25اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)"پندرہویں پانچ سالہ منصوبے" کے آغاز کے سال میں، چین نے زرعی اور دیہی جدیدیت کو توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اس کے تحت چین نے دیہی علاقوں کے جامع احیاء کو مرکزی اقدام قرار دیتے ہوئے زراعت کو ایک جدید صنعت میں تبدیل کرنے، دیہی علاقوں میں جدید طرزِ زندگی پر مشتمل ماحول فراہم کرنے اور کسانوں کی زندگی کو مزید خوش حال اور بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ سمارٹ فارمز سے دیہی ای کامرس تک، زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ سے دیہی سیاحت تک، چین کے وسیع دیہی علاقوں میں خوشحالی کی تصویر نمایاں ہو رہی ہے۔
جامع زرعی پیداواری صلاحیت اور معیار و افادیت کو بڑھانے پر زور
چین کے صوبے شان دونگ کے شہر زہ بو کی ڈسٹرکٹ جانگ دیان میں واقع کسانوں کی خصوصی کوآپریٹو "دوحہ" کے اسمارٹ ڈیجیٹل گرین ہاؤسز میں، اسٹرابیری، برفانی انگور اور چیری وغیرہ سمیت مختلف پھل بکثرت اگ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل ایگریکلچر پلیٹ فارم "نونگ شہ یون" کے ذریعے، گرین ہاؤس کے درجہ حرارت، نمی، آب پاشی، کھاد ڈالنے کے عمل، زرعی مصنوعات کو ذخیرکرنے، پروسیسنگ اور فروخت کی معلومات ایک اسکرین پردکھائی دیتی ہیں، جو پورے زرعی عمل کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
ایگریکلچرل اکنامکس میں پی ایچ ڈی کرنے والی پاکستان کی ڈاکٹر دونا کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے اس طرح کے منصوبے، زرعی ترقی کے لیے تکنیکی قوت کا باعث بنتے ہیں۔
2022 میں دونا، نان جنگ ایگریکلچرل یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعد شان دونگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بطور کل وقتی استاد کام کر رہی ہیں اور دیہی و علاقائی ترقی پر تحقیق کر رہی ہیں۔ ان برسوں میں، انہوں نے وسیع فیلڈ سروے کے ذریعے چین کی زرعی اور دیہی جدیدیت کے تجربات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے تاکہ پاکستان کی دیہی ترقی کے لیے راہنما اصول فراہم کر سکیں۔ کسانوں کی خصوصی کوآپریٹو "دوحہ"، ان کے سمارٹ زراعت کے ذریعے زرعی پیداوار اور پروسیسنگ کو فروغ دینے کے منصوبے کا ایک تحقیقی نمونہ ہے۔
دونا کے مطابق، ڈیجیٹل زرعی پلیٹ فارم کی اہمیت یہ ہے کہ وہ ماضی کے تجربات پرمنحصر اور نقل کرنے میں دشوار زرعی علم کو ڈیجیٹل ماڈلز میں تبدیل کر دیتا ہے جو کہ ریکارڈ کیے جاسکتے ہیں ، بہتر کیے جا سکتے ہیں اور انہیں فروغ دیا جا سکتا ہے، نتیجتاً TFP میں اضافہ ہوتا ہے۔ایک ہی طرح کی زمین سے، ایک جیسی محنت کے ساتھ، زیادہ مستحکم اور اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہی مجموعی زرعی پیداواری صلاحیت اور معیار و افادیت کو بڑھانے کا منطقی اصول ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین نے حالیہ برسوں میں زرعی ٹیکنالوجی کو خاص اہمیت دی ہے۔
دونا کی رائے میں،چین کی ہر سال جاری ہونے والی 'مرکزی دستاویز نمبر ایک' کے ذریعے چین کی زرعی ترقی کی منصوبہ بندی کو سمجھا جا سکتا ہے۔مرکزی دستاویز نمبر ایک 2026 میں، زرعی اور دیہی جدیدیت کو ہدف بنا کر جدید زرعی انتظام کے نظام کو تیز کرنے جیسے اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین ،نہ صرف زرعی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ مجموعی زرعی پیداواری صلاحیت اور معیار و افادیت کو بڑھانے پر بھی زور دے رہا ہے۔
دونا کی تحقیق میں دیہی خواتین کا ایک گروپ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کی دیہی خواتین کی کاروباری سرگرمیوں نے انہیں بے حد متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پرچین کے صوبے شان دونگ کے شہر جی نان کی کاؤنٹی شانگ حہ میں دیہی خواتین کے لیے ای کامرس کی تربیت کا اہتمام کیا گیا، جس سے 'ای مو دی گوا' برانڈ کی بانی لیو چھاولی جیسی دیہی ای کامرس کی متعدد پیش رو سامنے آئیں۔ یہ خواتین کی طرف سے قابلِ رہائش ، کاروبار کے لیے موزوں اور خوبصورت دیہی علاقوں کی تعمیر کی ایک مثال ہے۔



