23 جولائی کو چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 2026 کی پہلی ششماہی کے لیے ملک کی جہاز سازی کی صنعت کے اعداد و شمار جاری کیے۔ اعداد و شمار کے مطابق چین کی جہاز سازی کی تکمیل، نئے حاصل کردہ آرڈرز اور زیرِ تکمیل آرڈرز سمیت تینوں بڑے اشاریے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں اور چین مسلسل عالمی منڈی میں سرفہرست ہے۔
رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی جہاز سازی کی تکمیلی صلاحیت 36.5 ملین ڈیڈ ویٹ ٹن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 51.2 فیصد زیادہ ہے۔ زیرِ تکمیل آرڈرز کا حجم 363.25 ملین ڈیڈ ویٹ ٹن رہا، جو سال بہ سال 54.9 فیصد کا اضافہ ہے، جبکہ نئے حاصل کردہ آرڈرز 121.06 ملین ڈیڈ ویٹ ٹن تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 173.1 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ حجم سالانہ نئے آرڈرز کے حوالے سے تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ بھی ہے۔ نئے حاصل کردہ آرڈرز میں چین کے تین بڑے جہاز ساز شعبوں، یعنی بلک کیریئرز، کنٹینر جہازوں اور ٹینکرز کا عالمی منڈی میں تناسب 80 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین مختلف اقسام کے جہازوں کی اسمبلنگ اور تیاری کی جامع صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سبز اور کم کاربن اخراج والے بحری جہاز چین کی جہاز سازی کی صنعت میں اپ گریڈنگ کا ایک اہم شعبہ بن گئے ہیں۔



