4 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کا ہدف، قومی ترقی کے لیے توانائی کے ایک صاف، کم کاربن، محفوظ اور مؤثر نظام کا قیام ہے۔ توانائی کےتحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر لیو وین بن کے مطابق، اس نظام کی تعمیر چین کے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور کاربن نیوٹرلٹی حاصل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منتقلی کا مطلب کوئلے یا تیل کو چھوڑنا نہیں، بلکہ نئے نظام کی بتدریج ترقی ہے، جس میں بنیادی طور پر نان فوسل فیول کا استعمال کیا جائے گا جبکہ فوسل فیول، بیک اپ کے طور پر کام کریں گے۔ ایک نیا پاور سسٹم سبز، سمارٹ اور تحفظ کے اصولوں پر مبنی کلیدی معاونت فراہم کرے گا۔ توانائی کے ایک نئے نظام کی تعمیر کے لیے توانائی کی پیداوار، پروسیسنگ اور منتقلی سے لے کر نقل و حمل اور آخری استعمال تک پورے عمل میں مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے۔
پیداواری لحاظ سے، توانائی کے مرکب کی مضبوط بنیاد اور تنوع کا تحفظ کیا گیا ہے۔ ترسیلی لحاظ سے- دور دراز سے آتی ہوا کی طاقت چین کے 'مستقبل کے شہر' کو روشن کرتی ہے۔ استعمال کے لحاظ سے- پی وی پینلز اور ٹائلز جنوبی چین کے جزیرے کو زیرو کاربن حیثیت حاصل کرنے میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔
پیداوار کے ذرائع سے لے کر ترسیل و تقسیم اور آخر میں استعمال تک، یہ تین پہلو مل کر نئی توانائی کے نظام کا ایک مکمل سلسلہ بناتے ہیں۔



