
13مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کے شہر لوآن میں ہائیڈروجن توانائی ذخیرہ کرنے کے سٹیشن میں ، سٹیشن آپریشنز منیجر شیا پھینگ، کنٹرول سکرینز کی ایک قطار کی نگرانی کر رہا ہے اور سسٹم ڈیٹا کی جانچ کر رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سب کچھ درست چل رہا ہے۔اس کی یہ ملازمت یعنی سٹیشن آپریشنز منیجر کا عہدہ ، توانائی ذخیرہ کرنے کے چند سال پہلے تک موجود نہیں تھا۔یہ سہولت اضافی بجلی کو ہائیڈروجن میں تبدیل کرتی ہے اور پھر عروج کے وقت میں دوبارہ بجلی میں تبدیل کرتی ہے۔ ہر سال یہ تقریباً 1,091 ٹن معیاری کوئلے کی بچت کرتی ہے اور کاربن کا تقریباً 1,889 ٹن اخراج کم کرتی ہے۔
چین جیسے جیسے اپنے صنعتی شعبے کو زیادہ سبز اور جدید بنانے کی جانب بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے نت نئے پیشے اور ملازمتوں کے امکانات سامنے آنے کا عمل بھی جاری ہے۔ یہ نئی ملازمتیں دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں ہونے والی وسیع تبدیلی کی جھلک پیش کرتی ہیں۔
چند دہائیوں تک، چین کی تیز رفتار ترقی ایک بڑی مزدور قوت کی بدولت ممکن ہوئی - جسے اکثر ملک کے 'ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ' کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ کچھ مبصرین ملک کی بڑھتی ہوئی عمر کی آبادی کو نظر میں رکھتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا چین کی ترقیاتی رفتار برقرار رکھی جا سکتی ہے۔تاہم، ایسے خدشات مسلسل جاری ، گہری ساختی تبدیلی کو نظرانداز کرتے ہیں۔
12 مارچ کو چینی قانون سازوں نے 14ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس کے اختتام پر قومی اقتصادی وسماجی ترقی کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا خاکہ منظور کیا۔ یہ منصوبہ یہ وضاحت کرتا ہے کہ چین اعلیٰ ترقیاتی معیار کےاگلے مرحلے میں معاونت کے لیے کس طرح "ٹیلنٹ ڈیویڈنڈ' حاصل کرے گا۔
نئی صنعتیں، نئی ملازمتیں
نئے پانچ سالہ منصوبے کی ایک اہم خصوصیت ابھرتی ہوئی صنعتوں کی تیز رفتار توسیع اور ان کے ساتھ آنے والی نئی ملازمتوں پر زور دینا ہے۔یہ خاکہ عمر رسیدہ آبادی کے لیے خدمات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ،نئے پیشوں کی فعال ترقی اور ڈیجیٹل اکانومی، گرین اکانومی اور "سلور اکانومی" جیسے شعبوں میں ملازمت کے مواقع کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
ان میں تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں سے ایک ، ڈیجیٹل معیشت ہے۔ چین میں 6,000 سے زیادہ اے آئی کاروبار موجود ہیں جب کہ عالمی سطح پر چین ،تخلیقی AI پیٹنٹ درخواستوں میں پہلے نمبر پر ہے، جو 2025 میں دنیا کے کل کا تقریباً 60فی صد ہے۔جب سے اے آئی ٹیکنالوجیز ،پیداوار، مالیات، صحت کی دیکھ بھال اور شہری انتظام و انصرام جیسی صنعتوں میں داخل ہوئی ہیں، تو بالکل نئے کردار ابھر رہے ہیں مثلاً، AI سسٹم ٹیسٹرز اور الگوردھم ٹرینرز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ چین اس بات کی طرف بڑھ رہا ہے جسے پالیسی ساز "اے آئی پلس" دور کہتے ہیں۔
چائنیز اکیڈمی آف لیبر اینڈ سوشل سیکیورٹی کے ڈائریکٹر اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے 14ویں قومی کمیٹی کے رکن، مو رونگ کا کہنا ہے کہ اے آئی ، کم بلندی کی معیشت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور بائیو-مینوفیکچرنگ، بڑی تعداد میں نئے پیشے تخلیق کریں گے۔ یہ نئی ملازمتیں کارکنوں کے لیے نئے مواقع فراہم کرتی ہیں اور لیبر مارکیٹ میں توانائی کو بڑھاتی ہیں۔
چین کی سبز ترقی کی کوششیں بھی خصوصی مہارتیں رکھنے والے افراد کی مانگ پیدا کر رہی ہیں۔ جب چین اپنے کاربن کمی کے اہداف کی طرف بڑھ رہا ہے تو کاربن سنک کا جائزہ لینے والے اور توانائی ذخیرہ کرنے کے آپریٹرز نئے پیشے سامنے آ رہے ہیں۔ اسی دوران، "سلور اکانومی" کی ترقی اضافی روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ جیسے جیسے چین اپنی صحت کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی دیکھ بھال کی خدمات کو جدید کر رہا ہے، بزرگوں کی دیکھ بھال کے ماہرین اور بحالی کے پیشہ ور افراد کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔
یہ خاکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اعلیٰ ہنر مند کارکنان، ماہر کاریگر اور انجینئرز چین کی صنعتی ترقی میں کس قدر اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اسی سے مینوفیکچرنگ ٹیلنٹ کو سپورٹ کرنے اور تکنیکی ماہرین کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے مخصوص پروگرام شروع کیے جانے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔چاہے اعلیٰ درجے کے آلات کی درستگی کی کیلیبریشن ہو یا روایتی دستکاری کی جدید وراثت، ماہر کاریگر چین کی صنعتی قوت کے اہم ستون ہیں۔ سٹیل سٹرکچر اسمبلرز اور ڈرون کی مرمت کرنے والے ماہرین سے لے کر فیریٹ میگنیٹ بنانے والوں تک ابھرتے ہوئے نئے شعبے ، ایسے ماہر کارکنان کی طلب پیدا کر رہا ہے جو تکنیکی مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہوں۔
ہنر مند کارکنان کے اس ذخیرے کو مضبوط بنانے کے لیے، چین کا ہدف ہے کہ 2035 تک ایسے پیشہ ور جو گہری معلومات کو جدید تکنیکی اور تخلیقی مہارتوں کے ساتھ ملا کر کام کرتے ہیں ان میں سے قومی سطح کے تقریباً 2,000 ماہر کاریگروں، صوبائی سطح کے 10,000 ماہر کاریگروں اور شہر ی سطح کے 50,000ماہر کاریگروں کو تربیت دی جائے ۔ اس دوران، چین کی دیہی احیاء کی کوششیں بھی ہنر کی مانگ کو دوبارہ تشکیل دے رہی ہیں۔ جیسے جیسے ملک زرعی جدید یت میں ترقی کرے گا، اسے مزید 'نئے کسانوں' کی ضرورت ہوگی، جن میں زرعی منیجر اور اجتماعی دیہی معیشت کے منیجر شامل ہیں جو مقامی صنعتوں کو ترقی دینے، دیہی وسائل کو فعال کرنے اور زرعی مصنوعات کو ملک بھر کے بڑے بازاروں تک پہنچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔
مضبوط "ٹیلنٹ ایکو سسٹم "کی تعمیر
روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھھ ، چین اپنے وسیع تر ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ سسٹم کی اصلاح پر بھی کام کر رہا ہے۔
پانچ سالہ منصوبے کے پندرھویں خاکے میں ایک مضبوط تعلیمی نظام کی تشکیل، سائنسی و تکنیکی جدت میں پیش رفت اور ملک کی مجموعی ٹیلنٹ بنیاد کو مضبوط بنانے میں مربوط ترقی پر زور دیا گیا ہے۔یہ خاکہ تعلیم، تحقیق اور ٹیلنٹ کی ترقی کے پلیٹ فارمز کے مابین تعاون کو بہتر بنانے کی تجویز دیتا ہے، جب کہ اعلی تحقیقی جامعات کو عالمی معیار کے تعلیمی ماحول تخلیق کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ محققین اور موجدوں کی بہتر حمایت کے لیے، چین سائنسی منصوبوں کے لیے طویل مدتی فنڈنگ کے طریقہ کار کی تلاش بھی کر رہا ہے اور عملے کے نظام، تنخواہوں، پیشہ ورانہ عہدوں کی تشخیص اور کیریئر کی ترقی سے متعلق پالیسیز کو بہتر بنا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پالیسی ساز ٹیلنٹ کے شعبوں اور علاقوں کے درمیان منتقلی کو آسان بنانے پر بھی کام کر رہے ہیں ۔ خاکے کے مطابق، ادارہ جاتی رکاوٹوں کو بتدریج ختم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں، جن میں گھریو رجسٹریشن، سوشل سکیورٹی، پیشہ ورانہ عہدے اور عملے کے ریکارڈ شامل ہیں۔
عالمی ہنر مندوں کے لیے دروازے مزید کھولنا
چین بین الاقوامی ہنر مندوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک زیادہ کھلا نقطہ نظر اپنانے کا اشارہ دے رہا ہے۔نئے پانچ سالہ منصوبے میں غیر ملکی ماہرین کے لیے معاونت کے طریقوں کو بہتر بنانے اور ایک ٹیلنٹ امیگریشن نظام کی تلاش کا مطالبہ کیا گیا ہے جو عالمی محققین، انجینئرز اور کاروباری افراد کو اپنی طرف متوجہ کرے۔
اگست 2025 میں، ریاستی کونسل نے غیر ملکی سائنسی و تکنیکی نوجوان ہنر مندوں کے لیے ایک نئے "کے ویزا" کا اعلان کیا تھا۔یہ ویزا، جو اکتوبر 2025 میں نافذ ہوا، طویل مدت کی درستگی اور داخلے کے زیادہ لچکدار انتظامات فراہم کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ درخواست دہندگان کو درخواست کے وقت کسی مقامی آجر یا دعوت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ ان عالمی موجدین کے لیے رکاوٹیں کم کرتا ہے جو چین میں تبادلے، تحقیق یا کاروباری سرگرمیوں کے لیے آنا چاہتے ہیں۔



