• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    ماؤنٹ تھائی، چینی روبوٹس کی کارکردگی کا ایک کڑا امتحان

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-11-05

    2 نومبر کو شان دونگ کے شہر تھائی آن میں، روبوٹس کے تھائی شان پہاڑ پر چڑھنے کے پہلے عالمی روبوٹ مقابلے میں ایک روبوٹ سامان اٹھا کر پہاڑ پر چڑھ رہا ہے۔ (شنہوا۔ جو جینگ)

    2 نومبر کو شان دونگ کے شہر تھائی آن میں، روبوٹس کے تھائی شان پہاڑ پر چڑھنے کے پہلے عالمی روبوٹ مقابلے میں ایک روبوٹ سامان اٹھا کر پہاڑ پر چڑھ رہا ہے۔ (شنہوا۔ جو جینگ)

    5 نومبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)2 نومبر کو شان دونگ کے شہر تھائی آن میں، روبوٹس کے تھائی شان پہاڑ پر چڑھنے کے پہلے عالمی روبوٹ مقابلے میں تقریباً 90 ٹیموں نے شرکت کی۔ اس مقابلے نے تھائی شان پہاڑ کے قدیم راستے کو جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں تبدیل کر دیا اور روبوٹس نے پہاڑوں کے حقیقی ماحول میں مقابلہ کیا۔

    اس مقابلے کے دوران روبوٹ کتے، انڈے، انسٹینٹ نوڈلز اور پانی کی بوتلیں لے کر، 3.9 کلومیٹر کے ایک مشکل پہاڑی راستے پر چڑھے۔ اس راستے پر عمودی چڑھائی اور کھردُرے، ناہموار پتھروں سے بنی 3,100 سے زیادہ سیڑھیاں تھیں۔ مقابلے میں چین بھر کی کمپنیوں، جامعات اور تحقیقاتی ٹیموں نے شرکت کی۔ یہ چیلنجنگ چڑھائی بھی روبوٹکس مقابلے کا حصہ تھی جس سے ڈویلپرز کو، حقیقی دنیا کے چیلنجنگ ماحول میں اپنی ٹیکنالوجیز کو جانچنے اور روزمرہ زندگی میں ان کے ممکنہ اطلاق و استعمال پر تحقیق کرنے کا موقع ملا۔ مقابلے میں چڑھنے کی رفتار اور ممکنہ طور پر ٹوٹنے والی اشیاء مثلاً انڈے اور تربوز لے جانے کی صلاحیت کا اندازہ لگایا گیا نیز اگر سامان میں کسی بھی چیز کو نقصان پہنچتا تو پوائنٹس میں کمی کی جاتی تھی۔

    اس پہاڑی راستے پر، سیاحوں کا سامان ڈھونے کا کام پہلے سے ہی انسان کر رہے تھے تاہم اب، روبوٹ کتے سامان کو اوپر لے جانے اور پہاڑ پر سے کوڑا کرکٹ نیچے لانے کا کام کر رہے ہیں لیکن یہ زمین ابھی بھی روبوٹس کے لیے ایک مشکل میدان ہے۔ یونیٹری روبوٹکس کے مارکیٹنگ منیجر، چھین شی یون کا کہنا ہے کہ سیڑھیوں کی اونچائی اور چوڑائی ہر جگہ مختلف ہوتی ہے اور بارش کے بعد پھسلن انہیں مزید دشوار بنا دیتی ہے۔ عمودی ڈھلوانیں اور لوگوں کا ہجوم اس چیلنج میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے یہ روبوٹ، پہاڑ کے حقیقی ماحول کو استعمال کے لیے ایک بہترین جگہ بناتے ہیں۔

    2 نومبر کو شان دونگ کے شہر تھائی آن میں، روبوٹس کے تھائی شان پہاڑ پر چڑھنے کے پہلے عالمی روبوٹ مقابلے میں ایک بار بردار روبوٹ پتھریلے راستے پر چل رہا ہے۔ (شنہوا۔ شو شوحوئی)

    2 نومبر کو شان دونگ کے شہر تھائی آن میں، روبوٹس کے تھائی شان پہاڑ پر چڑھنے کے پہلے عالمی روبوٹ مقابلے میں ایک بار بردار روبوٹ پتھریلے راستے پر چل رہا ہے۔ (شنہوا۔ شو شوحوئی)

    ایک طرف جب، بھاری بوجھ اٹھانے کے لیے ان روبوٹک ڈاگز کو آزمایا جا رہا ہے وہیں، "ویئر ایبل روبوٹس" چلنے پھرنے میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ مقابلے میں، ایکسو سکیلیٹن کی مدد سے چڑھائی کا ایونٹ بھی شامل تھا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ پہنے جانے والے آلات، چڑھائی کے لیے درکار جسمانی مشقت کو کس حد تک کم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کی ٹیکنالوجی بحالی، تفریح اور جسمانی ورزش میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔

    مشرقی چین کے صوبے آنہوئی کی کمپنی، MileBot کے تیار کردہ ایکسو سکیلیٹن کا وزن بغیر بیٹری کے صرف 1.8 کلوگرام جب کہ بیٹری کے ساتھ تقریباً 2 کلوگرام ہے۔ کمپنی نے ابتدائی طور پر طبی آلات تیار کیے تھے اور اس کی ایکسو سکیلیٹن مصنوعات کئی ہسپتالوں میں نچلے دھڑ کی بحالی کے لیے استعمال کی گئی ہیں۔ اس کے بعد سے یہ کمپنی، صنعتی روبوٹکس اور پہننے کے قابل سمارٹ آلات میں بھی توسیع کر چکی ہے۔

    کمپنی کے مشرقی چین کے علاقائی مینیجر، دائی حوئی کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس چلنے کے مختلف انداز اور رفتار کو پہچان سکتی ہے، جن میں بزرگ افراد کے چھوٹے قدم اٹھا کر چلنے کا انداز بھی شامل ہے اور ڈیوائس اسی حساب سے معاونت کرتی ہے۔ اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ فالج کے بعد جزوی طور پر مفلوج لوگوں کے چلنے کے انداز کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

    چین اپنے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے تحت ایسی ایپلیکیشنز کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کے انفارمیشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ کے نائب صدر لیو وین چھیانگ نے کہا کہ حقیقی ماحول میں روبوٹ کی جانچ کرنے سے تیار کنندگان کو اپنی مصنوعات کو بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا جمع کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اور یہاں سے جمع کردہ ڈیٹا بھی ڈویلپرز کو روبوٹس کو دیگر کاموں کے لیے تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    Universal Ubiquitous AI Co., Ltd کے برینڈ سٹریٹجی ایگزیکٹو، وانگ یانی کے مطابق، یہ ڈیٹا مستقبل کی ایپلیکیشنز جیسے بجلی کی تنصیبات و سہولیات کی جانچ، سکیورٹی پیٹرول اور ایمرجنسی ریسکیو آپریشنز میں مدد کر سکتا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان