27 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)26 اکتوبر کو پاک- چائنا فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں چین- پاکستان اطلاعاتی راہداری (سی پی آئی سی) کے باضابطہ آغاز کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔اس پلیٹ فارم کا مقصد ذرائع ابلاغ کے شعبے میں تعاون، کاروباری روابط، تحقیق اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دینا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے محکمہ اطلاعات کی ڈائریکٹر جنرل اور ترجمان، ماؤ نِنگ تقریب سے خطاب کر رہی ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ یہ راہداری، دوطرفہ تعاون کی کہانیاں مزید مؤثر انداز میں پیش کرتے ہوئے باہمی افہام و تفہیم اور چین- پاکستان دوستی کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔ گمراہ کن معلومات کے تدارک کے لیے اس کے آغاز کو بروقت اور ضروری قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پہلے سے ہی شاہراہ قراقرم موجود ہے، جو ہمارے پہاڑوں اور علاقوں کو باہم منسلک کرتی ہے ، سی پی آئی سی کے ذریعے ہم ایک ڈیجیٹل شاہراہ بنائیں گے جو ہمارے دلوں اور ذہنوں کو جوڑے گی۔
تعاون کی کہانیوں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ماؤ ننگ نے پاک- چین اقتصادی راہداری کے تحت، اورنج لائن میٹرو بس کی پہلی خاتون ڈرائیور ، 26 سالہ ندا کی مثال دی اور اسے ”عام لوگوں کی ایک غیر معمولی کہانی“ قرار دیا۔ ندا کے لیے اس کام کی خاص بات بے خوف ہو کر اپنی صلاحیتیں دکھانا ہے ۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سی پیک پاکستانی خواتین کے لیے مزید مواقع پیدا کرے گا۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ تقریبِ افتتاح سے خطاب کر رہے ہیں۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ،عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ راہداری چار بنیادی شعبوں یعنی ذرائع ابلاغ، تجارت و کاروبار، تھنک ٹینکس نیز ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں سے متعلق سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات میں اس کے لیے ایک الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خبروں کے تبادلے کے لیے قائم ورکنگ گروپ میں پیپلز ڈیلی سمیت، پاکستان اور چین کے 18 میڈیا ادارے شامل ہیں، جو ایک دوسرے کو تصدیق شدہ خبریں فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ ،حقائق کی جانچ پڑتال کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ تارڑ کے مطابق، تجارت و کاروبار کے شعبے کے تحت کراچی میں ایک علاقائی دفتر کھولا گیا ہے، جب کہ تجارت اور سرمایہ کاری کی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے ایک تجارتی پورٹل تیار کیا جا رہا ہے۔ تھنک ٹینکس کے باہمی تعاون سے پاکستانی اور چینی ادارے مشترکہ مکالمے، تحقیق اور اشاعتی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ چین کے شمال مغرب میں واقع سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے اور گلگت بلتستان کو ملانے والی سیاحتی راہداری پر بھی کام جاری ہے۔ ملک بھر کی 13 جامعات سے سی پی آئی سی کے نوجوان سفیر بھی نامزد کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک ہماری معیشتوں کو جوڑتا ہے جب کہ سی پی آئی سی باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دے گا۔

پاکستان میں چین کے سفیر ، جیانگ زائی دونگ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ نے کہا کہ یہ راہداری، دونوں ممالک کے عملی تعاون کے لیے عوامی حمایت مضبوط بنائے گی۔ اس سے نئے دور میں قریب تر چین -پاک مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تعمیر کو بھی تقویت ملے گی نیز یہ دونوں ممالک کو اپنی ترقی اور مشترکہ پیش رفت کی کہانیاں بیان کرنے کے لیے زیادہ مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

تقریب میں تقریباً 600 افراد نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، سفارت کار، سابق سفرا، کاروباری شخصیات، میڈیا اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں کے علاوہ طلبہ اور نوجوان بھی شامل تھے۔
دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے، تقریب میں پاکستانی اور چینی ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے گئے۔

چین اور پاکستان کے نمائندے ، چین- پاکستان اطلاعاتی راہداری (سی پی آئی سی)کا افتتاح کر رہے ہیں۔



