
اورنج لائن میٹرو ٹرین کی خاتون ڈرائیور ندا صالح کیبن میں آلات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ (شنہوا - احمد کمال)
9 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)صاف ستھری وردی پہنے، جدید ترین سہولیات سے لیس اورنج لائن میٹرو ٹرین کے کیبن میں داخل ہوکر، اپنی ڈیوٹی کا آغاز کرنے کے لیے پرجوش ندا صالح کہتی ہیں کہ انہوں نے جب سے کام کا آغاز کیا تھا تب سے میٹرو چلانا ان کا خواب تھا۔ کئی سال گزرنے کے بعد، آخرِ کار ان کا خواب سچ ہوا اور وہ پاکستان کی پہلی خاتون میٹرو ڈرائیور بن گئیں۔
اورنج لائن میٹرو ٹرین آپریشن اینڈ مینٹیننس پراجیکٹ کے جنرل منیجر، تھان زی دونگ نے بتایا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین، چائنا ریلوے اور چائنا نارتھ انڈسٹریز کارپوریشن کے اشتراک سے تعمیر کی گئی ہے۔ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں چلنے والی یہ میٹرو ٹرین، چین-پاکستان اقتصادی راہداری فریم ورک کے تحت پاکستان کی پہلی جدید ریلوے ٹرانزٹ لائن ہے۔
اورنج لائن میٹرو ٹرین آپریشن اینڈ مینٹیننس پروجیکٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر، وانگ زی وین بتاتے ہیں کہ ابتدا میں، ندا صالح اورنج لائن میٹرو ٹرین کی ٹرینی انجینئر تھیں۔ تجربہ کار چینی میٹرو ڈرائیورز کی نگرانی میں تربیت پانے کے بعد، ندا سخت جانچ کے متعدد مراحل سے گزریں، آخرِ کار ان کی خواہش پوری ہوئی اور وہ میٹرو ڈرائیور بن گئیں۔
ندا کے مطابق وہ چاہتی تھیں کہ ایسے پیشے کا انتخاب کریں جو ان کی پسند کا ہو تاکہ وہ کام کے دوران اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر سکیں۔ میٹرو ڈرائیور کا یہ کام انہیں بے حد خوشی کا احساس دیتا ہے اور ان کے والدین بھی مزید آگے بڑھنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ندا کا ماننا ہے کہ ان کی کامیابی، چینی نگرانوں اور تربیت دینے والوں کی محنت کے بغیر ممکن نہیں تھی کیونکہ انہی کی تربیت میں ندا نے عالمی معیار کی تکنیکی معلومات اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار سیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے، چین-پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں کے ذریعے پاکستانی خواتین کے لیے پیشہ ورانہ ترقی کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جو چین اور پاکستان کی عظیم دوستی کا عملی اظہار ہے۔
ندا صالح کی اس مثال نے ان جیسی مزید نوجوان خواتین کو ریل ٹرانزٹ کے شعبے کی جانب مائل کیا ہے۔ وانگ زی وین کا کہنا ہے کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین میں ڈرائیورز کی بھرتی کے وقت 120 سے زائد خواتین نے درخواستیں دیں، جن میں سے 4 منتخب کی گئیں جو تربیت اور جانچ کے بعد آج باضابطہ طور پر ٹرینز چلا رہی ہیں۔
ایسی ہی پر عزم اور پرجوش نوجوان خاتون، 25 سالہ حجاب عزیز ہیں۔ حجاب کہتی ہیں کہ میٹرو آپریشن میں ہنگامی حالات سے نمٹنا ان کی تربیت کے دوران سب سے بڑا چیلنج تھا۔ آغاز میں تھوڑی گھبراہٹ تھی، لیکن چینی سینئرز اور ساتھیوں نے حفاظتی ضوابط اور خرابیوں سے نمٹنے کے طریقہ کار اتنی عمدگی سے سمجھائے کہ وہ پہلے کی نسبت بے حد پرسکون انداز میں ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوئیں اور اب وہ ایک قابل میٹرو ڈرائیور بن چکی ہیں۔
اورنج لائن میٹرو ٹرین، لاہور میں شہری ذرائع آمد و رفت کا ایک اہم ستون ہے، جو شہریوں کے روزمرہ معمولات میں سفر کی آسانی اور معاشی سرگرمیوں کو یقینی بناتی ہے۔ حجاب کے مطابق، میٹرو ٹرین چلاتے ہوئے مسافروں کو شہر کے مختلف حصوں میں تعلیمی اداروں، دفاتر اور خریداری کے لیے پہنچانا انہیں ان کی ذمہ داری اور فرض کا احساس دلاتا ہے اور انہیں اس پر بے حد فخر ہے۔
تھان زی دونگ کے خیال میں پاکستانی خواتین کام میں جزئیات کا بے حد خیال رکھنے والی اور موقعے کی مناسبت سے ڈھل جانے والی ہوتی ہیں۔ مناسب رہنمائی سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بیدار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ مستقبل میں مزید خواتین انجینئرز اور ڈسپیچرز وغیرہ کو بھرتی کیا جائے تاکہ وہ میٹرو ٹرین کے آپریشن میں شامل ہو سکیں اور ان کے لیے مزید پیشہ ورانہ اختیارات فراہم کیے جا سکیں۔
صوبہ پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ، بلال اکبر خان نے بتایا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ، خواتین کی ملازمت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے، جس سے وہ اپنے پیشہ ورانہ خواب پورے کرنے کے ساتھ ساتھ، اپنی ذات کی اہمیت اور قدر میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے اہم کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ خواتین کو کام کی جگہ پر مہارت حاصل کرنے میں مدد دی جائے اور چینی ادارے اس سلسلے میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔
تھان زی دونگ کے مطابق، اس وقت اورنج لائن میٹرو ٹرین پر مسافروں کی اوسط تعداد 260,000 یومیہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ منصوبہ مقامی معیشت کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، اورنج لائن میٹرو ٹرین کے آغاز سے اس کے راستے پر موجود دکانیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ چینی معیار کے استعمال سے پرزہ جات بنانے والی ڈاون سٹریم کمپنیز کو بھی بڑی تعداد میں آرڈرز ملے ہیں۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین پر تربیت حاصل کرنے والے کچھ پاکستانی ملازمین آج بیرون ملک بھی کام کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کو قابل قدر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ تمام مثالیں واضح طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے ذریعے مقامی لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی عکاس ہیں۔

اورنج لائن میٹرو ٹرین کی خاتون ڈرائیور ندا صالح، میٹرو ٹرین کیبن میں داخل ہو رہی ہیں۔ (شنہوا - احمد کمال)

اورنج لائن میٹرو ٹرین کی خاتون ڈرائیور ندا صالح، میٹرو ٹرین کے اندرونی حصے کا حفاظتی معائنہ کر رہی ہیں۔ (شنہوا -احمد کمال)

اورنج لائن میٹرو ٹرین، سفر کے آغاز سے قبل ریلوے گیراج میں کھڑی ہے۔ (شنہوا - احمد کمال)



