
8 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)5 اکتوبر کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں شروع ہونے والی 77ویں انٹرنیشنل ایسٹرو ناٹیکل کانگریس میں، چین کے پہلے خلا باز اور چائنا مینڈ سپیس پروگرام کے ڈپٹی چیف ڈیزائنر ، یانگ لی وے نے بتایا کہ چین میں زیرِ تربیت پاکستان کے دو بیک اپ خلا بازوں نے دورانِ تربیت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس وقت وہ چینی خلا بازوں کے ساتھ مل کر کوآرڈینیشن ٹریننگ لے رہے ہیں۔ منصوبے کے مطابق، ان میں سے ایک خلاباز پے لوڈ ماہر کے طور پر قلیل مدتی خلائی مشن سرانجام دے گا۔
یانگ لی وے نے مزید کہا کہ چین کا خلائی سٹیشن ، ایک ایسا تجرباتی پلیٹ فارم ہوگا جو دنیا بھر کے سائنسدانوں کے لیے کھلا ہوگا ۔مستقبل میں سائنسی تحقیق، خلا بازوں کی تربیت، پرواز کے مواقع فراہم کرنے اور سائنسی تعلیم و شعور عام کرنے جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ چین تمام ممالک کے ساتھ فعال تبادلے اور تعاون کا خواہاں ہے۔رپورٹس کے مطابق، چین کا خلائی اسٹیشن اس سال کے اواخر میں اپنے پہلے غیر ملکی خلا بازوں کا استقبال کرے گا۔
اس سال اپریل میں چائنا مینڈ اسپیس انجینئرنگ آفس نے غیر ملکی خلا بازوں کے انتخاب اور تربیت میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حتمی طور پر دو پاکستانی امیدوار، محمد ذیشان علی اور خرم داؤد کو چائنا مینڈ اسپیس پروگرام کے غیر ملکی خلا بازوں کے پہلے بیچ کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور وہ بیک اپ خلا بازوں کے طور پر تربیت حاصل کرنے کے لیے چین پہنچ چکے ہیں۔
21 ستمبر کو " FORGING AHEAD ON THE NEW JOURNEY " کے عنوان سے منعقدہ پریس میٹنگ میں ، یانگ لی وے نے ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو بتایا تھا کہ دونوں پاکستانی خلا باز ، چین کے خلابازوں کے تحقیقی و تربیتی مرکز میں چینی خلا بازوں کے ساتھ مشن کی مشترکہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مستقبل قریب میں، پاکستانی خلا باز چینی خلا بازوں کے ساتھ چین کے خلائی سٹیشن میں داخل ہوں گے۔



