6 نومبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)"میں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر، ذاتی زندگی اور جو کچھ بھی میں اس وقت کر رہا ہوں، سب کچھ پاک - چین تعلقات کے فروغ کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔"
پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر سی پیک کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر، پاکستان کے ادارہ برائے پائیدار ترقیاتی پالیسی (SDPI) اور بیلٹ اینڈ روڈ اینڈ گلوبل گورننس کے ریجنل سٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ,حسان داؤد بٹ نے پیپلز ڈیلی آن لائن کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے چین کے ساتھ اپنی وابستگی کے آغاز اور سی پیک کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے اپنے تجربات پر روشنی ڈالی۔
2008 میں حسان بٹ نے بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے میں اپنی خدمات کا آغاز کیا اور یہیں سے ان کی چین کے ساتھ ایک گہری وابستگی کا آغاز ہوا۔ اپنے ان 4 سالوں کلے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسان داود کا کہنا تھا کہ "وہ وقت میرے اور میرے خاندان کے لیے بہت یادگار تھا۔" چین میں قیام کے دوران چینی عوام کے نظم و ضبط اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے چینی حکومت اور قیادت کی مسلسل کوششوں نے ان سب کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا۔
چین کے ساتھ ان کی یہ وابستگی بعد ازاں سی پیک کے منصوبوں سے بھی منسلک ہو گئی۔ 2013 میں چین -پاکستان اقتصادی راہداری کا آغاز ہوا۔ حسان داؤد بٹ وطن واپس آئے اور سی پیک کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے متعلقہ منصوبوں کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں دونوں ممالک نے سڑکوں، بجلی، انٹرنیٹ اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں اہم کام کیے۔ ان کے نزدیک سی پیک نہ صرف پاکستان کی معاشی تبدیلی میں مددگار ثابت ہو ا ہے بلکہ عالمی برادری کو پاکستان کی ترقی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
سی پیک کے اپ گریڈ ڈ مرحلے، سی پیک 2.0، کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے حسان داؤد بٹ نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی آنے والے برسوں میں ترقی کی اہم محرک قوتیں ہوں گی، جب کہ زراعت، کان کنی اور سیاحت جیسے شعبے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع فراہم کریں گے۔
چین میں بطور سفارت کار خدمات انجام دینے سے لے کر سی پیک کی تعمیر و ترقی میں عملی شرکت تک، حسان داؤد بٹ کا چین سے تعلق ذاتی دوستی سے آگے بڑھ کر عملی تعاون تک پہنچ چکا ہے۔ پاک چین دوستی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو بیان کرنے کے لیے Win-win یعنی باہمی مفاد اور مشترکہ کامیابی کا لفظ منتخب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ، "دو ہمسایہ ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور مشترکہ ترقی کی مثال دینی ہو تو پاک- چین تعلقات سے بہتر مثال مجھے دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔"



