق، یہ عمل اس سے بھی پہلے کے وئے اور جن شاہی ادوار (220-420) تک جاتا ہے۔ یہ تکنیک جسے اب جاپانی چائے کی تقریب سے منسوب کیا جاتا ہے، درحقیقت سمندر پار جانے سے کئی صدیاں پہلے ہی چین میں اس کا آغاز ہوچکا تھا۔

    تھونگ رین اب اپنی اصل کہانی کو تاریخ کی بجائے پیداوار کے ذریعے ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ ماچاکی پیداوار اور فروخت میں قومی سطح پر پہلے اور عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر آنے والا یہ شہر چین کا "ماچا کیپٹل" کہلاتا ہے۔ یہ پیمانہ اعداد و شمار کے طور پر بیان کرنا تو آسان ہے، لیکن اس کا تصور کرنا تب تک مشکل ہے جب تک کہ آپ پتّے کو اس پہاڑ تک نہ لے جائیں جہاں سے یہ آتا ہے۔

    چائے کے علاقے کے ارد گرد 2,500میٹر سے زیادہ کی بلندی پر واقع کوہِ فان جنگ کی قدیم چٹانیں ان بادلوں سے ابھرتی ہیں جو کبھی مکمل طور پر نہیں چھٹتے، یہ پہاڑ سال کے 365 میں سے 200 دن سے بھی زیادہ دنوں تک دھند اور بارش میں لپٹے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے اس پہاڑ کی چوٹی پر سے ایک صاف آسمان دیکھنا خوش قسمتی ہو سکتی ہے لیکن انہیں اس کی توقع کم ہی ہوتی ہے۔ یہ ایک یونیسکو کا عالمی قدرتی ورثہ ہے، جہاں پودوں اورجانوروں کی ایسی اقسام پائی جاتی ہیں جو زمین پر کہیں اور نہیں ملتیں، اور اس کی "ریڈ کلاوڈ گولڈن سمٹ " تک پہنچنا جان جوکھوں کا کام ہے ۔ یہ ایک ایسا پہاڑ ہے جو اپنے رازوں کی حفاظت کرتا ہے، اس کے سائے میں اگنے والی تقریباً ہر چیز اسی مشکل کا سامنا کرتی ہے، اور اس سے فائدہ بھی اٹھاتی ہے۔

    جیانگ کھو کاؤنٹی کے چھی زی مئے چائے کے باغات میں، شجر زار کی سربراہ ،چھین چھون لیان فودنگ دابائی، وونیو جاؤ اور لونگ جنگ کے 220 مو (تقریباً 14.67 ہیکٹر) پر کاشت چائے کی دیکھ بھال کرتی ہیں جہاں ماچا کے لیے درکار پسا ہوا خام مال تھن چھا تیار ہوتا ہے۔ باغ کی ڈھلوانوں پر قدرے چھوٹی لیکن گھنی جھاڑیاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ کسان اس پہاڑ کی دیکھ بھال اس عقیدت سے کرتے ہیں جیسے یہ ایک نایاب چیز ہو جس کی دیکھ بھال کرنا ہی یہاں کا اصل کام ہو ۔ چھین بتاتی ہیں کہ اس پہاڑ کی بلندی، سورج کی محدود روشنی اور بادلوں کی تقریباً مستقل موجودگی، پتوں میں امینو ایسڈ کی مقدار کو بڑھاتی ہے، جس سے اس کا معیار زمین پر اگنے والی چائے سے کہیں بہتر ہو جاتا ہے۔ کسان فصل کی چنائی سے پہلے پودوں کو ڈھانپ کر مزید روشنی کو روک دیتے ہیں ۔ اس تکنیک سے سورج کی کم روشنی کا مطلب ہے زیادہ کلوروفل اور زیادہ تھیانائین، جو ماچا کے گہرے سبز رنگ اور اس کے گہرے اومامی ذائقے کی کیمیائی بنیاد ہے جس کا تجارتی نام " covered aroma" ہے۔ گو اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ذائقے کو عام الفاظ میں،تیز اور خوشگوار کہا جاتا ہے اور چائے پینے والے اسے "سمندری گھاس کی خوشبو" کہتے ہیں۔

    چائے کی یہ پتیاں ، ابھی بھی بیرون ملک شیلفز پر موجود پاؤڈر میں تبدیل ہونے سے پہلے اپنے سفر میں ایک اور فاصلہ طے کریں گی۔ گوئی ٹی گروپ کی ماچا ورکشاپ میں پیداوار کے نگران لی تھنگ باؤ، باریک پروسیسنگ کے مرحلے کی نگرانی کرتے ہیں: خوشبو میں اضافہ، رنگ کی درجہ بندی، پیسنے اور چھاننے، اس کے بعد ہوا سے علیحدگی کا مرحلہ آتا ہے، جو تنوں کو الگ کرتا ہے اور چائے کی صاف شدہ پتیاں "بلینڈنگ" سے پہلے ایک ڈرم میں پہنچ جاتی ہیں۔ پسائی کے بعد یہ ماچا کی وہ شکل اختیار کرتی ہیں جسے زیادہ تر لوگ پہچانتے ہیں۔ لی تھنگ باو بتاتے ہیں کہ ورکشاپ کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور 2025 میں اس کی پیداوار تقریباً 2,500 ٹن تھی جو بڑھ کر توقع ہے کہ اس سال 5,000 ٹن ہوگی۔ ایک ہی سیزن میں دوگنا پیداوار یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طلب میں کتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    تھونگ رین میں میچا کے استعمال کی ترقی اس کے اہداف کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی صنعت میں ایک خاص نمونہ بھی پیش کرتی ہے، جہاں ماچا اب صرف چائے کی پیالی تک محدود نہیں رہا بلکہ بیکریز، میٹھے پکوانوں اور جلد کی دیکھ بھال کی مصنوعات میں بھی شامل ہو چکا ہے۔ گوئے جو گوئی گوئی ماچا فوڈ کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر تھانگ یون پھینگ کی سربراہی میں ایک ٹیم ماچا کی روایتی مصنوعات سے آگے بڑھ کر ایک باریک کرکرے ورق والا ماچا سے بھرا سن کیک ، چیز کیک اور چاکلیٹس جیسی نئی اور اختراعی مصنوعات تیار کر رہی ہے ۔ تھانگ کے مطابق،تھونگ رین کا ماچا دوسرے مقامات پر اگائے جانے والے ماچا کی نسبت زیادہ کسیلا اور بھرپور ذائقے والا ہے جسے جب پکایا، پھینٹا یا کسی اور پگھلا کر کسی اور چیز میں ملایا جاتا ہے تو اس کا ذائقہ مزید ابھر کر سامنے آتا ہے۔ شہر کے دیگر مقامات پر، ماچاڈمپلنگ، نوڈلز، بیئر، چاپ سٹک، ہینڈ لوشن اور پرفیوم میں بھی ملتے ہیں۔ اس وقت، تھونگ رین میں ماچا ایک "جزو" سے اپنی ہی طرز کا ایک "درجہ" بن چکاہے۔

    تھونگ رین کی کاونٹی جیانگ کھو کے گاوں ،یون شہ کے ایک منفرد مقامی زرعی تفریحی مقام نونگ جیالہ کو مقامی کسانوں کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ مقامی زندگی کی جھلک پیش کرتے ایک ریستوران میں دیہاتی خاتون ،یانگ یان فئے کی میز عموماً "لارؤو" سے بھری ہوتی ہے۔ لاروو ، نمکین ، دھواں دیا گیا گوشت ہے جو گوئے جو کے گھریلو پکوان کا ایک اہم جز ہے، اس کے ساتھ ہی ایک اور پکوان ، جو کہ یہاں آنے والے نئے لوگوں کے لیے حیران کن ہے ماچا سٹرجن ہے جس میں مچھلی کے گوشت میں ماچا چائے کا موہوم سا ذائقہ ہوتا ہے ۔ یہ کوئی نئے اختراعی پکوان نہیں ہیں بلکہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ ماچا طویل عرصے سے یہاں کی روزمرہ زندگی میں رچا بسا ہے۔

    چائے کے باغات سے لے کر پروسیسنگ فلور اور پھر ٹیسٹ کچن تک، تھونگ رین کی "ماچا اکانومی" کو چلانے والے لوگوں کی خواہشات مشترک ہیں، اور یہ کسی ایک پراڈکٹ سےآگے ایک بڑی چیز میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ چھین ، اس پورے سلسلے کا آغاز کرنے والے خام مال کی فراہمی پر بے حد فخر کرتی ہیں۔ تھانگ کو امید ہے کہ ماچا ، مزید "بڑی پراڈکٹ " بن جائے گا : نہ صرف تھونگ رین کے لیے، بلکہ گوئے جو اور چین کے لیے بھی ایک "کالنگ کارڈ" بنے گا۔ جیسے جیسے ماچا، گوئے جو سے نکل کر دور کے کیفیز اور باورچی خانوں میں مقبول ہو رہا ہے ،تھونگ رین کا نام بھی اس کے ساتھ ساتھ آگے سے آگے پہنچ رہا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان