• صفحہ اول>>تبصرہ

    عالمی سطح پر اسٹریٹجک دور اندیشی کا مظاہرہ، چین نے "رفتار کم کرنے "کا بٹن دبایا

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-09-09

    9 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)حال ہی میں، نیویارک ٹائمز کے سابق کالم نگار میکس فشر کی بین الاقوامی توانائی سے متعلق جاری کردہ ایک ویڈیونے غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بے حد پذیرائی حاصل کی۔ "چین نے خاموشی کے ساتھ دنیا کو بچا لیا" کے عنوان سے جاری کی گئی اس ویڈیو میں انہوں نے آئل ٹینکرز کے عالمی راستوں کا نقشہ کھولتے ہوئے کہا کہ کون تیل خرید رہا ہے یہ سب سے حیران کن بات نہیں ہے، بلکہ حیران کن بات یہ ہے کہ کون اپنی رفتار کم کر رہا ہے۔ اس ویڈیو کو 6 ملین سے زائد بار دیکھا گیا اور 20 ہزار سے زائد تبصروں میں بہت سے صارفین نے چین کے اس ردعمل کو "معاملہ فہمی" اور "متوازن"ردِ عمل قرار دیا۔

    آبنائے ہرمز، توانائی کی عالمی ترسیل کا اہم آبی راستہ ہے جہاں حالیہ عرصے میں صورتحال مسلسل کشیدہ رہنے کی وجہ سے جہاز رانی کی صورتِ حال مشکلات کا شکار رہی اور اس سے بین الاقوامی خام تیل پر رسک پریمیم میں اضافہ ہوا۔ منڈی کے ماضی کے رجحان کے مطابق دیکھا گیا ہے کہ جب جغرافیائی تنازعات سے ترسیل میں خلل کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، تو عام طور پر بڑے صارف تیزی سے خریداری اور ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، طلب و رسد میں آنے والے فرق سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے جو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی افراطِ زر کو بڑھاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی اقتصادی بحالی کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے مارکیٹ میں خدشات بڑھ گئے تھے اور "تیل کی خریداری کی دوڑ" اجناس کی منڈیوں تک پہنچ گئی تھی۔

    لیکن چینی مارکیٹ کا ردِ عمل مختلف تھا۔ چین کی تیل صاف کرنے والی کمپنیز نے پیداواری رفتار کو صورتِ حال کے مطابق ڈھالا، لچکدار اور منظم انداز میں مہنگے خام تیل کی اضافی خریداری کو کم کیا، جس سے درآمدات کی رفتار میں کمی آئی۔ چین نے انتہائی محتاط انداز میں عالمی طلب و رسد کے لیے 'رفتار کم کرنے کا بٹن' دبایا۔ وال سٹریٹ جرنل نے ایک مضمون میں لکھا کہ چین کا تیل کی درآمد میں کمی کا اقدام دباو کی شکار عالمی معیشت کے لیے اہم معاونت فراہم کرتا ہے۔ فرانس کے اخبار لی فی گارو کے مطابق، 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ چین نے عالمی معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    عالمی سطح پر تیل کے بحران سے نمٹنے کے لیے طویل عرصے سے، زیادہ تر توجہ رسد کے پہلو پر مرکوز رہی ہے اور عموماً بڑے صارف ، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو مجبوراً برداشت کرتے رہے۔ لیکن اس مرتبہ کے عملی تجربے سے ثابت ہوا کہ ایک بہت بڑی صارفی منڈی، پیداواری صلاحیت میں ردوبدل اور ذخائر کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد چین کی خام تیل کی خریداری میں کمی نے مشرق وسطیٰ کی رسد کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے تبصرے میں بھی کہا گیاہے کہ چین عالمی تیل مارکیٹ کے توازن پر اثر انداز ہونے والا اہم عنصر بنتا جا رہا ہے۔

    چین نے دوسروں کے برعکس ایک مختلف راستہ کیوں اختیار کیا؟ یہ قوت چین کی سٹریٹیجک دور اندیشی سے آئی ہے۔

    چند سال قبل جب تیل کی بین الاقوامی قیمتیں کم تھیں، چین نے اپنے تیل کے تجارتی ذخائر کو مسلسل بڑھایا اور اس کے ذخائر بتدریج مستحکم ہوئے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے کے دوران، چینی مارکیٹ نے اپنی تجارتی ذخائر میں اضافے کی معمول کی رفتار کو روک دیا اور پہلے سے جمع شدہ ذخائر کو مہنگی درآمدات کے متبادل کے طور پر استعمال کیا، جس سے نہ صرف چین کی ری فائننگ کی بنیادی ضروریات پوری ہوئیں بلکہ بین الاقوامی منڈی میں مہنگے داموں خریداری کرکے طلب و رسد کے دباو کو بڑھنے سے بھی روکا۔ ذخائر کافی ہوں تو، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، تسلی بخش ذخائر ہی چین کی درآمدی رفتار کو لچکدار طریقے سے ترتیب دینے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

    مسلسل کوششوں کے بعد، چین نے ایک ہموار اور موثر،کمرشل انوینٹری ٹرن اوور سسٹم تشکیل دیا اور خام تیل کے درآمدی ذرائع کو برازیل، افریقا اور دیگر خطوں تک توسیع دی گئی ہے، جس سے جہاز رانی کے "واحد راستے" پر انحصار کم ہوا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ مارکیٹ پر مبنی ریفائننگ آپریشنز کا نظام تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے، کمپنیز قیمت اور خطرے کے اشاریوں کو تیزی سے بھانپ کر ،خریداری اور پیداواری منصوبوں کو لچکدار طریقے سے منظم کر سکتی ہیں۔ توانائی کا یہ متنوع اور لچکدار نظام، چین کو کشیدہ جغرافیائی حالات میں زیادہ آسانی فراہم کرتا ہے۔

    طویل مدتی تناظر میں دیکھا جائے تو سبز منتقلی ، توانائی کے معاملات کو عملاً نئی شکل دے رہی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق، چین میں اس سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران برقی گاڑیوں نے یومیہ 15 لاکھ بیرل خام تیل کی جگہ لی، جو مارکیٹ کی عمومی توقع سے کہیں زیادہ ہے۔ چین کی قابل تجدید توانائی کی تیز رفتار ترقی نہ صرف اس کے اپنے توانائی کے منظرنامے کو بدل رہی ہے، بلکہ خاموشی سے عالمی توانائی مارکیٹ کی کارکردگی کے بنیادی اصولوں کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔

    ماضی میں بین الاقوامی توانائی کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو خاموشی کے ساتھ قبول کرنے والا چین آج، عالمی مارکیٹ کو فعال انداز میں مستحکم کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے چین کا توانائی کی ترقی کے لیے اپنایا گیا مستقل اور مضبوط طریقہ کار ہے۔ اپنے توانائی کے منبع کو محفوظ اور مضبوط رکھنا اور اپنی ترقی کے یقین کو، خارجی ماحول کی غیر یقینی صورتحال کا جواب دینے کے لیے استعمال کرنا، یہ عالمی مارکیٹ کے استحکام کے لیے سب سے حقیقی اور پائیدار شراکت ہے۔

    ویڈیوز

    زبان