8 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) صوبہ گانسو میں دون حوانگ اکیڈمی کے ادارہ برائے تحفظ وتحقیق کے محقق اور "میورل ڈاکٹر"، فان زائی شوان نے صوبہ جیانگ سو کے شہر نانجنگ سے واپس آنے کے بعد اپنے ساتھیوں کو ایک ایسے علاقے میں دیواری نقوش کی بحالی کےچیلنجنگ کام کے بارے میں آگاہ کیا جو اس صحرائی نخلستان سے کہیں زیادہ مرطوب ہے جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کی بنیاد رکھی تھی۔
فان زائی شوان، جون 1961 میں وسطی چین کے صوبے حہ نان کے شہر شِن شیانگ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1981 میں انہوں نے دون حوانگ اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی۔ ایک شاگرد سے اس شعبے کےایک اہم ماہر تک انہوں نے چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ قدیم دیواری نقوش کی بحالی میں گزارا۔

فان زائی شوان ایک قدیم میورل پر کام کر رہے ہیں۔ (فان زائی کی فراہم کردہ تصویر)
انہوں نے بحالی کے متعدد معیار تحریر کیے ہیں، بحالی کے 30 سے زائد منصوبے مرتب کیے ہیں، بحالی کے 10 سے زیادہ پروجیکٹس کی نگرانی و انتظام کی ذمہ داری ادا کی ہے، میورلز کو پہنچنے والے نقصان کے علاج کی تکنیکوں کے پیٹنٹس حاصل کیے ہیں اور تحفظ سائنس میں کئی قومی ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔
ان تمام برسوں میں فان زائی نےمیورلز کو درپیش تقریباً سب ہی مسائل کا سامنا کیا ہے اہم بات یہ کہ ہر مسئلے کو انفرادی حل درکار ہوتا ہے۔
سیم سے دیوار کا پھول جانا، جسے اکثر "دیواری کینسر" کہا جاتا ہے ایک مشکل نوعیت کا مسئلہ ہے۔ یہ نقصان دہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نمی بڑھنے سے، دیوار کے پلستر میں موجود حل پذیر نمک تو حل ہو جاتے ہیں لیکن جب ہوا خشک ہوتی ہے تو وہ دوبارہ کرسٹل بن جاتے ہیں، جو کہ رنگوں کی تہوں کو جدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ایک مرتبہ، دون حوانگ میں یونیسکو عالمی ورثے کے مقام موگاؤ گروٹوز کی 710 مربع میٹر دیواروں کے لیے یہ مسئلہ ایک بڑا خطرہ بن گیا۔ فان کی ٹیم نے تحقیق و تجربات سے اس کی وجوہات اور حل کو تلاش کیا۔ انہوں نے ایک ایسی تکنیک تیار کی جو نمک کو حل کرنے کے لیے کم درجہ حرارت کی بھاپ کا استعمال کرتی ہے، جسے پھر ایک بغیر بنے ہوئے کپڑے، لکڑی کے گودے اور نشاستے پر مبنی پولی ایکریلامائیڈ ریزن کے مرکب سے تیار کردہ جاذب مواد کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ یہ تیزی سے جذب کرنے والا، کیمیائی طور پر غیر فعال اور نازک کاموں کے لیے کافی نفیس حل ہے۔
آٹھ سال کی تحقیق کے بعد، ٹیم نے کھارے پن اور نمی کے باعث دیواروں کے پھولنےکے پیچھے کار فرما طریقہ کار کو شناخت کیا اور بحالی کا سائنسی طریقہ تیار کیا۔ اس کے بعد سے، انہوں نے موگاؤ گروٹوز میں 500 مربع میٹر سے زیادہ حصے پر متاثرہ دیواروں کی بحالی کا کام مکمل کیا۔ فان متعدد تکنیکی معیاروں کے مرکزی مصنف بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے تجربات کو ایک منظم، سائنسی اور معیاری شکل میں تبدیل کرنا ماضی کے بحالی کاروں کے جمع کردہ علم کو محفوظ رکھتا ہے جب کہ دیواروں کی بحالی کے لیے مستقبل کی رہنمائی اور حوالہ بھی فراہم کرتا ہے۔
1981 میں، 20 سالہ فان نے دون حوانگ تحقیقاتی ادارہ برائے ثقافتی نوادرات میں درخواست دی اور بعد میں اسی ادارے کے تحفظ کے تحقیقاتی سٹوڈیو میں کام کرنے کا انتخاب کیا۔ اس وقت سٹوڈیو کا عملہ 10 سے بھی کم افراد پر مشتمل تھا، انہوں نے تجربہ کار بحالی کاروں دووان شیو یی اور لی زوئی شیونگ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے نامیاتی، غیر نامیاتی اور تجزیاتی کیمسٹری سیکھی اور اسے فن کی تاریخ اور آثار قدیمہ کے علم کے ساتھ منسلک کیا۔ بعد میں انہوں نے لان جو یونیورسٹی اور فودان یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور پھر بیرون ملک وزٹنگ اسکالر کے طور پر کام کیا۔
آج اس ادارے کی ٹیم 40 سے زائد ماہرین پر مشتمل ہے، جو کہ تاریخ، کیمسٹری، جیالوجی، جغرافیہ، سول انجینئرنگ، تعمیرات اور حیاتیات کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ فان نے ملک بھر میں کئی اداروں کے لیے میورلز کی بحالی کے 300 سے زیادہ ماہرین کو تربیت فراہم کی ہے۔ ریٹائر ہونے کے بعد بھی، وہ بحالی کے محاذ پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
فان کے ساتھ ادارے کی تحفظ و بحالی ٹیم نے صوبہ گانسو میں اب تک تھیان تھی شان گروٹوز، جنوب مغربی چین کے شی زانگ خود اختیار علاقے میں پوتالا محل اور شمالی چین کے صوبے شانشی میں یون گانگ گروٹوز کی بحالی کے منصوبوں پر کام کیا ہے۔فان، پوتالا محل کے منصوبے پر کام کے مسائل کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس کی دیواری تصاویر سطحِ سمندر سے 3,700 میٹر کی بلندی پر ہیں، جب کہ موگاو میں یہ تقریباً 1,300 میٹر کی بلندی پر ہیں اور انہیں مختلف تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے، جن میں مٹی اور پتھر کا ایک ایسا حساس مرکب شامل ہے جو گیلا ہونے پر آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے۔ تحفظ کی ٹیم نے بحالی مکمل کرنے سے پہلے موزوں مواد کا انتخاب کرنے کے لیے لیب میں دیواروں کی پینٹنگز کی نقول تیار کیں۔
فان کا کہنا ہے کہ قدیم دیواری تصاویر اور تقش و نگار کی تحقیق میں اب بھی ایسے مسائل ہیں جو حل طلب ہیں۔ ہماری ٹیم کو نسل در نسل، دون حوانگ کی خوبصورتی کو زندہ رکھنا ہوگا۔



