6فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)صوبہ جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو میں، زیادہ تر لوگوں کے دن کا پہلا کام ، سمارٹ سورٹنگ بن میں کچرا پھینکنے کا ہوتا ہے جس کے بعد وہ اپنے کاموں پر نکل جاتے ہیں اور ان کا پھینکا گیا کچرا ، اپنے کام پر روانہ ہو جاتا ہے ۔ جی ہاں ، ،کچرا سورٹنگ بن میں جاتا ہے اور ساتھ ہی پھینکنے والے کے موبائل پر ایک پیغام موصول ہوتا ہے کہ ان کا کچرا ریکارڈ کر لیا گیا ہے اور یہاں سے کوڑے دان میں پھینکے گئے کچرے کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کا آغاز ہوتا ہے، جو آخر کار ہانگ جو میں ایک "ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ " تک پہنچتا ہے۔ ماضی میں ویسٹ منیجمنٹ کا عملہ بھٹیوں کی تپش اور مشینوں کے شور میں ، اپنے ہاتھ سے چھانٹی اور بھٹیوں کی نگرانی کا کام کرتے تھے لیکن اب ، جلانے کے اس تمام عمل کی نگرانی ایک بڑی سکرین کے ذریعے کی جاتی ہے ، جس میں اے آئی اور درجہ حرارت کے سینسرز کی مدد سے کارکردگی میں اضافہ کیا جا رہا ہے جب کہ نقصان دہ اخراج میں کمی کی جا رہی ہے۔
کچرے کو توانائی، گیس اور خام مال میں تبدیل کرنے کی اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک سابق لینڈ فل انجینئر جینگ رین دونگ کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار نے کایا پلٹ دی ہے ۔ یہ ٹیکنالوجی ، کوڑے کو گھروں کے لیے توانائی، میونسپل پائپ لائنز کے لیے گیس اور دوبارہ سے پیداواری لائنز میں جانے والے خام مال میں تبدیل کرتی ہے۔صرف 2024 میں ہی ، ہانگ جو کے" ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ" سے بجلی کی پیداوار 2.3 بلین کلو واٹ گھنٹے تک پہنچ گئی یعنی ، گھروں میں استعمال ہونے والے ہر 50 کلو واٹ گھنٹوں میں سے ایک ، کوڑے سے حاصل ہوا ہے۔یہ چین کی، "زیرو ویسٹ" شہروں کی جانب بڑھنے کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے ، جو ڈیجیٹل جدت، سرکلر اکانومی اور کمیونٹی کی شمولیت کو یکجا کر کے ایک چیلنج کو، پائیدار ترقی کےمحرک میں تبدیل کر رہی ہے۔

14جنوری 2026۔ صوبہ جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو میں ہانگ جو لین جیانگ انوائرمینٹل انرجی کمپنی لمیٹڈ کا فضائی منظر ۔ (شنہوا/جیانگ ہان)
ہوشیار اور صاف حل
ہانگ جو، کی آبادی 12.6 ملین سے زیادہ ہے اور اس کی سالانہ اقتصادی پیداوار 2 ٹریلین یوان (تقریباً 287 بلین امریکی ڈالر) سے متجاوز ہو چکی ہے ۔ 2026 میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے زیرو ویسٹ مشاورتی بورڈ نے ہانگ جو کو "زیرو ویسٹ" کی طرف بڑھنے والے 20 شہروں میں شامل کیا ہے۔
ہانگ جو میں اب، کوڑے کرکٹ کا بھی "ڈیجیٹل پاسپورٹ" ہے۔ یوہانگ ڈسٹرکٹ میں گھریلو کوڑے کو اکٹھا کرنے اور اس کی ری سائیکلنگ کا کام کرنے والی ایک کمپنی ہیوج ری سائیکل، ایک سمارٹ ری سائیکلنگ نیٹ ورک چلاتی ہے۔ اس نیٹ ورک میں گھروں سے کوڑا جمع کرنے، چھانٹنے اور پروسیسنگ سے لے کر ڈاون سٹریم شراکت داروں کو ترسیل تک ہر مرحلے کا ڈیٹا ،کمپنی کے انٹیلی جنٹ مینیجمنٹ پلیٹ فارم پر رئیل ٹائم میں درج کیا جاتا ہے۔
رہائشیوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ استعمال شدہ کارٹن، بوتلیں اور دیگر ری سائیکل ہونے والی اشیا مخصوص تھیلوں میں رکھیں اور آن لائن پک اپ شیڈول منتخب کریں ۔ کمپنی کی جانب سے جمع کرنے والے بروقت پہنچتے ہیں، اشیاء کو سکین کرتے ہیں اور ڈیٹا اپ لوڈ کرتے ہیں، جس سے رہائشیوں کو فوری طور پر قابل ادائی ماحولیاتی پوائنٹس حاصل ہوتے ہیں جن کا سامان کے بدلے تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔
کمپنی کے نائب صدر حو شاو پھنگ بتاتے ہیں کہ لوگوں کی کم شرکت بڑے چیلنجز میں سے ایک تھا۔ اس کے لیے ہمارا حل، اسے آسان اور لوگوں کے لیے فائدہ مند بنانا تھا جس کے عملی نفاذ کے بعد سے نظام نے یوہانگ میں 21 ملین سے زیادہ پِک اپس اور قریباً 600,000 ٹن گھریلو کوڑا کچرا جمع کیا ہے۔
ہانگ جو کے اربن مینیجمنٹ بیورو میں، ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پورے شہر کے کچرے کے نظام کا نقشہ تیار کرتا ہے، جس میں جمع کرنے کے 10,806 مقامات ،صفائی کے لیے 1,785 گاڑیاں، جلانے کے 10پلانٹ اور نامیاتی کچرے کی پروسیسنگ کی 14سہولیات شامل ہیں۔یہ ماڈل اب ہانگ جو سے باہر بھی پھیل رہا ہے۔ کئی بڑے شہر، بشمول شنگھائی، شینزین اور گوانگ جو، اب گھریلو کچرے کو اسی طریقے سے پروسیس کر رہے ہیں۔ جب کہ لینڈ فلز کا استعمال بند ہو چکا ہے، کچھ شہر ماحول کو بہتر بنانے اور قیمتی وسائل حاصل کرنے کے لیے پرانے مقامات کو نئے ماحول دوست انداز میں تبدیل کر رہے ہیں۔

14جنوری 2026۔ ہانگ جو لین جیانگ انوائرمینٹل انرجی کمپنی لمیٹڈ میں عملہ ، مشینوں کی مدد سے پروسیسنگ کے عمل کو کنٹرول کر رہا ہے۔ (شنہوا/جیانگ ہان)
اضافی بوجھ سے ترقیاتی انجن تک
دنیا کے تیزی سے ترقی پذیر کئی شہروں کی طرح، ہانگ جو بھی بڑے پیمانے پر کچرے اور پروسیسنگ کی ناکافی صلاحیت سے نمٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ 2013 میں، اس کے شہری علاقوں نے 30 لاکھ ٹن سے زیادہ گھریلو کچرا پیدا کیا جسے اگر ایک فٹ بال فیلڈ میں جمع کیا جائے تو اس کی اونچائی کم از کم 400 میٹر ہوگی، یعنی یہ کوڑے کا ڈھیر ، 140 منزلہ عمارت سے بھی بلند ہوگا۔ تاہم ایک بڑی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب 2018 میں جینگ رین دونگ اور ان کے ساتھیوں نے ہانگ جو لین جیانگ انوائرمینٹل انرجی کمپنی لمیٹڈ کے تحت ایک جدید ماحولیاتی صنعتی پارک قائم کیا۔ 2020 کے آخر تک، یہ پلانٹ سالانہ 20 لاکھ ٹن گھریلو کچرا پراسیس کرنے کے قابل ہو گیا، جس سے 10 ارب کلوواٹ-گھنٹے سے زیادہ بجلی پیدا ہوئی اور باقی بچ جانے والے فاضل مواد کو ماحول دوست تعمیراتی مواد میں تبدیل کر دیا گیا۔
کوڑا کرکٹ ایک بوجھ سے ،سرکلر اکانومی کی ترقی کے انجن کا اہم پرزہ گیا ہے ۔ ہانگ جو کی ڈسٹرکٹ فویانگ میں کان کنی کا زمانوں پرانا علاقہ اب ایک ماحولیاتی پارک میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں نو انٹر پرائزز صنعتی ہم آہنگی پر کاربند ہیں۔ فضلے کو جلانے سے پیدا ہونے والی بھاپ قریبی کمپنی کو حرارت فراہم کرتی ہے، جس سے سالانہ 2 ملین یوان کی بچت ہوتی ہے، خوراک کے فضلے کو تیل اور بایوگیس میں تبدیل کیا جاتا ہے، پھر اس پر بلیک سولجر مکھیاں پالی جاتی ہیں جو اعلی پروٹین والا چارہ تیار کرتی ہیں۔ ہانگ جو کے ماحول و ماحولیات بیورو کے نائب ڈائریکٹر، ٹسائی گو چیانگ کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک تکنیکی اپ گریڈنگ نہیں ایک نظام کی تعمیر نو ہے جس کے نتیجے میں 71.8 فی صد گھریلو فضلہ اور 98 فی صد سے زیادہ ٹھوس صنعتی فضلہ دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے ۔ اسی طرح، جیانگ سو میں سوزو انڈسٹریل پارک نے سات سہولیات کو ایک خود کفیل ماحولیاتی نظام میں ضم کر لیا ہے جو فضلے کو وسائل اور توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔

14 جنوری 2026۔ صوبہ جہ جیانگ کے گاوں پوننگ میں صفائی کا عملہ ایک گھر سے ری سائیکل ہونے والا کچرا اکٹھا کر رہا ہے۔ (شنہوا/جیانگ ہان)
عوامی شرکت
حقیقی تبدیلی کے لیے عوام کی شمولیت ضروری ہے، جو اکثر سب سے مشکل حصہ ہوتا ہے۔ ہانگ جو کے سی جی چنگ کپڑے کی مارکیٹ میں، ایک تاجر جو پہلے سبز تبدیلی کے نعروں کو محض زبانی باتیں سمجھتا تھا اب بائیوڈی گریڈایبل پیکیجنگ اور کچرے میں کمی کے اقدامات کو اپنا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ کچرے میں نمایاں کمی آئی ہے اور مارکیٹ میں کچرے کے ڈبوں کی تعداد 40 سے کم ہو کر 20 ہو گئی ہے۔
"زیرو ویسٹ" کے تحت ، کلاس رومز سے لے کر گاؤں تک، خوراک سےمتعلقہ فاضل مواد کو کھاد میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور سبز تبدیلی سے وابستہ یہ عادات اب معمولات زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ شنگھائی میں، جب 2019 میں کچرے کی درجہ بندی کے ڈبے شروع ہوئے تو ایک نئی چیز تھے لیکن اب لاکھوں رہائشیوں کے لیے یہ معمول کی بات ہے۔ یہ مقامی اختراعات اب قومی پالیسی کے فریم ورک کی مدد سے ترقی کر رہی ہیں۔ جنوری میں چین نے اگلے پانچ سالوں میں ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنے کے لیے منصوبہ جاری کیا، جو کہ اس کی معیشت اور معاشرت میں ایک جامع سبز تبدیلی کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
اس دوران، چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے لیے سفارشات میں ٹھوس فضلے کے جامع حل ، ماحولیاتی خطرات کی روک تھام اور کنٹرول میں اضافہ اور نئی آلودگیوں کے حل میں نمایاں پیش رفت کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔بلاشبہ سب کو کم کاربن سرکلر طریقوں میں شامل کرنا آسان کام نہیں ہےاور اس کے لیے مسلسل جاری رہنے والی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے اور چین ثابت قدمی کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہے۔



