
20 اگست 2026۔ ورلڈ روبوٹ کانفرنس 2026 میں انسان نما روبوٹ، لاجسٹکس-سورٹنگ اسمبلی لائنز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔(تصویر/تھانگ کھہ)
1 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)آج، ایک پروپوزل لکھنا ہو یا اپنے آن لائن سٹور میں مصنوعات کی فہرست کو اپ ڈیٹ کرنا ہو، مصنوعی ذہانت آپ کے لیے اس کام کو چند منٹ میں مکمل کر دیتی ہے۔ صرف یہی نہیں کارخانوں میں بھی انٹیلیجنٹ روبوٹ، موثر انداز میں کاموں کو سنبھال رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت ترقی کرتے ہوئے بتدریج، روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے اور صنعتی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ یہ تبدیلیاں جہاں چیلنجز لا رہی ہیں وہیں نئے مواقع بھی تخلیق کر رہی ہیں۔
عالمی اقتصادی فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق 2030 تک مصنوعی ذہانت کے باعث تقریباً 92 ملین ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں اور ساتھ ہی 170 ملین نئی آسامیاں پیدا ہونے کا امکان بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ملازمتوں کے منظرنامے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ وہ کام جو مسلسل دہرائے جاتے ہیں ان کی انجام دہی میں مصنوعی ذہانت کی معاونت بڑھتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے کچھ شعبوں کے اندر طلب میں تبدیلی آ رہی ہے تاہم، ملازمت کی تعداد اور کام کی نوعیت میں تبدیلی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ مجموعی طور پر ملازمت کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔

صوبہ آنہوئی کی ایک ٹیک فرم میں ایک کارکن، روبوٹ کو مختلف اشیا پکڑنے کی تربیت دے رہی ہیں۔(شو یونگ)
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے، موجودہ ملازمت کے ڈھانچے اور کام کرنے کے طریقے بھی ارتقا کی منازل طے کر رہے ہیں۔ اے آئی کے روایتی صنعتوں کے ساتھ انضمام سے کچھ نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جب کہ کچھ مصنوعی ذہانت خود تخلیق کر رہی ہے۔ مثلاً حال ہی میں، ایک ای کامرس پلیٹ فارم نے"اے آئی وژوئل ڈیزائنر" بھرتی کیا، جس کے لیے اے آئی ٹولز میں مہارت رکھنے والے، مواد کی تخلیق اور اسے سٹائل کے تجربات جیسے صنعتی منظرناموں میں استعمال کرنے کی مہارت رکھنے والے امیدوار تلاش کیے گئے۔ ماضی میں، ویب پیج ڈیزائن کرنے میں کئی دن لگتے تھے اب ڈیزائنرز چند گھنٹوں میں متعدد ڈیزائن تجویز کر سکتے ہیں، جس سے انہیں تخلیقی خیالات میں بہتری لانے، نئے انداز دریافت کرنے اور برینڈز کی شناخت تشکیل دینے کے لیے زیادہ وقت ملتا ہے۔
صرف یہی نہیں دیگر کئی شعبے بھی مصنوعی ذہانت سے استفادہ کر رہے ہیں، قانون کے پیشے میں مصنوعی ذہانت متعلقہ قوانین اور ضوابط کی جانچ کر سکتی ہے، مینوفیکچرنگ میں، انجینئرنگ اور ڈیجیٹل شعبوں میں مہارت رکھنے والوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ دیکھا جائے تو مصنوعی ذہانت، لوگوں کو مختلف شعبوں کی جانب منتقل ہونے، اپنے کیریئر تبدیل کرنے اور نئی مہارتیں سیکھنے کے زیادہ مواقع فراہم کر رہی ہے۔
عوامی رائے ہے کہ اے آئی صنعت کی تیز رفتار ترقی نئے پیشوں کا ایک نیا سلسلہ لا رہی ہے۔ 2019 کے بعد سے، چین کے وزارتِ انسانی وسائل و سماجی تحفظ کی جانب سے شناخت کردہ 110 نئے پیشوں میں سے 30 سے زائد، مصنوعی ذہانت سے کافی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اے آئی ٹرینرز کی ہے۔ 2025 میں صرف شنگھائی میں ہی 10,000 سے زائد لوگوں نے اے آئی ٹرینرز کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی جانچ میں حصہ لیا۔ مقامی کمرشل ایگزیکٹوز کے مطابق، موجودہ مارکیٹ کو سب سے زیادہ ضرورت، ایک سے زیادہ شعبوں میں مہارت رکھنے والے ایسے ہنر مند افراد کی ہے جو اے آئی ٹیکنالوجیز اور ان کے مخصوص صنعتی اطلاق کو سمجھتے ہوں۔ دیگر ابھرتی ہوئی ملازمتوں میں، روبوٹکس پراڈکٹ مینیجر، ڈیجیٹل ہیومن ڈیزائنر اور پرامپٹ انجینئر شامل ہیں، جو بہت سے نوجوانوں کے لیے ان کا نیا کیریئر انتخاب بنتے جا رہے ہیں۔

صوبہ سچوان کے، سچوان ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل کالج میں ایک طالب علم روبوٹ کو سرکٹ کی جانچ کے لیے تربیت فراہم کر رہا ہے۔(وینگ گوانگ جیان)
مصنوعی ذہانت نہ صرف نئی ملازمتیں پیدا کر رہی ہے بلکہ یہ کاروبار کا آغاز کرنے والوں کے لیے رکاوٹوں کو بھی کم کر رہی ہے۔ ماضی میں، ایک ڈیجیٹل پراڈکٹ تیار کرنے کے لیے اکثر ایک ٹیم، بڑی سرمایہ کاری اور کافی وقت اور وسائل درکار ہوتے تھے لیکن آج مصنوعی ذہانت سے کوڈنگ، مواد کی تخلیق اور عملی کارکردگی میں بہتری جیسے کام ایک ہی فرد خود کر سکتا ہے۔ کراس-بارڈر ای کامرس سے وابستہ کچھ افراد مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے پراڈکٹ کی کثیر لسانی نقل تیار کر رہے ہیں اور آن لائن اسٹور آپریشنز کو خودکار بنا رہے ہیں، جس سے ایک ہی شخص کا پورا کاروبار خود چلانا ممکن ہو گیا ہے۔
انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہر بڑے تکنیکی انقلاب نے لوگوں کے کام کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کیا ہے اور طلب کے نئے تقاضوں نے، نئی صنعتیں اور نئے پیشے تخلیق کیے ہیں۔ بھاپ کے انجن سے صنعتی دور کا آغاز ہوا، انٹرنیٹ نے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کو فروغ دیا اور اب مصنوعی ذہانت سے انٹیلی جنٹ اکانومی اپنے عروج کی جانب بڑھ رہی ہے۔
جیسے جیسے مواقع بڑھتے ہیں، ان کو حاصل کرنے کے لیے درکار مہارتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ملازمت تلاش کرنے والوں کے لیے، مصنوعی ذہانت ان سے کیا چھین رہی ہے کی بجائے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ سوچنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے کہ میرے کام کے کون سے حصے میں اے آئی میری مدد کر سکتی ہے؟ کون سی پیشہ ورانہ مہارتیں میری طاقت ہیں؟ آج جو بھی نئی مہارت ہم سیکھتے ہیں وہ کل کیریئر کے نئے مواقعوں سے استفادہ کرنے کی کلید بن سکتی ہے۔ اے آئی کے رجحان کا حصہ بنتے ہوئے، صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط کرتے ہوئے اور اے آئی کی کارکردگی کی صلاحیت کو تنقیدی سوچ اور ہمدردی جیسی انسانی صلاحیتوں کے ساتھ ملا کر لوگ اپنے قدم جمانے، صحیح راستہ چننے، نئے مواقع کو حاصل کرنے اور بہتر مستقبل بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔



