• صفحہ اول>>تبصرہ

    شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 سال: گلوبل ساؤتھ تعاون کے لیے ایک کثیرجہتی نمونہ

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-31

    تحریر : یانگ جن ،چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ریسرچ سینٹر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل

    اپنے قیام کے 25 سالوں میں، شنگھائی تعاون تنظیم 6 بانی رکن ممالک سے ترقی کر کے آج رقبے، آبادی اور ترقی کی بے پناہ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی جامع علاقائی تعاون کی تنظیم بن چکی ہے۔ ایس سی او کی بقا اور ترقی صرف اس کے حجم میں اضافے سے نہیں ہے، بلکہ تعاون کی ایک ایسی منطق سے ہے جو طاقت کی سیاست اور کیمپوں کے تصادم سے مختلف ہے۔ یہ 'شنگھائی سپرٹ' کی بنیادی اقدار پر قائم ہے، جو باہمی اعتماد، باہمی فائدے، برابری، مشاورت، متنوع تہذیبوں کے احترام اور مشترکہ ترقی کے حصول پر زور دیتی ہے۔ بین الاقوامی نظام میں نمائندگی کی کمی، ترقیاتی خلیج اور دوہرے معیار کے پیش نظر، ایس سی او نے اتفاق رائے، کسی تیسرے فریق کے خلاف نہ ہونے اور تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھنے والے ادارہ جاتی ڈیزائن نے گلوبل ساؤتھ کے لیے زیادہ مساوی اور جامع کثیرجہتی نظام کی تلاش کا ایک بہترین نمونہ فراہم کیا ہے۔

    سلامتی کے تعاون کا نمونہ

    اس تنظیم نے فوجی اتحاد اور گروہی تصادم پر مبنی سلامتی کے ماڈل کی نقل نہیں کی، بلکہ مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور کی وکالت کی ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی، بین الاقوامی جرائم، منشیات کی سمگلنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے مشترکہ خطرات کے حوالے سے رکن ممالک نے ایک مستحکم اور مربوط میکانزم تشکیل دیا ہے۔ 2026 میں بشکیک سکیورٹی کانفرنس نے جغرافیائی سیاسی تنازعات اور سائبر حملوں جیسے نئے چیلنجز کو بھی اپنے اہم ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔ اس کا موقف یہ ہے کہ سلامتی چند ممالک کی "مطلق سلامتی" پر قائم نہیں ہو سکتی، بلکہ مشترکہ خطرات کو مکالمے اور تعاون کے ذریعے کم کیا جانا چاہیے۔

    سیاسی باہمی اعتماد اور عالمی طرز حکمرانی کا نمونہ

    رکن ممالک کے قومی حالات، نظام اور ثقافتوں میں نمایاں فرق کے باوجود، ایس سی او نے چھوٹے بڑے تمام ممالک میں مساوات کو برقرار رکھا ہے اور اتفاق رائے کے ذریعے فیصلہ سازی کو آگے بڑھایا ہے۔ "اختلافات کے باوجود ہم آہنگی کی تلاش" کی یہ ادارہ جاتی لچک ثابت کرتی ہے کہ تنوع کثیرجہتی تعاون میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے لیے، ایس سی او کا پلیٹ فارم عالمی طرز حکمرانی کے نظام میں اصلاحات کے مشترکہ مطالبات کو یکجا کرنے میں مدد دیتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کو خودمختار مساوات، ترقی کے حق اور ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی کو زیادہ اہمیت دینے پر زور دیتا ہے۔

    عملی تعاون کا نمونہ

    تنظیم کے فریم ورک کے تحت تجارت، سرمایہ کاری، روابط، توانائی اور ڈیجیٹل اکانومی جیسے شعبوں میں تعاون مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔ 2026 کے ایس سی او بزنس کونسل کے اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو گہرا کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ وزرائے توانائی کے اجلاس میں توانائی کے تحفظ، افادیت، منصفانہ منتقلی اور قابل تجدید توانائی کے تعاون پر بات چیت کی گئی۔ ایس سی او ماڈل کی اہم قدر یہ ہے کہ یہ ترقی کو ایجنڈے کے مرکز میں رکھتا ہے اور بنیادی ڈھانچے کے روابط، صنعتی تعاون اور صلاحیت سازی کے ذریعے ممالک کی ترقی کی استعداد کو بڑھاتا ہے۔

    ثقافتی اور سبز تعاون

    تہذیبی مکالمے، تعلیم، نوجوانوں، میڈیا اور تھنک ٹینکس کے میکانزم مسلسل فروغ پا رہے ہیں، جس نے "تہذیبی تنوع" کے تصور کو سماجی روابط کے نیٹ ورک میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، رکن ممالک ماحولیاتی موافقت، حیاتیاتی تنوع، کم کاربن معیشت، فاضل مواد کے انتظام، فضائی آلودگی، گلیشیئرز اور آبی وسائل کے تحفظ جیسے شعبوں میں تبادلے اور تعاون کو مضبوط کر رہے ہیں، جس نے ترقی پذیر ممالک کے لیے سبز منتقلی اور ترقیاتی ضروریات کو ہم آہنگ کرنے کے لیے تعاون کی گنجائش کو بڑھایا ہے۔

    بشکیک سربراہی اجلاس کے نئے رجحانات

    آئندہ ہونے والے بشکیک سربراہی اجلاس کے تناظر میں، ایس سی او کے "گلوبل ساؤتھ ماڈل" میں تین نئے رجحانات ابھرنے کا امکان ہے: اول، ادارہ جاتی جدیدیت میں مزید تیزی لائی جائے گی تاکہ توسیع کے بعد تنظیم کی کارکردگی اور عمل درآمد کو بہتر بنایا جا سکے۔ دوم، جامع موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا، جو روایتی سلامتی سے بڑھ کر توانائی کی منتقلی، ڈیجیٹل گورننس اور سبز ترقی جیسے نئے شعبوں تک پھیل جائیں گے۔ سوم، "ایس سی او پلس" (SCO+) جیسی کھلے تعاون کی صورتیں مزید وسعت اختیار کریں گی، جو رکن ممالک کے تعاون کو گلوبل ساؤتھ کے وسیع تر شراکت داروں کے نیٹ ورک سے جوڑیں گی۔

    25 سال کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایس سی او کی سب سے قابل تقلید چیز کوئی مخصوص ادارہ جاتی ماڈل نہیں ہے، بلکہ اختلافات سے نمٹنے، اتفاق رائے پیدا کرنے اور تعاون کو فروغ دینے کا ایک طریقہ کار ہے۔ یہ نظریے کی بنیاد پر لکیریں نہیں کھینچتا، طاقت کے بل بوتے پر بات چیت کا حق طے نہیں کرتا اور سلامتی کے لیے خصوصی اتحاد نہیں بناتا، بلکہ مشاورت کے ذریعے مشترکہ مفادات تلاش کرتا ہے، ترقی کے ذریعے امن کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے، اور شمولیت کے ذریعے طرز حکمرانی کی موثریت کو بڑھاتا ہے۔ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ بشکیک سربراہی اجلاس ، ان اصولوں کو مزید موثر میکانزم، مخصوص منصوبوں اور زیادہ کھلی شراکت داریوں میں تبدیل کرے گااور ایس سی او گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک مثالی کثیرجہتی راستہ فراہم کرتا رہے گا۔

    ویڈیوز

    زبان