25 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن) چین کی وزارت تجارت کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق، چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے اداروں کی تعداد میں مسلسل تین سال سے اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ تعداد 530,000 سے زیادہ ہو چکی ہے، جبکہ کل جمع شدہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 3.6 ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار غیر ملکی سرمایہ کاروں کے چینی مارکیٹ میں مسلسل اعتماد کو اجاگر کرتے ہیں۔ 2025 میں، 8,000 سے زیادہ غیر ملکی اداروں نے چین میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا، جو سال بہ سال 10 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ 2026 کے پہلے چار ماہ میں 3,000 سے زیادہ غیر ملکی کمپنیز نے اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا۔
جنوری سے اپریل کے دوران، ملک بھر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے 20,113نئے ادارے قائم کیے گئے، جو سال بہ سال 6.8 فیصد کا اضافہ ہے۔ اسی دوران، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حقیقی استعمال کی کل مالیت ، 287.69 بلین یوان (تقریباً 42 بلین امریکی ڈالر) رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 10.3 فیصد کم ہے۔
مجموعی رجحان کے برعکس، ہائی ٹیک صنعتوں نے 116.33 بلین یوان کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جو سال بہ سال 20.3 فیصد کا اضافہ ہے اور مجموعی قومی ایف ڈی آئی کا 40.4 فیصد بنتا ہے۔
اعدادو شمار کے مطابق، لیگسمبرگ ، سوئٹزرلینڈ، فرانس اور امریکا کی جانب سے چائنیز مین لینڈ میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں بالترتیب 110.3 فیصد، 60.8 فیصد، 58.3 فیصد اور 24.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ ، اس سال وزارت نے غیر ملکی کمپنیز کے ساتھ پانچ گول میز اجلاس منعقد کیے ، جس کے ذریعے 180 سے زیادہ شکایات اور خدشات کو باقاعدہ مکالمے کے ذریعے حل کیا گیا ہے۔



