12 اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) ترقی، انسانی معاشرے کا دائمی موضوع ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا، چین کو اعلی ترقیاتی معیار کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہے، دنیا کے لیے مسلسل مواقع فراہم کرتی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے تجربات اور راستے مہیا کرتی ہے۔ حال ہی میں، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے شعبہِ بین الاقوامی روابط کے ماہر، خالد تیمور اکرم نے اپنے انٹرویو میں ایک ترقی پذیر چین کی عکاسی کی۔
خالد تیمور کا کہنا تھا کہ چین میں جس بھی جگہ کا دورہ کیا، انہوں نے تنظیم، توازن اور امید محسوس کی۔ پچھلے 20 برسوں میں انہوں نے بیجنگ، گوانگ دونگ، جیانگ شی اور سنکیانگ سمیت، چین کے 50 سے زائد شہروں کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چین میں قومی خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود دونوں ایک ہی ہیں، دونوں مثبت انداز میں باہم مربوط ہیں۔
اپنا ایک تجربہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ، جولائی میں انہوں نے جیانگ شی میں منعقدہ "بیلٹ اینڈ روڈ جرنلسٹ فورم2025"میں شرکت کی اور نان چھانگ، جیوجیانگ، گان جو وغیرہ کا دورہ کیا۔ جیوجیانگ شہر میں جھیل کے ایکولوجیکل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سٹی کے فانگ لان لیک پارک میں واقع "جیوجیانگ نائٹ ٹور" پراجیکٹ میں، مقامی حکومت نے تاریخی ثقافتی عناصر کو احتیاط سے دوبارہ تخلیق کیا، انہیں عام زندگی کی رونق کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور ایک کامیاب "ثقافتی مقام" تشکیل دیا جو پرفارمنسز، غیر مادی ثقافتی ورثے، ہلکے پھلکے کھانوں اور لوگوں کے بیچ تعامل کو یکجا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک سیاحتی مقام نہیں ہے، بلکہ ایک عوامی علاقہ بھی ہے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ رات کے کھانے کے بعد یہاں ٹہلنے، بچوں کے ساتھ تفریح کرنے اور رقص کرنے آتے ہیں، توانائی سے بھرپور ان لوگوں کے چہروں پر اعتماد بھری مسکراہٹ ہوتی ہے، ان کی زندگیاں، ملک اور شہر کی ترقی سے منسلک ہیں اور یہی عوام کی خوشی ہے۔
3,000کلومیٹر طویل، چین-پاکستان اقتصادی راہداری کا نقطہ آغاز سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کا شہر کاشغر ہے اور اختتام، پاکستان میں گوادر کی بندرگاہ ہے۔ 2025، سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کا سال تھا اوراس موقع پر تیمور خالد ایک مرتبہ پھر سنکیانگ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ شہری جدیدیت کو فروغ دیتے ہوئے تاریخی ثقافت کے ورثے کو کیسے برقرار رکھا جائے؟ اس سوال کا عملی جواب، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت نےسنکیانگ میں دیا ہے۔ قدیم زمانے سےسنکیانگ، شاہراہ ریشم پر مشرق و مغرب کے تبادلے کا ایک اہم مرکز رہا ہے اور آج ارمچی، شاہراہ ریشم اقتصادی راہداری کے مرکزی علاقے کا ایک اہم شہر ہے، جس کی ترقی نے ہمیشہ ثقافتی امتزاج کو برقرار رکھا ہے۔ ارمچی میں واقع سنکیانگ انٹرنیشنل گرینڈ بازار میں ہزاروں دکانیں ہیں، ہر قسم کی اشیا دستیاب ہیں اور یہاں کی خصوصی عمارات، لوک ثقافت اور تجارت ایک دوسرے میں گھل مل گئی ہیں جو کہ ایک لاکھ یومیہ سے زائد چینی اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہ بازار سنکیانگ کی ایک ہلکی سی جھلک ہے، جہاں جدید ترقی اور تاریخی ثقافتی ورثہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
تیمور خالد اکرم کہتے ہیں کہ جب بھی وہ چین جانے کے لیے ہوائی جہاز میں سوار ہوتے ہیں، تو انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنے دوسرے گھر جا رہے ہیں۔ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ انہیں ایک پراعتماد، متحرک اور خوشحال چین کا مشاہدہ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں انہیں چین آنے اور اس سرزمین پر ہونے والی ترقی کے نئے معجزات کا مشاہدہ کرنے کے مزید مواقع ملیں گے اور وہ ایک مرتبہ پھر سے چینی عوام کو اپنے ہاتھوں سے خوشی کے نئے باب رقم کرتے ہوئے دیکھیں گے۔



