• صفحہ اول>>چین پاکستان

    چین کا انٹیلی جنٹ موسمیاتی حل MAZU دنیا بھر کے لیے ابتدائی انتباہات کیسے فراہم کرتا ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-07

    اقوام متحدہ کے " پیشگی انتباہات سب کے لیے "انیشئیٹو کے حوالے سے ،ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس 2026 میں چین کی جانب سے MAZU کی صورت میں حل پیش کیا گیا ۔ روایتی موسمیاتی نظاموں کے برعکس، MAZU ایک جدید تکنیکی پلیٹ فارم کی طرح کام کرتا ہے جو 100 سے زائد حسب ضرورت آپشنز پیش کرتا ہے۔ ممالک مخصوص خدمات جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے ڈرون یا ملیریا کے خطرے کے نگرانی کے لیے درخواست کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت ان کی ضروریات کے مطابق حل فراہم کرتی ہے۔

    اس وقت ، 40 سے زائد قومی موسمیاتی ایجنسیز، MAZU کا استعمال کررہی ہیں، جبکہ سات ممالک میں حسب ضرورت نظام موجود ہیں۔ چین ، آئندہ پانچ سالوں میں MAZU کو 30 ممالک میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ مستقل طور پر کیسے کام کرتا ہے تاکہ قدرتی آفات کے خلاف مزاحمت کو بڑھایا جا سکے اور گلوبل ساوتھ کو ترقیاتی معاونت فراہم کی جا سکے۔

    21 جولائی 2026 ۔ نیشنل میٹروولوجیکل سینٹر میں بڑی سکرینز پر دکھایا جانے والا رئیل ٹائم میٹروولوجیکل ڈیٹا۔ ( لن شیاویی/گلوبل ٹائمز )

    21 جولائی 2026 ۔ نیشنل میٹروولوجیکل سینٹر میں بڑی سکرینز پر دکھایا جانے والا رئیل ٹائم میٹروولوجیکل ڈیٹا۔ ( لن شیاویی/گلوبل ٹائمز )

    پاکستان کے ماہرینِ موسمیات کے لیے قدرتی آفات کے پیشگی انتباہ جاری کرنا ایک محنت طلب کام ہوتا تھا۔ پی ڈی ایم کے تحقیق و ترقی ڈویژن کے ڈائریکٹر فرخ بشیر کے مطابق، MAZU پیشگی انتباہی نظام سے پہلے، پاکستان کو موسمی انتباہات اور خطرے کو کم کرنے میں کئی چیلنجز کا سامنا تھا۔ اگرچہ پاکستان کے محکمہِ موسمیات (PMD) کے پاس کافی ڈیٹا موجود تھا، مگر یہ مختلف فارمیٹس میں منتشر تھا۔ دور دراز علاقوں میں مشاہداتی نیٹ ورک بھی کم تھے اور اکثر مواصلاتی مسائل درپیش رہتے تھے۔ فرخ بشیر اس کی افادیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ MAZU اے آئی کی مدد سے بہتر کیا گیا ایک متحدہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو مختلف ذرائع سے ڈیٹا کو مربوط کرتا ہے۔ اس سے ہر ایک کو علیحدہ سے رسائی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ پیشگی انتباہات اور پیش گوئی کے لیے مضبوط فیصلہ سازی کا ایک آلہ ہے، جو مجموعی عددی پیشگوئی کے طریقوں کے ساتھ علاقائی پیش گوئی کی درستگی کو بڑھاتا ہے۔

    یہ موسمیاتی ڈیٹا کو مخصوص خطرات کے منظرناموں میں تبدیل کرتا ہے جو پاکستان کی ماضی کی کوششوں کو موسمی پیش گوئیوں کے اثرات سے منسلک کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔ MAZU سیلاب، زراعت، کارگو روٹس، ماہی گیری، عوامی صحت اور بنیادی ڈھانچے کا تجزیہ کرتا ہے اور ڈیٹا کو قابل عمل انتباہات میں تبدیل کرتا ہے۔ 2026 مون سون کے دوران، MAZU نے بارش کے تجزیے اور اچانک سیلاب کے خطرے کی تشخیص کو بہتر بنایا، جس سے حکام کو انخلا کے لیے اضافی دن ملے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 2022 میں، " پیشگی انتباہات سب کے لیے "انیشئیٹو کا آغاز کیا، جس کا مقصد 2027 تک عالمی سطح پر انتباہات تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ پاکستان پیش گوئی کے ایک قدرے فرسودہ نظام سےآگے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے لیے پائیداری ایک چیلنج ہے۔ فرخ بشیر کے مطابق، ماضی کے فنڈڈ منصوبوں نے پیشگی انتباہ کے قومی نظام کے اثر کو محدود کر دیا۔ روایتی مدد کے برعکس، MAZU مقامی شراکت داریوں اور صلاحیت کی تعمیر کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتا ہے، جس سے پاکستان کا پرانا ترقیاتی ماڈل تبدیل ہوا ہے۔

    21 جولائی 2026 ۔ بیجنگ کے عالمی موسمیاتی مرکز کی انجینئر حووا وین لی، چائنا میٹرولوجیکل ایڈمنسٹریشن میں MAZU کے کلاؤڈ بیسڈ پیشگی انتباہی نظام پر کام کر رہی ہیں۔ تصویر: لن شیاو یی۔گلوبل ٹائمز)

    21 جولائی 2026 ۔ بیجنگ کے عالمی موسمیاتی مرکز کی انجینئر حووا وین لی، چائنا میٹرولوجیکل ایڈمنسٹریشن میں MAZU کے کلاؤڈ بیسڈ پیشگی انتباہی نظام پر کام کر رہی ہیں۔ تصویر: لن شیاو یی۔گلوبل ٹائمز)

    عالمی موسمیاتی مرکز کے بیجنگ آفس کے ڈپٹی ڈائریکٹر ،ژانگ تیان حانگ کہتے ہیں کہ MAZU ایک ہی مخصوص انداز اختیار کرنے سے گریز کرتا ہے، بلکہ "ایک ملک، ایک پالیسی" کی حکمت عملی کو ترجیح دیتا ہے جو محض مدد کرنے کی بجائے مشترکہ تخلیق پر زور دیتی ہے۔یہاں ممالک اپنی ضروریات ظاہر کرتے ہیں اور چینی ٹیم مخصوص حل فراہم کرتی ہے۔ یہ ایک "میٹیرولاجکل سپر مارکیٹ" کی طرح ہے۔

    چین بنیادی ٹیکنالوجی کے اشتراک پر بھی توجہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر 17 جولائی کو، چائنا میٹرو لوجیکل ایڈمنسٹریشن (CMA) نے MAZU کے مینیو -ٹو -سروس پلیٹ فارم پر فینگ یون سیٹلائٹ AI Box لانچ کیا، جس میں اوپن سورس کوڈ موجود ہے تاکہ ممالک اسے اپنا سکیں۔

    پاکستان کے اشتراک پر بات کرتے ہوئے فرخ بشیر نے کہا کہ ، PMD کے ماہرینِ موسمیات کو CMA میں CEWS کی تربیت دی گئی، تاہم انہیں کلاؤڈ سسٹم کے ساتھ تاخیر کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی ماہرین نے اپنی ضروریات کا اظہار کیا، تو مشترکہ تحقیق کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں ایک مخصوص سرور نصب کیا گیا ، جس سے تاخیر کا مسئلہ حل ہوا اور PMD کی صلاحیتوں میں بہتری آئی ۔اس مقامی پیش رفت نے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ انتباہ کی صلاحیت کے فرق کو ختم کرنے میں مدد دی۔

    ویڈیوز

    زبان