
مقامی وقت کے مطابق 23 ستمبر کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عام مباحثے سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات اور تعاون کے لیے تیار ہے، تاہم وہ طاقت، پابندیوں یا فوجی دھمکیوں کے ذریعے دباؤ ڈال کر رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن کی بنیاد انصاف، مساوات، وقار اور تمام ممالک کے مساوی حقوق پر ہونی چاہیے۔
ایرانی صدر نے زور دیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، اقتدار اعلی اور جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال کے حق کے تحفظ پر قائم ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی دفاعی صلاحیتیں بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم ضمانت ہیں۔صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے جوہری معاملے، اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے پر بعض ممالک کے "دوہرے معیار" پر تنقید کی۔ ان کے مطابق مسلسل قبضہ، جارحیت اور ناانصافی علاقائی تنازعات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ اور فوجی طاقت بین الاقوامی قانون، سفارت کاری اور سیاسی مذاکرات کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مشترکہ سلامتی کے حصول کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔



