25اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)جنوبی چین کے صوبے گوانگ دونگ کے شہر شان تھو میں، کھہ لی یوان تجرباتی سکول کے ایک کمرہِ جماعت میں طلبہ، ٹیبلٹس پر ریاضی کے مسائل حل کر رہے ہیں۔ یہ سافٹ ویئر صرف جوابات کے درست یا غلط ہونے کی نشاندہی نہیں کرتا ہے بلکہ بنیادی معلومات میں کہاں کمی ہے اس کی شناخت کرتے ہوئے ہر طالب علم کے لیے حسب ضرورت مواد تیار کرتا ہے۔
سپین کی قومی تحقیقاتی کونسل کے تحقیقی ادارے برائے مصنوعی ذہانت کے ڈائریکٹر اور ریسرچ پروفیسر، کارلیس سیئیررا چالیس سال سے اے آئی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور شان تھو میں انہوں نے عملی طور پر دیکھا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ ٹیکنالوجی کس طرح سے طرزِ تعلیم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسکول کے اساتذہ دیکھ سکتے ہیں کہ طلبہ نے کتنی پڑھائی کی ہے، انہیں کہاں مشکلات پیش آرہی ہیں اور کون سے موضوعات پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ کس طرح نظام، جیومیٹری کے ایک مشکل مسئلے میں موجود غلطی کو کھوج کر کئی سال پہلے سیکھے گئے ایک آسان تصور تک پہنچا اور اس کے بعد اس نے نئے مواد کو سمجھنے سے پہلے اس بنیاد کو دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد دی۔
کارلیس سیئیررا اس نظام کے پیچھے کارفرما کمپنی، سکوئرل اے آئی لرننگ کے بانی اور چیف ایجوکیشن ٹیکنالوجی سائنٹسٹ، ڈیرک حاو یانگ لی سے ملاقات کے لیے شنگھائی گئے۔ لی نے وضاحت کی کہ یہ مطابقت پذیر پلیٹ فارم، مضامین کو چھوٹے اہداف میں تقسیم کرتا ہے، کمزوریوں کا پتہ لگانے کے لیے تشخیصی سوالات کا استعمال کرتا ہے اور ہر طالب علم کی سیکھنے کی پیش رفت کی بنیاد پر مواد تجویز کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ سکھانے کے دوران سب کے لیے یکساں طریقہ کار اختیار کرنے سے گریز کیا جائے۔ زیادہ تیزی سے سیکھنے والے طالب علم کے لیے زیادہ چیلنجنگ کام دیا جا سکتا ہے جب کہ جن کے سیکھنے کی رفتار کم ہے وہ پہلے سیکھے گئے تصورات کو دہراتے ہوئے بتدریج اپنی فہم کو مضبوط کر سکتا ہے۔
یہ نظام، اساتذہ کو بڑے کمرہِ جماعت کو منظم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ صرف مشاہدے اور تجربے پر انحصار کرنے کے بجائے، وہ سیکھنے کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے یہ شناخت کر سکتے ہیں کہ کس کو مدد کی ضرورت ہے اور کہاں مداخلت سب سے زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔ شان تھو اسکول کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ اے آئی ان کی متبادل نہیں، ان کی معاون ہے۔
کارلیس سیئیررا کی نظر میں یہ فرق، مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تعلیم صرف علم فراہم کرنے کا عمل نہیں ہے۔ یہ اساتذہ اور ہم جماعتوں کے ساتھ رابطے سے تشکیل پانے والا ایک سماجی عمل بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت مسائل کی تشخیص کرنے اور ذاتی نوعیت کی مشق میں مدد فراہم کر سکتی ہے، لیکن یہ انسانی فیصلہ سازی، جذباتی معاونت یا اس تعلق کی جگہ نہیں لے سکتی جو طلبہ کی ترقی میں مدد دیتے ہیں۔



