
3فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)2 جنوری کو چین کی جنگلات اور چراگاہوں کی قومی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ حالیہ برسوں میں چین نے اپنے ویٹ لینڈز کے ماحولیاتی تحفظ اور بحالی کو مضبوط کیا ہے اور اب چین کے ویٹ لینڈز ، رقبے کے لحاظ سے ایشیا میں پہلے اور دنیا میں چوتھے نمبر پر ہیں۔
چین نے ویٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے حالیہ برسوں میں قانونی تحفظات کو مضبوط کیا ہے اور متعلقہ قوانین وضوابط کے نفاذ سے اپنے گورننس کے نظام کو بہتر بنایا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک، صوبائی سطح کے 21علاقوں نے اپنے مقامی ویٹ لینڈز کے تحفظ کے ضوابط تیار کیے ہیں یا ان میں ترامیم کی ہیں۔چین نے درجہ بہ درجہ ویٹ لینڈ مینیجمنٹ سسٹم تشکیل دیا ہے اور اسے بہتر بناتا جا رہا ہے، 82 مقامات کو بین الاقوامی اہمیت کے حامل ویٹ لینڈز قرار دیا ہے اور 80 مقامات کو قومی اہمیت کے ویٹ لینڈز کے طور پر شناخت کیا ہے، ساتھ ہی صوبائی سطح کے 1,208 اہم ویٹ لینڈز کی نشاندہی کی ہے۔ملک میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ 22 ویٹ لینڈ شہر ہیں، جو کہ دنیا میں ایک ملک میں ویٹ لینڈ شہروں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، اس کے علاوہ، 903 نیشنل ویٹ لینڈ پارکس قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد میں عوام کا داخلہ مفت ہے اور یہاں سالانہ تقریباً 320 ملین لوگ آتے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2026-2030) کے دوران چین، ویٹ لینڈز کے حوالے سے اپنے قوانین و ضوابط کے ڈھانچے کو مزید بہتر کرے گا، ویٹ لینڈز کے تحفظ کے لیے نگرانی اور ابتدائی انتباہ کے نظام کو مضبوط کرے گا اور ویٹ لینڈز کی ماحولیاتی مصنوعات کی قدر کے حصول کے میکانزم کی تشکیل کا عمل تیز کرے گا۔



