22 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 23 اگست 2026 کو، شمالی چین کے اندرون منگولیا کے شہر اوردوس کے ای جن حورو ہوائی اڈے پر، ین یو جین اور ان کے امریکی دوست، رونالڈ ساکولسکی 26 سال بعد ایک دوسرے سے دوبارہ ملے تو ان کی آنکھیں آنسووں سے بھر آئیں۔
1999میں جب ساکولسکی چین میں تدریس کر رہے تھے تو انہوں نے شجر کاری میں مدد کی خاطر ین یو جین کے لیے ایک فاؤنڈیشن کے ذریعے 5,000 ڈالر جمع کیے۔ اس رقم سے ین نے وہ پودے خریدے جن سے ماؤوسو کے ریتلے علاقے میں 50,000 سے زائد درختوں کا ایک جنگل اگایا گیا۔ برسوں تک اس دوستی نے بحر اوقیانوس کے پار سے امریکی شہر پیٹس برگ کے مضافاتی شہر پلم کو مضبوطی کے ساتھ، شمالی چین کے ریتلے علاقوں سے جوڑے رکھا۔
26 سال قبل جب وہ پہلی مرتبہ ین سے ملے تھے، اس وقت وہ ایک ایسے چھوٹے سے گھر میں رہتی تھیں جو ریت تلے دبتا جا رہا تھا۔ اس رقم کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے پنیریاں خریدوں اور انہیں ریت کے ٹیلوں میں اگانے کا آغاز کیا۔ آج وہ صحن جہاں صرف ریت تھی وہاں تربوز، سبزیاں اور دیگر غذائی اجناس اگتی ہیں اور اس سے باہر کا اجاڑ ریتلا علاقہ، چنار، چینی صنوبر، منگولیائی سکاچ صنوبر اور صحرائی برگد کا ایک ہرا بھرا جنگل بن چکا ہے۔ ساکولسکی کی یادوں میں ایک ریت کا میدان تھا لیکن نظروں کے سامنے، ایک سرسبز میدان تھا۔
یہاں، دونوں نے مل کر دوستی کی یادگار کے طور پر ایک نیا درخت لگایا ہے۔ ان کی دوستی اور یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ خلوص سے کیا گیا چھوٹا سا کام بھی مستقبل کے لیے بڑے فائدوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ساکولسکی کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو چین اور امریکا کے لیے مزید کام کرنا چاہیے کیونکہ ایک چھوٹی سی رقم بھی ایک بڑے جنگل میں تبدیل ہو سکتی ہے۔



