• صفحہ اول>>چین پاکستان

    چین سے ہمارے تعلقات کا تسلسل

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-12

    دوسرے شاہراہِ ریشم دوستی کے ایلچی کا اعزازی خطاب حاصل کرنے والے رحمت علی کا انٹرویو

    12 اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقے میں، قراقرم ہائی وے داسو سیکشن ری الائنمنٹ پراجیکٹ کے تعمیراتی مقام پر پہاڑی ڈھلوانیں ہیں اور سڑکیں تنگ ہیں۔ مقامی ڈاکٹر رحمت علی، صبح سویرے کلینک پہنچ جاتے ہیں۔ تعمیر کے لیے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے کام شروع ہونے سے قبل، رحمت علی ہمیشہ ایمبولینس، فرسٹ ایڈ کٹ اور ادویہ کو چیک کرتے ہیں۔ ان کا اور ان کی ٹیم کا یہ معمول، 11 سال سے جاری ہے۔ 2022 میں، رحمت کو چائنا انٹرنیشنل کلچرل ایکسچینج سینٹر اور گلوبل پیپلز میگزین کے اشتراک سے منعقدہ دوسرے ، شاہراہِ ریشم دوستی کے ایلچی کے اعزازی خطاب سے نوازا گیا۔

    حال ہی میں بیجنگ میں دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران رحمت نے بتایا کہ ان کے دل میں کبھی بھی کام کے مشکل ماحول کی وجہ سے پیچھے ہٹنے کا خیال نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان میں سڑکیں بنانے آئے ہیں تو میں اپنے ملک میں رہتے ہوئے ہی اس کے لیے کام کیوں نہ کروں؟"

    رحمت علی اس پراجیکٹ پر واحد ڈاکٹر ہیں۔ جب چینی ساتھیوں کی طبیعت ناساز ہوتی ہے تو وہ رحمت ہی کے پاس آتے ہیں، وہ بیماری کی تشخیص اور علاج کرتے ہیں اور جب مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں، تو رحمت علی بے حد خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    چین سے رحمت کےتعلق کا آغاز ان کے بچپن سے ہی ہوگیا تھا۔ رحمت کے والد نے نوجوانی میں قراقرم ہائی وے کی تعمیر میں حصہ لیا تھا اور چینی تعمیراتی کارکنوں کے شانہ بہ شانہ کام کیا تھا۔ اس ہائی وے کا ایک بے حد خوبصورت نام ہے؛ چین-پاکستان شاہراہ دوستی۔ بچپن میں، رحمت اکثر اپنے والد سے چینی مزدوروں کی کہانیاں سنتے تھے کہ کیسے وہ اپنے وطن سے دور، پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں آئے، انتہائی سخت موسمی و جغرافیائی حالات میں سڑکیں اور پل بنائے، جان توڑ محنت کی اور بہت سی جانوں کی قربانیاں دیں۔

    رحمت نے بتایا کہ ان کے والد ہمیشہ کہتے تھے کہ چینی ہمارے بھائی ہیں۔ 2008 میں، والد کی حوصلہ افزائی پر، انہوں نے شی آن جیاوتھونگ یونیورسٹی میں طب کی تعلیم حاصل کی۔ جلد از جلد خود کو نئی زندگی اور نئے تعلیمی ماحول میں ڈھالنے کے لیے، انہوں نے بار بار چینی زبان کی مشق کی، اکثر وہ رات گئے تک الفاظ کی ادائیگی کی مشق کرتے اور کلاس میں سیکھے گئے الفاظ کو روزمرہ زندگی میں بھی استعمال کرتے۔ آج بھی، انہیں وہ وقت یاد ہے جب انہوں نے چینی زبان سیکھنا شروع کی تھی، چینی دوستوں کا خلوص اور حوصلہ افزائی وہ کبھی نہیں بھولے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ چاہے ان کی ادائیگی درست نہ بھی ہو، چینی ساتھی ہمیشہ تحمل کے ساتھ ان کی بات سنتے، بروقت اصلاح کرتے اور ان کا اعتماد بڑھانے میں ان کو مدد دیتے۔

    2013میں اپنی گریجویشن کے بعد، رحمت علی واپس پاکستان آئے۔ باوجود یہ کہ وہ بہترین سہولیات کے ساتھ بڑے ہسپتالوں میں کام کر سکتے تھے، پھر بھی2015 میں انہوں نے چائنا سول انجینئرنگ کنسٹرکشن کارپوریشن میں شمولیت اختیار کی اور قراقرم ہائی وے داسو سیکشن ری الائنمنٹ پراجیکٹ میں حصہ لیا۔

    رحمت علی کے نزدیک، داسو سیکشن ری الائنمنٹ پراجیکٹ کیمپ صرف کام کی جگہ نہیں ہے، بلکہ ایک چھوٹا سا مشترکہ گھر ہے، جہاں چینی اور پاکستانی ساتھی ایک ساتھ کام کرتے ہیں، مل جل کر رہتے ہیں اور خوشیاں اور غم بانٹتے ہیں۔ رحمت نے کہا کہ بچپن میں والد سے چینی مزدوروں کی کہانیاں سننے سے لے کر شی آن میں تعلیم حاصل کرنے تک اور اب داسو سیکشن ری الائنمنٹ پراجیکٹ سے منسلک ہونے اور چینی اور پاکستانی ملازمین کی جان کی حفاظت تک، ان کی ذاتی نشو نما اور پیش رفت قراقرم ہائی وے کے ساتھ گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔

    رحمت نے کہا کہ چین-پاکستان دوستی کے کلیدی الفاظ میں سے ایک "اعتماد" ہے۔ ان کے لیے، یہ اعتماد، والد کی نصیحتوں، چینی اساتذہ کی تعلیمات، پہاڑی علاقوں میں تعمیراتی مقام کے قریب ہر وقت تیار ایمبولینس اور کیمپ میں چینی اور پاکستانی ملازمین کے مشترکہ تہواروں کی خوشیوں میں موجود ہے۔

    رحمت علی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور چین کے عوام کے دلوں کو جوڑنے والا پل بننا چاہتے ہیں۔ وہ چین سے پاکستان کے مستحکم تعلقات کے ہمیشہ قائم رہنے کے لیےپراعتماد ہیں۔

    ویڈیوز

    زبان