
اسلام آباد میں ، چینی سفارت خانے اور انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے اشتراک سے پارٹی سازی سے متعلق شی جن پھنگ کے نظریات اور طرزِ حکمرانی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے شرکا خطاب کررہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن)
3 نومبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)پیر کو اسلام آباد میں پاک -چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ، چینی سفارت خانے اور انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے اشتراک سے پارٹی سازی سے متعلق شی جن پھنگ کے نظریات اور طرزِ حکمرانی کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں سفارت کاروں، سرکاری حکام، پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں اور تھنک ٹینکس کے نمائندگان نے شرکت کی۔
تقریب کے شرکا اور مقررین نے ، پاکستان اور چین کے درمیان طرزِ حکمرانی اور سیاسی جماعتوں کی تنظیم سازی کے تجربات کا تبادلہ بڑھانے پر زور دیا اور اداروں کی مضبوطی، عوامی فلاح پر مبنی ترقی اور عملی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

لیو ہائی شنگ ،جماعتی و ریاستی نظم و نسق سے متعلق پاک- چین تحقیقاتی مرکز کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کررہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن)
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقومی شعبے کے وزیر لیو ہائی شنگ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے چین کو سمجھنے کے لیے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا، بالخصوص پارٹی سازی سے متعلق شی جن پھنگ کے نظریات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا دوسرے ممالک کی سیاسی جماعتوں کے قیمتی تجربات سے استفادہ کرتی ہے اور تنظیم سازی کے تجربات سے باہمی طور پر سیکھنے کی خواہاں ہے۔
لیو ہائی شنگ نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتوں کی تنظیم سازی کا ایسا کوئی ماڈل نہیں ہے جو ہر جگہ یکساں طور پر قابلِ عمل ہو کیونکہ ہر ملک اور اس کی سیاسی جماعتوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین، اپنا ماڈل برآمد نہیں کرتا اور نہ ہی دوسروں سے کہتا ہے کہ وہ ہمارے تجربات کی ہو بہو نقل کریں۔

اسلام آباد میں ،پاکستان اور چین کے سرکاری عہدے داران ،جماعتی و ریاستی نظم و نسق سے متعلق پاک- چین تحقیقاتی مرکز کا افتتاح کر رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی آن لائن)
اس سے قبل یکم نومبر کو اسلام آباد میں ، جماعتی و ریاستی نظم و نسق سے متعلق پاک- چین تحقیقاتی مرکز کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے لیو ہائی شنگ نے امید ظاہر کی کہ یہ مرکز ،دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں کو جماعت سازی سے متعلق شی جن پھنگ کے نظریات کے مطالعے اور جماعتی و ریاستی نظم و نسق کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
مرکز کے افتتاح کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی پیغام میں اداروں کو مضبوط بنانے، بدعنوانی کے خلاف جدوجہد اور عوامی فلاح پر مبنی طرزِ حکمرانی کے حوالے سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے تجربات کو سراہتے ہوئے کہا کہ گلوبل ساؤتھ کی سیاسی جماعتیں، جو اپنے اپنے راستے متعین کر رہی ہیں، ان تجربات سے عوامی اعتماد، ادارہ جاتی صلاحیت اور پائیدار طرزِ حکمرانی کے فروغ کے بارے میں قابلِ قدر رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔
وزیراعظم نے مشترکہ ورکشاپس اور سیاسی قیادت کی تربیت و تبادلے کے پروگرامز کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون بڑھانے میں پاکستان کی دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں میں حکمرانی کی صلاحیت بہتر بنانے، عوامی پالیسیز پر عمل درآمد اور مقامی سطح پر عوام سے رابطے بڑھانے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چین- پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے، کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے مابین روابط سے اتحاد کو فروغ ملنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ان روابط کو صنعت، زراعت، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور ماحول دوست توانائی کے شعبوں میں پیش رفت کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔شہباز شریف نے تزویراتی باہمی اعتماد کو مزید مضبوط کرنے اور نئے دور میں زیادہ قریبی پاک -چین مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنے تہنیتی پیغام میں، دوطرفہ تعلقات کی مضبوط سیاسی بنیاد کو معاشی ثمرات میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اس غیر معمولی سیاسی خیرسگالی کو ، تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی تعاون کے فروغ اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے ٹھوس معاشی مواقع میں تبدیل کریں۔
صدر زرداری نے سی پیک کے اگلے مرحلے کے لیے صنعتی ترقی، زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ٹیکنالوجی میں جدت، رابطوں کے فروغ اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے ان مقاصد کے حصول کے لیے پالیسیز کے تسلسل اور اداروں کے مابین مؤثر ہم آہنگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اداروں کی مضبوطی، عوامی خدمات میں بہتری اور احتساب کے فروغ کے لیے طرزِ حکمرانی کے تجربات کے باقاعدہ تبادلوں پر زور دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام ممالک بالخصوص ہمارے خطے کے ممالک کے مابین، باقاعدگی سے پارٹی سازی اور ریاستی طرزِ حکمرانی کے تجربات کا تبادلہ ہونا چاہیے۔اسحاق ڈار نے طرزِ حکمرانی، غربت کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے شعبوں میں تھنک ٹینکس، جامعات اور تربیتی اداروں کے مابین تعاون بڑھانے اور نوجوانوں کی شرکت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
تقریب میں دیگر ممالک کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ویڈیو پیغامات بھی پیش کیے گئے، جن میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی تنظیم سازی اور طرزِ حکمرانی کے تجربات پر خیالات کا اظہار کیا گیا۔

اسلام آباد میں چینی سفارت خانے اور انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد کے اشتراک سے پارٹی سازی سے متعلق شی جن پھنگ کے نظریات اور طرزِ حکمرانی کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن)



