پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کی عام بحث سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب عالمی معیشت کی اہم شاہراہیں ہیں اور انہیں ہر صورت کھلا رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنا راستہ منتخب کر لیا ہے، پاکستان محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، دباؤ کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا انتخاب کرتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام پاکستان اور پورے خطے کے لیے "زندگی کی لکیر" ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطل کرنے کا یکطرفہ فیصلہ قانونی بنیاد نہیں رکھتا، جبکہ بین الاقوامی قانونی نظام نے اس معاہدے کے برقرار رہنے کے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے حصے کے دریائی پانی کو روکنے، اس کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کے بہاؤ کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان کی جانب سے " جنگی اقدام" تصور کی جائے گی۔



