
30 ستمبر 2026، قومی دن کی تعطیلات سے ایک روز قبل صوبہ جیانگ سو کے شہر نانجنگ میں مسافروں کی ایک بڑی تعداد چھٹیوں کے دوران دوسرے شہروں میں جانے کے لیے ریلوے سٹیشن پر موجود ہے۔(تصویر۔شنہوا)
8 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے قومی دن کی تعطیلات کے آغاز پر، اس وقت ایک نیا ریکارڈ بنا جب یکم اکتوبر کو 25.2 ملین مسافروں نے ریل کے ذریعے سفر کیا اور اس سے گزشتہ سال مئی کی تعطیلات میں 24.84 ملین مسافروں کے سفر کا ریکارڈ ٹوٹا۔ ایک ہی دن میں ریل کے ذریعے سفر کرنے والوں کی یہ تعداد، آسٹریلیا کی کل آبادی کے برابر ہے، تاہم چین میں اب یہ حیران کن بات نہیں رہی کیونکہ یہاں ایسے ریکارڈ بننا اب ایک معمول بن چکا ہے۔
یہ تعداد محض ریل گاڑیوں کی گنجائش کو ہی نہیں ظاہر کرتی بلکہ اس کا تعلق بڑے مقاصد کے حصول کی طرف طویل، مشکل راستے کو اختیار کرنے اور یہ فیصلہ کرنے سے ہے کہ ہم کس قسم کا ملک بنانا چاہتے ہیں۔ بنیادی طور پر 1.4 بلین لوگوں کو "اپ ڈیٹ" کرنا 10 ملین کی آبادی کا بندوبست کرنے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ چند بڑے شہروں کے درمیان محدود تعداد میں ٹرین لائنز بچھا دینے سے کام نہیں چلتا اس کے لیے ایک مکمل، جامع اور مربوط نظام درکار ہوتا ہے اور چین نے یہی کیا۔ چین نے دنیا کا سب سے بڑا ہائی اسپیڈ ریلوے نیٹ ورک بنایا ہے جس میں 48,000 کلومیٹر کا ٹریک شامل ہے، جو عالمی ہائی اسپیڈ ریلوے انفراسٹرکچر کا دو تہائی ہے۔
اس سے پہلے کہ لوگوں کو کسی چیز کی شدید ضرورت پڑتی، بہت سی چیزوں کی منصوبہ بندی کئی دہائیوں پہلے ہی کر دی گئی تھی اور ریاست کی جانب سے مالی اعانت بھی مہیا کی گئی تھی۔
کیا یہ درست فیصلہ تھا؟
ہم اگر آج کی صورتِ حال پر نظر ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ کام کرنے والے لوگ طویل فاصلے کے باوجود آسانی سے، ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں، چھوٹے شہروں کے کاروبار بڑے شہروں کے ساتھ خرید و فروخت کر سکتے ہیں اور خاندان، آسانی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ایک ملازمت کرنے والا شخص ایک چھوٹے، سستے شہر میں رہتے ہوئے بھی ایک بڑے شہر میں کام کر سکتا ہے، ایک دادی بجائے اس کے کہ اپنے پوتے پوتیوں سے سال میں صرف ایک بار ملے، ہر ویک اینڈ پر ملاقات کر سکتی ہے یعنی کہ فاصلہ، جو کبھی خاندانوں کو الگ کرتا تھا اور مواقع کو محدود کرتا تھا، اب کم ہو رہا ہے۔ ریل گاڑی کے ذریعے ایک ہی دن میں 25 ملین لوگوں کا سفر کرنا، ایک کامیاب طویل مدتی منصوبہ بندی کا عملی ثبوت ہے۔
لوگ اکثر ایک چیز نظر انداز کر دیتے ہیں اور وہ یہ کہ ریلوے ٹریک بذاتِ خود 25 ملین لوگوں کو نہیں لے جاتے بلکہ ان پر چلنے والی ریل گاڑیوں کی منصوبہ بندی، بوقتِ ضرورت مزید ریل گاڑیوں کو شامل کرنا یونٹس کو آپس میں منسلک کرنا تاکہ زیادہ مسافر سوار ہو سکیں اور ٹکٹس کی فروخت کے اعداد و شمار سے مصروف اوقات کی پیش گوئی کا استعمال، یہ سب مل کر کامیابی کی وجہ بنتے ہیں جو کہ بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے ساتھ ساتھ سمارٹ شیڈولنگ سے ممکن ہوتی ہے۔
کیا یہ سستا پڑتا ہے؟
ٹکٹس کی قیمتیں بلا شبہ سست رفتار سبز ٹرین کے دور کی نسبت زیادہ ہیں، لیکن نظام میں لوگوں کے لیے انتخاب کی سہولت بھی ہے، جیسے کہ پریمیم بلٹ ٹرین سے لے کر سستی، کم رفتار ٹرین تک لاکھوں لوگوں کے لیے، ریلوے سفر ایک سالانہ مشقت سے بڑھ کر معمولاتِ زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے۔
یہ "چینی طرزِ جدیدیت" کی اصطلاح کی یاد دلاتا ہے، جو ایک ایسی ملک کی تصویر پیش کرتی ہے جس نے 1.4 ارب لوگوں کے لیے نقل و حرکت کو "پبلک انفراسٹرکچر" کے طور پر دیکھا، کئی دہائیوں میں اس کی منصوبہ بندی کی اور طلب بڑھنے سے پہلے تعمیر کے اخراجات کو منظور کیا۔
اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کیا چین کا ماڈل "بہتر" ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آج ہم ایسا کیا بنا رہے ہیں جس کا فائدہ 2050 میں، ہمارے بچوں کے بچے بھی اٹھائیں گے۔



