6جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)سائنسی انداز میں تشکیل دیئے گئے پانچ سالہ منصوبے اور ان کے نفاذ کا تسلسل ،کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے لیے ملک کے انتظام و انصرام کو سنبھالنے کا ایک اہم ذریعہ اور بین الاقوامی برادری کے لیے چینی جدیدیت کے راستے کو بہتر طور پر جاننے اور سمجھنے کا اہم دریچہ ہیں۔
پیپلز ڈیلی آن لائن نے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے حوالے سے ، پروگرامز کے ایک نئے سلسلے ، "انڈر سٹینڈ چائنا" کا آغاز کیا ہے ۔ اس میں چین کی ترقیاتی منصوبہ بندی، مواقع اور حکمرانی کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کا مقصد غلط فہمیاں دور کرنا ،باہمی سمجھ بوجھ کو بڑھانا اور اس کی توثیق کرنا ہے۔
"انڈر سٹینڈ چائنا " کی اس قسط میں، یونیورسٹی آف انٹرنیشنل بزنس اینڈ اکنامکس کے پروفیسر گونگ جیونگ نے 2012 میں شنگھائی میگنولیا سلور ایوارڈ حاصل کر نے والے ،ڈیوک کھونشان یونیورسٹی کے ایگزیکٹو وائس چانسلر جان کوئلچ کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ دونوں شخصیات نے اپنے گفتگو کے ذریعے ، چین کی ترقیاتی سمت اور اگلے پانچ سالوں کے بڑے اہداف کا تفصیلی تجزیہ فراہم کیا ہے۔ چین کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں بیرونی خدشات کے جواب میں دونوں محققین نے چین کی حکمت عملی کو واضح کیا نیز چین اور امریکاکے درمیان ہم آہنگی و تعمیری تعلقات قائم کرنے کے راستوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
جان کوئلچ کے مطابق، چین میں منصوبہ بندی کا عمل ہمیشہ سے ملک کی کامیابی کا اہم جزو رہا ہے ۔ یہ منصوبے چین کے ترقیاتی لائحہ عمل اور اہداف کو واضح طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس سے چین کے ترقیاتی سفر میں شفافیت اور اعلیٰ سطحی کھلے پن کی عکاسی ہوتی ہے۔
"چین خود کو بند کر رہا ہے" کے بین الاقوامی بیانیے کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر گونگ جیونگ کا کہنا ہے کہ چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے،دنیا کا سب سے بڑے برآمد کنندہ کھلا نہ ہو،یہ کیسے ممکن ہے؟ہم تو اس بات کے متحمل ہی نہیں ہوسکتے ہیں۔ گونگ نے مزید کہا کہ کہ چین کو 'گنجائش سے زیادہ پیداواری صلاحیت ' کا سامنا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ بالآخر عالمی مارکیٹ کرے گی۔
جان کوئلچ کی رائے میں ، چین کا مقامی طلب پر مبنی اقتصادی ماڈل ، عالمگیریت سے تنہائی کی جانب منتقل ہونے کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک 'متوازی حکمت عملی' ہے جس کے تحت صارفین کی کھپت کو بڑھایا جا رہا ہے اور مقامی طلب کو وسعت دی جا رہی ہے۔ چین اب بھی بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اداروں کے 'عالمی سطح پر جانے' کی حمایت کرتا ہے اور بین الاقوامی تعاون کو گہرا کرتا ہے۔
چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جان کوئلچ کا کہنا ہے کہ امریکا کو چین کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے ٹیرف کی رکاوٹوں اور برآمدات پر کنٹرول کی بجائے اپنی صلاحیت پر زیادہ اعتماد ہونا چاہیے۔ساتھ ہی ساتھ ، چین کو بھی اپنی تمام کامیابیوں کے پیش نظر، امریکا کے ساتھ مسابقت کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کے بارے میں زیادہ پر اعتماد ہونا چاہیے ۔
گونگ جیونگ نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے دونوں ممالک کو بات چیت کو مضبوط کرنے، فکری تعصبات میں کمی لانے اور عالمی اقتصادی تعاون و ترقی کے لیے مل کر مزید مواقع پیدا کرنے کی تجویز دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ایک منصفانہ، شفاف اور پرامن مسابقت ہوگی ۔



