• صفحہ اول>>تبصرہ

    علاقائی سلامتی کی تکون

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-10

    7 اگست 2026۔سعودی عرب کے شہر مکہ میں "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے" پر دستخط کے بعد سعودی ولی عہد اور وزیراعظم، محمد بن سلمان بن عبدالعزیز، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان اور پاکستانی وزیراعظم محمد شہباز شریف۔ (شنہوا)

    7 اگست 2026۔سعودی عرب کے شہر مکہ میں "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے" پر دستخط کے بعد سعودی ولی عہد اور وزیراعظم، محمد بن سلمان بن عبدالعزیز، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان اور پاکستانی وزیراعظم محمد شہباز شریف۔ (شنہوا)

    10 اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 7 اگست کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مابین "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ" طے پایا جس پر تنقید کی ایک لہر سامنے آئی اور کچھ تبصرہ نگاروں نے اسے "مسلم نیٹو" قرار دے دیا۔ تاہم بنیادی طور پر یہ موازنہ ہی غلط ہے اور یہ معاہدے کے حقیقی محرکات کو اوجھل کرتا ہے، ساتھ ہی اس ساختی دباؤ کے بارے میں غلط فہمی پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ تین قوتیں ایک جگہ جمع ہوئی ہیں۔

    یہ معاہدہ نہ تو راتوں رات رونما ہونے والا فوجی انقلاب ہے اور نہ ہی محض "فوٹو سیشن"۔ یہ سلامتی کے تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول کے لیے ایک سوچا سمجھا، عملی جواب ہے جہاں علاقائی طاقتیں اب بیرونی ضمانتوں پر انحصار نہیں کر سکتیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ مشرق وسطیٰ کے علاقائی منظرنامے میں حقیقی تبدیلی اور امریکی بالادستی میں واضح کمی کی علامت ہے یا نہیں۔

    اس سہ فریقی معاہدے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر دستخط کنندہ کے سلامتی کے اعداد و شمار اور ان کی ضروریات کا تجزیہ کیا جائے کہ جس کے تحت یہ اکٹھے ہوئے ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگیوں اور میزائل حملوں کے خطرات نے سعودی عرب کو ایسی صورتِ حال سے دوچار کیا ہے کہ جہاں اس کی شدید دفاعی کمزوری نمایاں ہوئی ہے۔ امریکا-ایران-اسرائیل تنازع سے منسلک متعدد دباؤ اور وسیع تر عدم استحکام نے بیرونی تحفظ کی کسی ایک ہی چھتری پر انحصار کرنے کے خطرے کو عیاں کر دیا ہے۔ ریاض اپنی سٹریٹجک شراکت داریوں کو متنوع بنا رہا ہے۔ دو علاقائی فوجی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو باضابطہ طور پر مضبوط کرتے ہوئے وہ ایک ایسے دیرپا دفاعی نظام کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے جو روایتی اتحاد سے بڑھ کر ہو۔

    ترکی اس معاہدے کو صنعتی پختگی اور جغرافیائی عزائم کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ نیٹو کی دوسری بڑی فوج کا حامل ہونے اور ایک مضبوط مقامی دفاعی پیداواری بنیاد کے ساتھ انقرہ، اب مغربی سکیورٹی سٹریٹجی کا صرف ایک علاقائی حصہ بن کر رہنے پر اکتفا نہیں کرنا چاہتا ہے۔ یہ معاہدہ اثر و رسوخ کو جنوبی سمت میں بڑھانے، دفاعی برآمدات کو مستحکم کرنے نیز علاقائی، اقتصادی اور جغرافیائی مفادات کو محفوظ کرنے کا ایک باقاعدہ طریقہ فراہم کرتا ہے۔ ترکی جدید ڈرون ٹیکنالوجی، عملی تجربے اور موجودہ حالات کو چیلنج کرنے کی آمادگی کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

    سٹریٹجک توازن اور خلیج کے ساتھ گہرے تاریخی تعلقات کا حامل پاکستان، اس معاہدے کا تیسرا ستون ہے۔ اسلام آباد نے سعودی عرب کے ساتھ طویل عرصے سے مضبوط دوطرفہ دفاعی تعاون برقرار رکھا ہے۔ اس فریم ورک کو ترکی کے ساتھ توسیع دینا ایک ایسی تکون بناتا ہے جو سعودی عرب کے مالی اثر و رسوخ، ترکیہ کی تکنیکی صلاحیت اور پاکستانی فوج کی افرادی قوت و حکمت عملی کی گہرائی کو یکجا کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ اس کی وسیع تر خارجہ پالیسی کے موقف کو متاثر کرنے والی کسی زیرو-سم مسابقت میں الجھے بغیر، علاقائی استحکام میں حصہ ڈالنے کا ایک منظم طریقہ فراہم کرتا ہے۔

    یہ خدشات مختلف مگر تکمیلی ضروریات اور باہمی مفادات سامنے لاتے ہیں۔ سعودی عرب کو قابل اعتماد، اضافی مگر متوازن قوتِ مزاحمت اور سیاسی حمایت کی ضرورت ہے؛ ترکی ،مارکیٹس، اثر و رسوخ اور اپنے دفاعی شعبے کی شناخت چاہتا ہے؛ پاکستان کو سٹریٹجک مضبوطی، اقتصادی اور سفارتی معاونت اور خلیجی خطے کی سلامتی میں ایک باضابطہ کردار درکار ہے۔ ایسے میں کہ جب بیرونی یقین دہانیاں زیادہ قابل اعتبار نہیں رہیں، یہ معاہدہ ان تمام مفادات کو پورا کرتا ہے اور طویل مدتی دو طرفہ تعلقات کو ایک مشترکہ عوامی و سیاسی عزم میں تبدیل کرتا ہے۔

    تینوں میں سے کسی ایک پر بھی ہونے والا مسلح حملہ، سب پر حملہ سمجھا جائے گا، یہ اس معاہدے کی وہ مرکزی شق ہے جس کو نیٹو کے آرٹیکل 5 کے ساتھ موازنے کی وجہ بنایا جا رہا ہے لیکن ان میں سٹرکچرل فرق بے حد واضح ہے۔ نیٹو ایک مربوط کمانڈ سٹرکچر، معیاری لاجسٹکس، دہائیوں کی باہمی ہم آہنگی اور امریکا کی مکمل حمایت پر قائم ہے۔ مکہ معاہدے میں ان میں سے کوئی بھی مستقل ادارہ جاتی سٹرکچر نہیں ہیں: نہ تو کوئی متحدہ ہیڈکوارٹر ہے، نہ ہی مستقل مشترکہ فورس اور نہ ہی مکمل ہم آہنگی پر مبنی نظریہ۔

    اس کے باوجود یہ محض علامتی نہیں ہے، سیاسی عزم گہرا ہے۔ یہ تعاون کو غیر رسمی سمجھوتوں سے نکال کر ایک رسمی عوامی وعدے میں منتقل کرتا ہے اور علاقائی حریفوں اور بیرونی عناصر کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ بیرونی جارحیت کے جواب میں تینوں ریاستیں ہم آہنگی سے کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ عہد ایک فعال عملی دفاعی ڈھانچے میں تبدیل ہوتا ہے یا نہیں، یہ مشترکہ کمانڈ سٹرکچرز کی تشکیل، سخت مشقوں اور انٹیلی جنس کی ہم آہنگی پر منحصر ہوگا۔

    وسیع جیو پولیٹیکل تناظر میں سوال یہ ہے کہ امریکا کی غالب حیثیت پر اس کا کیا اثر ہے؟ یہ معاہدہ امریکی غلبے کے فوری زوال کی علامت نہیں ہے۔ یہ واشنگٹن کے کردار میں اس طویل مدتی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو سٹریٹجک تھکن اور مداخلت کے حوالے سے زیادہ محتاط رویے کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔

    علاقائی قوتوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ غیر فعال سکیورٹی پر انحصار نقصان دہ ہے۔ مکہ معاہدہ اس تبدیلی کی علامت اور محرک ہے۔ ریاستیں، غیر مرکزی حفاظتی جال بُن رہی ہیں اور اس سے واشنگٹن کی علاقائی سکیورٹی کے نظام پر اجارہ داری کم ہو رہی ہے۔ یہ تنوع اس مستقبل کے خلاف ایک عملی تحفظ ہے جس میں بیرونی طاقتیں مقامی بحران میں مداخلت کرنے کے قابل یا اس کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ اس لحاظ سے، یہ معاہدہ علاقائی قوتوں کے مابین زیادہ خودمختار دفاعی تعاون کی طرف ایک اہم، تاہم فی الوقت ایک نامکمل قدم ہے جس سے مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے میں ایک قابل پیمائش اور تدریجی تبدیلی کی نمائندگی ہوتی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان