• صفحہ اول>>原创

    پاکستان کے سبز مستقبل کی روشن علامت – نیلی چھتیں

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-03

    اسلام آباد میں ایک شخص دکان کی چھت پر لگے سولر پینلز کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ (پیپلز ڈیلی ۔جاؤ یی پھو)

    اسلام آباد میں ایک شخص دکان کی چھت پر لگے سولر پینلز کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ (پیپلز ڈیلی ۔جاؤ یی پھو)

    3 اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)فضا سے پاکستان کے اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں کو دیکھیں تو ایک خاص منظر دیکھنے کو ملتا ہے جہاں تاحد نگاہ عمارات کی چھتوں پر نیلے سولر پینلز بچھے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے 2017 میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کا پروگرام شروع کیا، جس کے بعد سے چین کی فوٹو وولٹک مصنوعات نے توانائی کے مقامی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے، جس سے معاشی ترقی اور عوامی زندگی میں بہتری آئی ہے۔

    جہاں کبھی بجلی بار بار چلی جاتی تھی ، اب وہاں بجلی کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے

    پاکستان کے متعدد علاقوں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بجلی کی فراہمی مستحکم نہیں ہے، ایسی گاڑیاں اکثر نظر آنے لگی ہیں جن پر لدے سولر پینلز کو سرخ کپڑے اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق، یہ دلہن کا جہیز ہےاور مقامی طور پر مقبول چینی سولر پینلز ،شادی کے سامان کا لازمی حصہ بن چکے ہیں ۔ رضا اور مریم ایک نوبیاہتا جوڑا ہیں جنہوں نے اپنے گھر کے لیے فریج، واشنگ مشین اور الیکٹرک واٹر پمپ وغیرہ خریدے اور ساتھ ہی روزمرہ ضرورت کی بجلی پوری کرنے کے لیے انہوں نے "سولر بینک " میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے چھت پر ، 585 واٹ کی 15 سولر پینلز لگائے، جو تقریباً 8 کلو واٹ فی گھنٹہ بجلی بنا سکتے ہیں، جس سے بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق ، پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے زائد ہے، لیکن 4 کروڑ سے زائد افراد ابھی تک بجلی کی مستحکم فراہمی سے محروم ہیں۔ شمسی توانائی کو فروغ دینے کے لیے پاکستانی حکومت نے گزشتہ 10 سالوں میں، ملک بھر میں متعدد عملی اقدامات کیے ہیں، جن کے نمایاں نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ مقامی اخبارات کے مطابق، پاکستان میں اب تک 73 لاکھ سے زائد گھرانے شمسی توانائی کے نظام نصب کر چکے ہیں، جنوبی پنجاب اور سندھ کے شمالی دیہات میں تقریباً 50 فیصد دیہی گھرانوں نے چین کے سولر پینلز نصب کیے ہیں۔ پاکستان کی فوٹو وولٹک کمپنی " ڈوارٹ انرجی " کے جنرل مینجر طلحہ خان کے مطابق، ان کی کمپنی سالانہ تقریباً 2 لاکھ چینی سولر پینلز فروخت کرتی ہے۔

    وہ علاقے جہاں کبھی بار بار لوڈشیڈنگ ہوتی تھی اب وہاں بھی چینی شمسی مصنوعات کی بدولت بجلی کی فراہمی میں استحکام ہے۔ پاکستان پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ برائے مساوی ترقی کی رپورٹ کے مطابق، 2025 کے موسم گرما میں بجلی کی طلب کی انتہائی مدت کے دوران، شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار پہلی بار تھرمل بجلی کی پیداوار سے تجاوز کر گئی۔

    پاکستان صوبے خیبر پختونخوا ہ میں بہت سے دیہاتیوں نے سولر پینلز کو مکمل طور پر"سولر پاور اینڈ سٹوریج سسٹم" میں تبدیل کر دیا ہے، جو نہ صرف بجلی کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں بلکہ زرعی پیداوار کے آب پاشی، گرین ہاؤسز، خشک کرنے اور کولڈ چین جیسے شعبوں کی بھی معاونت کرتے ہیں۔ اس صوبے کے کسان حسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے مکمل چینی سولر پینل سسٹم نصب کیا ہے، جو کہ تقریباً 20 سال تک چلے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی سولر پینلز کی قیمت مناسب ہے اور معیار بہترین ہے نیز ان کی بجلی کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت گھر کی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرتی ہے۔

    توانائی کی منتقلی میں مسلسل مددگار ،شمسی توانائی کی پیداوار کی عالمی اوسط سے 3 گنا زیادہ شرحِ نمو

    برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، جون 2025 تک پاکستان میں شمسی توانائی کی پیداوار کی شرح نمو، عالمی اوسط سے 3 گنا زیادہ تھی۔ برطانوی میگزین "دی اکانومسٹ" نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پچھلے 10 سالوں میں پاکستان، قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کی سب سے کامیاب مثالوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

    گزشتہ سال مئی میں اسلام آباد کی بے حد معروف ایف-7 مارکیٹ کی ایک دکان میں 34 چینی سولر پینلز نصب کیے گئے جو دن میں شمسی توانائی سے بنی بجلی استعمال کرتے ہیں اور رات کو سرکاری بجلی استعمال کرتے ہیں،دکان کے مینیجر سکندر کا کہنا ہے کہ اس سے ماہانہ1 لاکھ پاکستانی روپے (1 ڈالر تقریباً 278 پاکستانی روپے) کی بجلی کی بچت ہوتی ہے۔سکندر نے بتایا کہ اس سال موسم گرما کی انتہائی مدت کے دوران مزید 15 چینی سولر پینلز نصب کیے گئے جس سے نہ صرف لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کاروبار پر پڑنے والے برے اثرات میں کمی ہوئی ہے بلکہ بجلی کی لاگت بھی مزید کم ہوئی۔

    پاکستان میں شمسی توانائی کی مقبولیت چین کی شمسی مصنوعات کے بغیر ممکن نہیں تھی ۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق، 2022 سے 2024 تک پاکستان میں چین سے درآمد کیے گئے شمسی ماڈیولز کی کل صلاحیت 5 گنا اضافے کے ساتھ 16,600 میگاواٹ تک پہنچ گئی اور یہ اضافہ 2025 میں بھی جاری رہا، جس سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو گیا جہاں شمسی توانائی کی طلب میں سب سے تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی توانائی مشاورتی کمپنی "ریسورس فیوچر" کے بانی خرم لالانی نے کہا کہ اگر چین کی ٹیکنالوجی اور مصنوعات نہ ہوتیں تو پاکستان، شمسی توانائی کو اتنی تیزی سے فروغ نہ دے سکتا اور توانائی کی منتقلی کا عمل بھی شدید متاثر ہوتا۔

    پاکستان میں چینی سولر پینلز ، وسیع پیمانے پر صنعتوں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ پاکستانی اخبار "ڈان" کے مطابق، مقامی شمسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی بدولت ، ٹیکسٹائل، گارمنٹس مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی مواد کی متعدد کمپنیز چین کے سولر پاور سسٹمز کو اپنا رہی ہیں اور شمسی توانائی آہستہ آہستہ پاکستان کے صنعتی بجلی کے ڈھانچے کو تبدیل کر رہی ہے۔

    صاف توانائی مستقبل ہے، چین کی شمسی مصنوعات کا کردار ناقابلِ فراموش ہے

    پاکستانی اخبار "دی ایکسپریس ٹریبیون" نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی نے 2018 کے بعد سے ایندھن کی درآمدات کی مد میں تقریباً 12 بلین ڈالر بچانے میں مدد دی ہے۔ مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں کے حساب سے توقع ہے کہ شمسی مصنوعات کے استعمال سے اس سال پاکستان کو تقریباً 6.3 بلین ڈالر کی بچت ہوگی ۔

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ صاف توانائی پاکستان کی توانائی کی ترقی کا مستقبل ہے، جس میں چینی شمسی مصنوعات کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

    پاکستان سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے محقق، حسان داؤد کی رائے میں چین سے آنے والے سولر پینلز نے پاکستان کو روشن کیا ہے، چینی سولر ماڈیولز نہ صرف پاکستانیوں کی زندگی کو آسان بناتے ہیں اور گھریلو بجلی کے اخراجات کم کرتے ہیں، بلکہ عوامی بجلی کے دباؤ کو بھی بہت حد تک کم کرتے ہیں، جس سے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ حسان داود کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیز کے ساتھ مل کر مزید چینی کمپنیز ، پاکستان میں شمسی ماڈیولز کی مقامی پیداوار شروع کر رہی ہیں، جس سے پاکستان میں شمسی توانائی کی صنعت کو فروغ ملے گا اور معاشی و سماجی ترقی میں نئی توانائی آئے گی ان کی رائے میں، پاکستان اور چین کے درمیان قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون کا مستقبل امید افزا ہے۔

    پاکستان سینٹر فار نالج اینڈ پبلک پالیسی کے صدرمحمود الحسن خان نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چینی سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں اور لیتھیم بیٹریز کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز اپنانے والے ممالک نہ صرف مصنوعات خرید رہے ہیں بلکہ ان ممالک کی ،طویل مدتی استحکام، قابلِ برداشت قیمت اور فوسل فیول مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ چین کی قابلِ تجدید توانائی کی سپلائی چین، بتدریج عالمی اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کا ایک اہم ستون بن رہی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان