3فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)حالیہ دنوں ، پیپلز ڈیلی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے سینیٹر اور سابق نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ چین پاکستان کے لیے بہت اہم ہے اور اس کی وجہ ، باہمی تعاون کی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کی روایتی دوستی بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ متعدد بار چین کا دورہ کر چکے ہیں اور کئی برسوں سے پاک چین دوستی کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں، اس لیے وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ پاک- چین تعاون ،پاکستان کی ترقی کے لیے کتنا اہم ہے۔

نومبر 2023 ۔ دبئی میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی اٹھائیسویں کانفرنس (COP 28) میں پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم کی حیثیت سے شریک انوار الحق کاکڑ۔(تصویر: انٹرویو دینے والے کی جانب سے فراہم کردہ)
اکتوبر 2023 میں، انوار الحق کاکڑ نے نگراں وزیرِ اعظم کی حیثیت سے چین کا دورہ کیا اور تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ بین الاقوامی تعاون فورم میں شرکت کی، جہاں انہوں نے رابطہ ساز ی کے اعلیٰ سطحی فورم سے خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے عالمی سطح پر رابطہ سازی کو فروغ دینے میں"بیلٹ اینڈ روڈ" کےاہم کردار کو سراہا نیز پاکستان اور چین کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک کے مابین باہمی مفادات پر مبنی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ ترقی کے حصول کی امید ظاہر کی۔ اپنے اںٹرویو میں بھی انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو کے ایک اہم ابتدائی نمائشی منصوبے کے طور پر، چین- پاک اقتصادی راہداری کی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کی معیشت، معاشرت اور عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس منصوبے نے نہ صرف پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، عوامی فلاح، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کی ترقی کو فروغ دیا ہے بلکہ پاکستانی عوام کے دلوں میں پاک -چین دوستی کو ایک بار پھر مضبوط کیا ہے۔
نگران وزیرِ اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد، انوار الحق کا کڑ نے سینیٹر کے طور پر خدمات جاری رکھیں اور تجارتی معلومات، مالیات اور ٹیکس پالیسی سمیت متعدد شعبوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ 2024 اور 2025 میں، انہوں نے بالترتیب پاکستان اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیویلپمنٹ تھنک ٹینک اور پاکستان ایمرجنگ پالیسی اینڈ نالج تھنک ٹینک کی بنیاد رکھی۔ان کاکہنا ہے کہ وہ کسی بھی منصب پر ہوں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے تجربات سے اپنے ملک اور پاک -چین دوستی کو فائدہ پہنچائیں ۔ نگران وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی وہ چار مرتبہ چین کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے چائنا انٹرنیشنل انویسٹمنٹ پروموشن ایسوسی ایشن، فودان یونیورسٹی، پیجنگ یونیورسٹی اور دیگر اداروں کا دورہ کیا، تاکہ تجارت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے قریبی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
انوار الحق نے چین کے دوروں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر 2023 کا دورہِ چین، پاک چین دوستی کے لیے ان کی عملی وابستگی کا نقطۂ آغاز تھا۔ پاک -چین سفارتی تعلقات کے آغاز کے بعد سے ، خاص طور پر گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں، دونوں ممالک کے تعاون نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سی پیک اس سلسلے میں ایک مثالی منصوبہ ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے آبائی صوبے بلوچستان کی مثال دی جہاں ، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی بدولت توانائی کی فراہمی، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور گوادر بندرگاہ کی تعمیر میں مسلسل بہتری آئی ہے، رابطہ سازی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ترقی کے ثمرات نہایت متاثر کن ہیں۔مستقبل کے حوالے سے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور چین زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کریں گے، تاکہ تعاون کےفوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں اور اس دوستی کی جڑیں عوام کے دلوں میں مزید گہری ہو جائیں۔
انوار الحق کا کڑ نے کہا کہ پاکستانی حکومت،اپنے ملک میں چینی شہریوں اور اداروں کی سلامتی اور مفادات کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ یہ نہ صرف اس لیے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے پر تعاون کے منصوبے موجود ہیں اور چینی منڈی کی بڑی اہمیت ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ پاکستان اور چین کی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت دار ی اور آہنی دوستی دہائیوں پر محیط ہے اور تمام موسموں کی آزمائشوں پر پوری اتری ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ، چین کے ساتھ اپنی آہنی دوستی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پختہ یقین رکھتا ہے کہ پاک -چین تعاون پاکستان کی ترقی کو مزید آگے بڑھاتا رہے گا۔ نئے تاریخی دور میں دونوں ممالک روایتی دوستی کو آگے بڑھائیں گے، باہمی مفادات پر مبنی تعاون کو مزید مضبوط کریں گے اور نئے دور میں پاک-چین مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کو مزید تیز کریں گے۔ انوار الحق کاکڑ نے نشاندہی کی کہ 2026 ،چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال ہے اور رواں سال ان کے چین کے مزید دورے متوقع ہیں اور وہ دونوں ممالک کی اس دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔



