
30نومبر 2025 کو چین کے صوبے یوننان کے شہر کھن منگ میں ،شنگھائی تعاون تنظیم کھن منگ میراتھن 2025 کا آغاز ہوا، جس میں دنیا بھر کے 20 سے زائد ممالک اور علاقوں کے 26 ہزار کھلاڑیوں نے شرکت کی۔(تصویر بشکریہ:ایس سی او کھن منگ میراتھن آرگنائزنگ کمیٹی)

مارچ 2025 میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے سول سروس ہسپتال میں، اندھے پن سے بچاو کے لیے، چائنا-نیپال "لائف لائن ایکسپریس" کے مرکز برائے تعاون کا افتتاح کیا گیا۔ یہ ایس سی او فریم ورک کے تحت صحت کے شعبے میں تعاون کا ایک اور کامیاب منصوبہ ہے۔ تصویر میں ایک مریض کی آنکھ کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔(تصویر بشکریہ:سندیش شریستھا)

یونیورسٹی تعلیم کے شعبے میں، شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ یہ رکن ممالک کی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو یکجا کرتی ہے اور شاندار صلاحیتوں کی ایک بڑی تعداد کی نشونما کرتی ہے۔ اس سے تعلیمی تعاون اور معیار میں مؤثر طور پر بہتری لائی گئی ہے۔ روس کی پیپلز فرینڈشپ یونیورسٹی، ایس سی او یونیورسٹی کے منصوبوں میں شامل ہے۔ تصویر میں یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ کیمپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔(تصویر بشکریہ:میکسم برماتوو)

کمبوڈیا کے دارالحکومت پنوم پن میں واقع لان ٹسانگ - می کھونگ ووکیشنل ایجوکیشن ، ٹریننگ سینٹر اینڈ لوبان ورکشاپ میں طالب علم برقی وائرنگ اور دیگر متعلقہ علوم سیکھ رہے ہیں ۔ چین نے ایس سی او کے متعدد شراکت دار ممالک میں لوبان ورکشاپس قائم کی ہیں، جہاں ہنرمند افراد کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ (پیپلز ڈیلی ایشیا پیسیفک سینٹر۔جون ٹیارا)

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون ایس سی او کے اہم ترین اور ترقی پذیر شعبوں میں سے ایک ہے۔ حالیہ عرصے میں ایس سی او کے متعلقہ اداروں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پائیدار ترقی کے لیے متعدد اہم کثیرجہتی دستاویزات مرتب اور منظور کی ہیں۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک شخص ،چینی ٹیک کمپنی کی بغیر ڈرائیور ٹیکسی میں سواری کا تجربہ کر رہا ہے۔(پیپلز ڈیلی سعودی عرب۔عبدالعزیز)

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے کسان چینی ساختہ سولر پینلز کے ذریعے اپنی روزمرہ زندگی اور زرعی پیداوار کے لیے بجلی حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں چین کی شمسی توانائی کی مصنوعات تیزی سے عام ہو رہی ہیں، جس سے بجلی کی فراہمی کے نظام میں تعطل اور بجلی کی زیادہ قیمتوں کے مسئلے میں نمایاں کمی آئی ہے۔(پیپلز ڈیلی پاکستان۔مہدی شاہ)

حالیہ برسوں میں کرغزستان کے متعدد مقامات پر چین اور کرغزستان، آثار قدیمہ کے حوالے سے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ تصویر میں رواں سال اگست میں کرغزستان کےکراسنایا ریچکا کے آثار قدیمہ کے مقام پر شائنشی اکیڈمی آف آرکیالوجی کے ایک ماہر (بائیں طرف) اپنے کرغز ساتھیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی۔جانگ جی وین)

ایس سی او فریم ورک کے تحت ثقافت اور سیاحت کے شعبے میں تعاون کے شاندار نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ازبکستان کے شہر سمرقند کا ریگستان اسکوائر سیاحوں کے لیے ایک اہم مقام بن چکا ہے۔(پیپلز ڈی۔چھیانگ وی)
31اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس برائے سال 2026، کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہوگا۔ اس سال تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ ہے۔ پچیس سالوں میں ایس سی او کے رکن ممالک نے ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، سیاحت اور عوامی فلاح سمیت متعدد شعبوں میں عملی تعاون کو فروغ دیا ہے، جس سے عوام کے مابین افہام و تفہیم کے پل قائم ہوئے، مختلف تہذیبوں کے باہمی تبادلے کو فروغ ملا اور قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل ہوئیں۔' شنگھائی سپرٹ' کی بنیاد باہمی اعتماد، باہمی فائدے، مساوات، مشاورت، متنوع تہذیبوں کے احترام اور مشترکہ ترقی کی تلاش پر ہے، وقت کے ساتھ ساتھ یہ جذبہ مزید اجاگر ہوتا جا رہا ہے اور انسانیت کے لیے مشترکہ اقدار کو فروغ دینے کا ایک نمونہ ہے۔



