7اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شمالی چین کے اندرون منگولیا خود اختیار علاقے کے گاوں ، شیاو چھینگ زی میں اعلی کارکردگی اور پانی کی بچت والی زراعت کے ایک ملین مو (66,667 ہیکٹر) کے نمائشی علاقے پر کام جاری ہے۔ان کھیتوں میں ایچ ڈی کیمرے، مٹی کا تجزیہ کرنے والے آلات ، آبپاشی کے سمارٹ سسٹم اور دیگر انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) آلات متعارف کروائے گئے ہیں، جو زرعی پیداوار کو ایک "سمارٹ برین" فراہم کر رہے ہیں۔
آپس میں منسلک سمارٹ آلات، فصلوں کی نگرانی، آبپاشی کے ریموٹ کنٹرول اور مٹی کی نمی اور غذائیت کی سطحوں کا درست تجزیہ کرتے ہیں۔ زراعت ، تجربے پر انحصار کرنے کی بجائے ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے زیادہ درست، موثر اور پائیدار زرعی پیداوار ممکن ہو رہی ہے۔
ٹیکنالوجی، زراعت کو جدید بنا رہی ہے اور ڈیجیٹلائزیشن، روایتی زراعت کو نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہے۔ "کھیتی باڑی کیسے کرنی ہے" سے "سمارٹ کھیتی باڑی " کی طرف پیش رفت کرتے ہوئے ، سمارٹ زراعت ، اناج کی مستحکم پیداوار اور اعلی معیار کی زرعی ترقی کو نئی رفتار دے رہی ہے۔



