7اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)5 اگست کو، بیجنگ ایرو سپیس ٹاؤن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ،شینزو-21 کے خلابازوں نے اپنے منفرد خلائی تجربات بیان کیے۔
31 اکتوبر 2025 کو ہونے والی لانچنگ سے لے کر 26 مئی 2026 کو زمین پر واپسی تک ان خلابازوں نے 210 دن تک خلا میں قیام کیا جو کہ کسی ایک عملے کا مدار میں طویل ترین قیام کا ریکارڈ ہے۔ خلائی مشن سے واپسی کے بعد، تینوں خلاباز جانگ لو، وو فئے اور جانگ حونگ جانگ پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئے ہیں۔
اپنے قیام کے دوران انہوں نے خلا میں کامیابی کے ساتھ 3 مرتبہ چہل قدمی کی، بڑے پیمانے پر خلائی سائنسی تجربات کیے اور چینی خلائی پروگرام کی تاریخ میں پہلی بار ہنگامی صورتحال کا مشاہدہ اور تجربہ کیا۔

5 اگست کو، بیجنگ ایرو سپیس ٹاؤن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں چینی خلا باز، جانگ لو صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ (شنہوا – جانگ وین جن)
کمانڈر جانگ لو نے بتایا کہ مدار میں قیام کے دوران، چینی خلائی پروگرام کے ہنگامی ردِ عمل کے نظام نے حقیقی دنیا کے مطابق، عملی جانچ کا سامنا کیا۔ خلائی جہاز کے ساتھ خلائی ملبے کے ٹکرانے سے نمٹنے سے لے کر، مدار میں قیام کے شیڈول کو ترتیب دینے، متبادل خلائی جہاز کے ذریعے عملے کی واپسی اور ایمرجنسی لانچنگ کرنے تک، پورا نظام ایک دوسرے سے منسلک رہا اور خلا بازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام حفاظتی نظام بلا رکاوٹ کام کرتا رہا۔ جانگ لو نے کہا کہ وہ چینی خلائی ٹیکنالوجی پر اعتماد انداز، سائنسی سخت گیری اور ٹیم کی ثابت قدمی سے بے حد متاثر ہوئے۔
جانگ لو شینزو-15 اور شینزو-21 مشنز کا بھی حصہ تھے۔ انہوں نے مجموعی طور پر خلائی سٹیشن کے باہر 7 مرتبہ چہل قدمی کی۔ اس وقت وہ خلا میں چہل قدمی کرنے والے چین کے سب سے تجربہ کار خلاباز ہیں۔

5 اگست کو، بیجنگ ایرو سپیس ٹاؤن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں چینی خلا باز، وو فئے صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ (شنہوا – جانگ وین جن)
خلاباز وو فئے نے، ماضی میں تھیان حہ کور ماڈیول اور وین تھیان لیب ماڈیول کی تیاری میں حصہ لیا تھا اور اس مشن کے دوران انہوں نے برسوں قبل جن آلات کی جانچ اور مرمت کی تھی ان کو استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین پر کام کے دوران حاصل کیا گیا تجربہ خلا میں ان کے لیے درست کاروائیوں اور مستحکم فیصلہ سازی کی بنیاد اور اعتماد بنا۔

5 اگست کو، بیجنگ ایرو سپیس ٹاؤن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں چینی خلا باز، جانگ حونگ جانگ صحافیوں کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔ (شنہوا – جانگ وین جن)
پے لوڈ سپیشلسٹ جانگ حونگ جانگ نے خلا میں کیے جانے والے تجربات کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس مشن کے دوران، انہوں نے مدار میں کیے جانے والے تجربات میں حاصل ہونے والی متعدد کامیابیوں کا مشاہدہ کیا: چین نے پہلی بار خلا میں چیری ٹماٹر اور گندم کی ایروپونک کاشت کی، خلا میں پہلی بار چوہوں کی کامیاب "کلوز لوپ" افزائش کی اور آپٹیکل سپیکٹرم اور پانی اور کھاد کے مربوط انتظام جیسی اہم ٹیکنالوجیز کی توثیق کی۔
سائنسی امور کے علاوہ، عملے نے سٹیشن پر گندم، سورج مکھی، ٹماٹر، شکر قندی اور پودینے سمیت 10 سے زائد اجناس اگائیں، جنہوں نے چین کے اس خلائی گھر میں "شنگریلا" جیسا ماحول پیدا کیا۔ اس سے نہ صرف خلا میں پودے لگانے کی ٹیکنالوجی میں بہتری آئی، بلکہ یہ خلا میں زندگی کے سخت اور مصروف معمولات میں خوشی اور تفریح کا ذریعہ بھی بنیں۔
ایسٹروناٹ سینٹر آف چائنا کی جانب سے منعقد کی گئی اس پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ سینٹر کی ریسرچ سپورٹ ٹیم کی معاونت سے، شینزو-21 کے عملے کی جسمانی اور ذہنی حالت بہتر ہے اور ان کی پٹھوں کی طاقت، قوتِ برداشت نیز دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بنیادی طور پر مشن سے پہلے کی سطح پر بحال ہو چکی ہے۔ خلا باز اس وقت زیرِ نگرانی رہتے ہوئے بحالی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ بحالی کے دورانیے کی تکمیل کے بعد وہ معمول کی تربیت اور کام پر واپس آجائیں گے۔
پریس کانفرنس میں، شینزو-21 کے عملے نے اپنے عزم کو برقرار رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ، وہ مسلسل جدوجہد کریں گے، مزید بھرپور توانائی کے ساتھ نئے مشنز کے لیے تیار رہیں گے اور نئے حوصلے کے ساتھ خلا کی وسعتوں میں آگے کی جانب بڑھیں گے۔



