
16 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 14تمبر کو ویانا میں، اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ باضابطہ تقریب کے دوران چین نے، چھانگ عہ-6 مشن کے ذریعے حاصل کیا گیا چاند کانمونہ اقوام متحدہ کو پیش کیا، جو کہ مستقل طور پر ویانا ہیڈکوارٹرز میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کو چاند کے دور دراز حصے سے حاصل کیا گیا چاند کا نمونہ پیش کیا گیا ہے۔
چائنا نیشنل سپیس ایڈمنسٹریشن، ویانا میں اقوام متحدہ کے لیے چین کےمستقل مشن، دیگر بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے امورِ خلائے بسیط کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب میں بین الاقوامی تنظیموں کے ویانا میں موجود رہنماوں اور دنیا بھر سے مختلف ممالک کے سفارت کاروں سمیت 400 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، چائنا نیشنل سپیس ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر شان جونگ دہ نے کہا کہ لامحدود کائنات کے راز کھوجنا ،ہمیشہ سے انسانیت کا مشترکہ خواب اور جستجو رہی ہے اور چین کے صدر شی جن پھنگ نے اس بات کو ہمیشہ اجاگر کیا ہے کہ چھانگ عہ مشن، چین کے لیے ہی نہیں دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ہے۔
چین کا، اقوام متحدہ کو چاند کے نمونے پیش کرنا، شی جن پھنگ کے چار بڑے عالمی اقدامات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار ہے، جس میں اختراع، ہم آہنگی، پائیداری، کھلے پن اور تعاون پر مبنی ترقی کے اصولوں کے ساتھ ساتھ، حقیقی کثیر جہتی نظام کو مضبوط کرنا، خلائے بسیط کے پرامن استعمال کے لیے اقوام متحدہ کی کمیٹی کے اختیار و کردار کو گلوبل سپیس گورننس کے بنیادی پلیٹ فارم کے طور پر محفوظ رکھنا اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کی طرف پیش رفت کو تیز کرنا شامل ہیں۔ شان جونگ دہ نے مزید کہا کہ چین، خلائی دریافت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ بانٹنے، تعاون کی مواقع فراہم کرنے اور مشترکہ ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پرجوش ہے۔





